سکریٹری: ذکری’ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،گلری،سدھارت نگر، یوپی
اسلام میں عورتوں کا اپنا ایک مقام ومرتبہ ہے ،کاروبار حیات کی متعدد ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی طور پر ان کو اپنی تعلیمات سے نوازتے تھے ،ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانے میں خواتین لازمی توجہ کی مستحق ہیں۔
خصوصاً موجودہ دور میں جب کہ مسلم خواتین سے ان کی عزت و ناموس سلب کرنے اور ان کو اپنے مقام ومرتبہ سے گرانے کے لیے مخصوص طریقے سے یلغار کرکے ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس لیے ان خطرات سے آگاہ کرنا اور ان سے نپٹنے کے لیے راہ نجات کی نشاندھی کرنا بے حد ضروری ہے۔
امت مسلمہ کا روشن مستقبل اور اسلام کا عروج وغلبہ اس بات پر موقوف ہیں کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو ایمان و اطاعت کی فضاء میں پروان چڑھے ،تقو’ی و اخلاق فاضلہ کی حامل ہو،پاکیزگی وعفت کے جوہر سے آراستہ اور قوت وشجاعت سے بہرہ ور ہو ،اور یہ چیز اس وقت تک حاصل نھیں ہو سکتی جب تک کہ معاشرے میں ایسے مسلمان مرد و عورت نہ پیدا ہوجائیں جو صحیح معنوں میں مسلمان کہلائے جاسکیں۔
ماہ رمضان کے روزے ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہیں ،روزہ کو اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے ۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان : یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون" (البقرہ :183)۔
ایے ایمان والو : تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کو اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن قرار دیا ،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے" بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله،واقام الصلاة،وإيتاء الزكاة ،والحج،وصوم رمضان"(رواه البخاري،كتاب الإيمان ،باب دعاؤكم إيمانكم حدیث نمبر :8)۔
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔
پہلا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے آخری رسول ہیں۔
دوسرا : نماز قائم کرنا ۔
تیسرا : زکاۃ دینا۔
چوتھا:خانہ کعبہ کا حج کرنا۔
پانچواں: رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔
رمضان المبارک کے روزوں سے متعلق خواتین اسلام کے مسائل :
(01) « بیمار عورت کا حکم: بیمارعورت کی 2قسمیں ہیں :
ایک وہ بیمارعورت جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتی ہے۔ ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑیگی اتنے کا بعد میں قضا کریگی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘(البقرۃ 184)۔
دوسری وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑھے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اُن دونوں کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔‘‘(البقرۃ 184)۔
یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلاً زکام، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں۔
(02) « مسافر عورت کا حکم:
رمضان میں مسافر کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے: ’’اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘(البقرۃ 184)۔
اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافرہ حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے، اسکے بہت سارے دلائل ہیں، مثلاًایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو(نسائی)۔مسافرہ چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کریگی ۔
(03) حیض ونفاس والی عورت کے روزے کے مسائل :
حیض ونفاس والی عورت کے لئے روزہ نہ رکھنا واجب ہےلھذا اگر روزہ دار عورت کو حیض شروع ہوجائے یا نفاس کا خون آجائے یعنی زچگی ہوجائے تو اس عورت کا روزہ فسخ ہوجائے گا اور ایسی حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے اگر روزہ رکھے گی تو اس کا روزہ باطل ہوگا ۔اس لیے عورت کے لیے روزہ رکھنے کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ حیض اور نفاس سے پاک ہو۔
جیسا کہ حائضہ سے متعلق سے متعلق حدیث وارد ہے ۔" عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال :قال النبي صلى الله عليه وسلم: أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم فذلك من نقصان دينها" (رواہ البخاری،کتاب الصوم ،باب الحائض ترک الصوم والصلاۃ ،حدیث :1951)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہیں (یعنی ایسا ہے)کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے اور ان کے دین میں کمی کی یہی وجہ ہے۔
(04) چھوٹی بچی کے روزہ کا حکم:
لڑکا ہو یا لڑکی جب بالغ ہوجائے تو پھر ا س پر روزہ فرض ہوجاتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
میری امت میں سے 3 قسم (کے لوگوں) سے قلم اٹھا لیا گیاہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تک وہ ہوش میں آجائے اور سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار ہوجائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ ہو جائے(ابو داؤد)۔
لھذا جب لڑکی سن تکلیف (بلوغت کی عمر) کو پہونچ جائے بایں طور پر کہ بلوغت کی نشانیوں میں سے کوئی ایک نشانی ظاہر ہوجائے ،انھیں میں سے حیض کا آنا ہے،تو ایسی لڑکی کے حق میں روزہ واجب ہوجاتا ہے۔یاتو پندرہ سال کی ہوجائے یا شرمگاہ کے آس پاس سخت بال اگنے سے،یا نیند کے دوران انزال منی سے،یا پہلے حیض سے ،یا حاملہ قرار پانے سے جب ان علامتوں میں سے کوئی ایک علامت بہی پائی گئی تو بچی پر روزہ واجب ہوگیا چاہے اس کی عمر دس برس ہی کی کیوں نہ ہو کیونکہ بہت سی بچیوں کو دس گیارہ سال کی عمر میں ہی حیض کا خون آجاتا ہے ۔
(خواتین اور رمضان المبارک,ص: 45)
بعض بچیوں کو بلوغت کی عمر میں ہی حیض شروع ہوجاتا ہے لیکن انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ حیض شروع ہوجانے کے بعد روزہ اس پر واجب ہوجاتا ہے ،چنانچہ وہ اپنے آپ کو کم عمر سمجھ کر روزہ نھیں رکھتی اور نہ ہی اس کے اہل خاندان اسے روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ یہ عمل اسلام کے ایک اہم اور عظیم رکن کو ترک کر کے زبردست تساہلی اور سستی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کسی عورت سے اس قسم کی کوتاہی کا صدور ہوا ہو تو اس پر ان تمام روزوں کی قضاء ضروری ہے جسے اس نے ابتدائے حیض میں ترک کیا تھا ،خواہ اس پر ایک لمبی مدت گزر گئی ہو کیونکہ یہ تمام روزے اس کے ذمہ باقی ہیں۔
بعض علماء نے روزہ کیلئے بچوں کی مناسب عمر10 سال بتائی ہے کیونکہ حدیث میں10 سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے۔
روزہ کے شرائط وجوب میں سے یہ ہے کہ مسلمان ہو ،عاقل ہو،بالغ ہو اور روزہ رکھنے پر قادر ہو ۔ایسی شرائط جو روزہ واجب ہونے کے لیے ضروری ہےاور روزہ کی صحت کے لئے بھی ضروری یہ ہے کہ نیت کرنا،حیض ونفاس سے پاک ہونامسلمان ہونا اور عاقل ہونا۔
(الفقہ الاسلامی وادلتہ ج/3،ص:1684).
(05) نفاس والی عورت کے روزے کا حکم :
نفاس کی اکثر مدت ابتداء ولادت یا اس سے دو یا تین دن پہلے سے چالیس دن ہے۔
دلیل حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے فرماتی ہیں کہ "كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعين يوماً"
)رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء في كم تمكث النفساء،حديث:139)
نفاس والی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن نفاس کی مدت میں بیٹھا کرتی تھیں۔
اور اس کے اقل مدت کی کوئی حد نہیں ہے،کیونکہ اس سلسلے میں کوئی حد وارد نہیں ہوئی ہے اور اگر چالیس دن مکمل ہوجائے اور خون کا آنا بند نہ ہو تو اگر یہ حیض کی سابقہ عادت کے مطابق ہو تو اسے حیض مانا جائے گا ورنہ اسے استحاضہ کا خون تصور کیا جائے گا۔
اور جب نفاس والی عورتیں چالیس دن سے قبل پاک ہوجائیں تو ان پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا واجب ہے اور اگر چالیس دنوں کے اندر خون دوبارہ آنا شروع ہوجائے تو اس پر روزہ چھوڑنا واجب ہوگا۔
(فتاویٰ برائے خواتین ،ص:92)
اگر حیض والی عورت کو رمضان المبارک کے دن میں خون کے معمولی قطرے نظر آئیں تو اس حالت میں روزہ رکھنا صحیح ہے اور اور خون کے قطرات کا کوئی اعتبار نہیں۔
(خواتین کے مخصوص مسائل،ص:22)
اور اگر ولادت سے ایک یا دو دن پہلے درد زہ کے ساتھ خون آئے تو یہ نفاس کا خون ہوگا اور عورت نماز وروزہ ترک کردے گی لیکن اگر خون بنا درد کے آرہا ہے تو یہ بیماری کا خون ہے۔اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
(خواتین کے مخصوص مسائل،ص:29)
(06) حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزوں کے مسائل :
دودھ پلانے والی عورت کا بچہ جب تک کھانے پینے نہ لگ جائے تو اس پر روزہ واجب نہیں۔ایسے ہی حاملہ جب تک ولادت نہ ہوجائے تو اس پر روزہ واجب نہیں ہوتا۔
حاملہ عورت کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے بشرطیکہ اپنی یا اپنے بچے کی مضرت کا خوف ہو یا ایک ساتھ دونوں کو نقصان کا خوف ہو یا عقل میں فطور آجانے کا اندیشہ ہو مثلاً اگر حاملہ عورت کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے سے خود اپنی اپنی دماغی وجسمانی کمزوری انتہا کو پہونچ جائے گی یا ہونے والا بچہ کی زندگی اور صحت پر اس کا برا اثر پڑے گا یا خود کسی بیماری وہلاکت میں مبتلا ہو جائے گی تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ قضاء کرے ۔
اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کو بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ وہ بچہ اسی کا ہو یا کسی دوسرے کے بچے کو بااجرت یا مفت دودھ پلاتی ہو بشرطیکہ اپنی صحت وتندرستی کی خرابی یا بچے کی مضرت کا خوف ہو ،جن لوگوں نے یہ کہا کہ اس سے دودھ پلانے والی صرف دائیہ ہی مراد ہے غلط ہے ،کیونکہ حدیث میں مطلقاً دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے چاہے وہ ماں ہو یا دائیہ ۔
حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کیلئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہو جا ئے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء 40 دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔
عورت کیلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے۔
حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا بلکہ روزہ جاری رکھناہے۔
مرضعہ وحاملہ کا حکم:
دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کیلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ بلاضرورت روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔
نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے:
عن أنس بن مالك الكعبي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحبلىى’ والمرضع الصوم "
( أخرجه النسائي ،كتاب الصوم ،باب وضع الصيام عن الحبلى والمرضع الحديث :2317).
اللہ تعالیٰ نے مسافر کیلئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانیوالی کو روزے معاف فرما دی۔
جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اسکی قضا کرے،حاملہ و مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ۔
حاملہ اور مرضعہ دودھ پلانے والی عورت کے سلسلے میں چاروں مسالک کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ حاملہ پیٹ سے ہونےوالی عورت یا دودھ پلانے والی عورت کو نقصان کا خوف ہوتو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ یہ خوف دونوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہو یا اپنے آپ کو یا صرف بچے کو ہر حالت میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔
(ملخص فقہ النساء،ص:278)
حالت حیض میں روزے کی ممانعت کا راز کیا ہے؟
حیض کی وجہ سے آنے والے خون میں خون کا نکلنا پایا جاتا ہے جبکہ حائضہ کے لئے ممکن ہے کہ حیض کے ان اوقات کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھے جن میں خون کا نکلنا نھیں پایا جاتا ہے لھذا ایسی صورت میں اس کا روزہ رکھنا معتدل ہوگا کیونکہ اس میں جسم کو تقویت پہونچانے والے بلکہ جسم کے اصل مادے کا نکلنا نہیں پایا جاتا ہے حالت حیض میں روزہ رکھنے سے وجوبی طور پر لازم آئے گا کہ جسم کا اصل مادہ بھی خارج ہو جو اس کے جسم کی کمی اور خود اس کے ضعف کا سبب بنتا ہے،اور ساتھ ہی روزے کا حد اعتدال سے بھی خروج لازم آئے گا ۔خواتین کو اسی بنا پر اوقات حیض کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(خواتین کے مخصوص مسائل,ص:108)۔
غیر ایام حیض میں آنے والے خون کا حکم :
وہ خون جو عادت سے زائد حیض کے دنوں کے علاوہ جاری رہتا ہے وہ رگ کا خون ہوتا ہے اسکو حیض کا خون شمار نہیں کیا جا ئے گا جو عورت اپنے خون کے دنوں کو جانتی ہے اس میں صرف اتنے ہی دنوں کو حیض کا دن شمار کرے گی اور اس میں روزہ نہ رکھے گی اور اس کے بعد جو خون یا زردی یا گدلاپن نظر آئے اس کے لیے مستحاضہ عورتوں کے احکام ثابت ہوں گے اور نماز روزہ کرے گی۔
اور اگر کسی عورت کو چھ یا سات دن حیض آتا ہے تو اگر کبھی خلاف عادت ایک یا دو مرتبہ اس مدت سے زیادہ آنے لگے ،جیسے سات کے بجائے آٹھ ،نو،دس،گیارہ دن ہوجائے تو ان تمام دنوں کو حیض کا دن شمار کرے گی اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کی کوئی معین مدت مقرر نہیں فرمائی ،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " ویسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض ولا تقربوا هن حتى يطهرن"(سورة البقرة:222)
آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
تو جب خون باقی رہے گا عورت پر حیض ہی کے احکام نافذ ہوں گے۔ (فتاویٰ اسلامیہ ج:01،ص:325)۔
اور اگر غسل حیض کے بعد عورت کو دوبارہ خون آجائے تو اگر آنے والا خون زرد یا خاکستری رنگ کا ہو تو وہ غیر معتبر ہوگا اس کا حکم محض پیشاب کا سا ہے ۔
لیکن اگر وہ خالص خون ہے تو اسے حیض ہی کا حصہ سمجھا جائے گا اس صورت میں عورت پر دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا صحابیات میں سے ہیں فرماتی ہیں " کنا لا نعد الصفرۃ والکدرۃ بعد الطھر شیئا" ( رواہ البخاری ،کتاب الحیض،باب الصفرۃوالکدرۃ فی غیر ایام حیض ،حدیث نمبر :326)
طہارت کے بعد آنے والے پیلے یا مٹیالے رنگ کے مادہ کو ہم کچھ شمار نہیں کرتے تھے ۔
اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی عادت اور معمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں ،مثلا سیاہ ،گاڑھا اور بدبودار ہو تو حیض ہے اس میں نماز روزہ چھوڑ دے گی ،اگر وہ سرخ ہو اور وہ گاڑھا اور بدبودار نہ ہو تو اس صورت میں وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔جس میں نماز روزہ نہ چھوڑے گی ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش کو فرمایا تھا " إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكى عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئ وصلى " (أخرجه النسائي ،كتاب الطهارة ،باب الفرق بين دم الحيض والإستحاضة ،216)۔
جب حیض کا خون آئے تو سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے جب یہ ہو تو نماز پڑھنے سے رک جا اور جب اسکے علاوہ دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ ۔
جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض اور استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہو تو وہ گمان کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام حیض اسی قدر ہوتے ہیں۔
(فقہی احکام ومسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں ج/1،ص:75)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا" إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضى ستة أيام و سبعة أيام في علم الله ثم اغتسلى ،فإذا رأيت أنك قد طهرت واستنقات فصلى أربعا وعشرين ليلة أو ثلثا وعشرين ليلة وأيامها وصومى وصلى فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء"(رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء فى المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد ،حديث نمبر : 128)
استحاضہ کا خون آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لو ،پھر غسل کرلو اور جب تو اچھی طرح سے پاک و صاف ہوجائے تو مہینے میں چوبیس یا تیئیس دن تک روزہ رکھ اور نماز پڑھ تیرے لیے یہی کافی ہے اور اسی طرح کر کہ جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں ۔
اور اگر کوئی عورت اپنے حیض کے مقرر عادت کو بھول جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ یاد کرے کہ کتنے دن ماہ سابق میں حیض آیا تھا جتنے دن غالب گمان سے حیض یاد آئے اتنے دنوں تک اپنے کو حائضہ عورت شمار کرے اور جتنے دن غالب گمان سے طھر یاد آئے اسی قدر طاھر سمجھے۔
اور جس عورت کے حیض کے دن مقرر نہ ہوں اور نہ وہ خون میں فرق و تمیز کرسکتی ہو تو اس کے ایام حیض چھ یا سات قرار پائیں گے۔
(فقہی احکام ومسائل ج/01،ص: 76)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں " علماء کرام کے اقوال کے مطابق جن علامات سے حیض کے خون کی تعیین ہوسکتی ہے وہ چھ ہیں ۔
ان میں سے ایک علامت عادت ہے ،عادت ومعمول سب سے قوی علامت ہے کیونکہ اصل یہ ہے کہ جب تک یہ تعیین نہ ہوجائے کہ حیض ختم ہوچکا ہے تو جاری خون کو حیض ہی سمجھا جائے گا۔
دوسری علامت تمیز ہے ،سیاہ ،گاڑھے اور بدبودار خون کو حیض کا خون کہنا سرخ اور پتلے خون سے زیادہ مناسب ہے۔
تیسری علامت عورتوں کی غالب اور عام عادت ہے ،یہ تین علامات ایسی ہیں جو سنت اور قیاس سے ثابت ہوتی ہیں پھر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بقیہ تین علامتوں کا تذکرہ کیا اور اخیر میں فرمایا: سب سے درست اور مناسب قول یہ ہے کہ ان علامات کا اعتبار اور لحاظ کیا جائے جن کے بارے میں سنت نے وضاحت کردی اور باقی سب نظر انداز کرنے کے قابل ہیں۔
(فقہی احکام ومسائل ج/01،ص: 76)
(07) مستحاضہ عورت پر روزہ رکھنا واجب ہے۔:
مستحاضہ جس عورت کو ایسا خون آرہا ہے جسے حیض کا خون نہیں کہا جا سکتا اس پر روزہ فرض ہے اس کے لیے افطار روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے اس لیے استحاضہ کا خون تمام اوقات میں آتا ہے اس کا کوئی مخصوص و متعین وقت نہیں ہے کہ اس کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا اسے حکم دیا جائے اس سے بچنا بھی ناممکن میں سے ہے ،جس طرح ازخود قے آنا ،زخم اور پھوڑوں کی وجہ سے خون کا نکلنا اور احتلام وغیرہ ہیں ،ان کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا ہے کہ ان سے احتراز کیا جائے ۔
لہذا یہ تمام امور روزہ کے منافی نہیں قرار دیے جائیں گے جس طرح حیض کا خون قرار دیا گیا ہے۔استحاضہ کا خون بیماری کے سبب خارج ہوتا ہے۔
(مجموع الفتاوی،ج:25،ص:251).
مستحاضہ کے معاملے میں اشکال یہ ہوتا ہے کیونکہ کبھی حیض کا خون استحاضہ کے مشابہ ہوتا ہے ،جس وقت خون مسلسل یا اکثر اوقات میں خارج ہو تو کیا اسے حیض سمجھے گی یا اسے استحاضہ قرار دے گی جس کی وجہ سے نماز وروزہ نہ چھوڑےگی ۔
مستحاضہ کے احکام پاک عورتوں والے ہیں ان عورتوں کی تین حالتیں ہیں۔
(1) اگر کسی عورت کو پہلی مرتبہ استحاضہ کا خون آیا اور اس کے حیض کے ایام مقرر ہیں مثلاً اسے ہر مہینے کے شروع یا درمیان میں پانچ یا آٹھ دن حیض آتا ہے تو یہ مقررہ دن اس کے ایام حیض شمار ہوں گے،ان میں نماز ،روزہ ،چھوڑ دے گی اور اس پر حیض کے دیگر تمام احکام جاری ہوں گے۔
جب اس کی عادت اور معمول کے مطابق ایام حیض پورے ہوجائیں گے تو وہ غسل کرکے نماز ادا کرے گی اور بقیہ خون " استحاضہ" شمار ہوگا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "أمكثى قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلى وصلى " (رواه مسلم،كتاب الحيض،باب المستحاضة وغسلهاوصلاتها ،حديث نمبر:334)
تو جتنا حیض کی وجہ سے رکا کرتی تھی اتنے دنوں تک رک جا پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت جحش سے فرمایا : " إنما ذلك عرق وليس بحيض فإذا أقبلت حيضتك فدعى الصلاة"
(رواه البخاري ،كتاب الوضوء،باب غسل الدم ،حديث نمبر :228).
استحاضہ ایک رگ کا خون ہے حیض نہیں جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے ۔
(2) اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی عادت اور معمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں ،مثلا سیاہ ،گاڑھا اور بدبودار ہو تو حیض ہے ۔
اس میں نماز چھوڑ دے گی ،اگر وہ سرخ اور گاڑھا بدبودار نہ ہو تو اس صورت میں وہ استحاضہ کا خون ہوگا ،جس میں نماز روزہ نہ چھوڑے گی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش کو فرمایا تھا " إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكى عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئ وصلى " (أخرجه النسائي ،كتاب الطهارة ،باب الفرق بين دم الحيض والإستحاضة ،216 ،سنن أبی داود ،کتاب الطھارۃ ،باب من قال تو ضا لکل صلاۃ ،حدیث نمبر : 304،وصحیح ابن حبان ،کتاب الطھارۃ ،باب الحیض والاستحاضۃ،ج/2 ص: 218حدیث نمبر :1345)۔
جب حیض کا خون آئے تو سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے جب یہ ہو تو نماز پڑھنے سے رک جا اور جب اسکے علاوہ دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ ۔
(3) جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض و استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہو تو وہ غالب گمان کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض کے ایام سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام اسی قدر ہوتے ہیں ۔
چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدۃ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
" إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضى ستة أيام و سبعة أيام في علم الله ثم اغتسلى ،فإذا رأيت أنك قد طهرت واستنقات فصلى أربعا وعشرين ليلة أو ثلثا وعشرين ليلة وأيامها وصومى وصلى فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء"(رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء فى المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد ،حديث نمبر : 128)
استحاضہ کا خون آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لو ،پھر غسل کرلو اور جب تو اچھی طرح سے پاک و صاف ہوجائے تو مہینے میں چوبیس یا تیئیس دن تک روزہ رکھ اور نماز پڑھ تیرے لیے یہی کافی ہے اور اسی طرح کر کہ جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں ۔
( رواہ الترمذی ،کتاب الطہارۃ ،باب ماجاء فی المستحاضۃ أنھا بین الصلا تین بغسل واحد".
مستحاضہ عورت کا حکم :-
پہلی چیز جب اس کے غالب گمان کے مطابق حیض کے ایام پورے ہوجائیں تو وہ غسل کریے۔
دوسری چیز ہر نمازکے وقت استنجا ء کرے فرج سے نکلنے والی آلا ئشوں اور نجاستوں کو صاف کرے اور انھیں روکنے کے لئے شرمگاہ میں روئی کا استعمال کرے ۔مناسب کہ انڈر ویئر پہن لے تاکہ روئی گر نہ سکے ۔
(3) ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مستحاضہ عورت کے بارے میں فرمایا : "تدع الصلاة أقرائها التى كانت تحيض فيها ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة "
(سنن ابي داود،كتاب الطهارة ،باب من قال تغسل من طهر )
وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے ،جب حیض بند ہوجائے تو غسل کرے اور پہر ہر نماز کے لیے وضوء کرے ۔
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انعت لک الکرسف فانہ یذ ب الدم "
( رواہ الترمذی،کتاب الطہارۃ،باب ماجاء فی المستحاضۃ أنھا تجمع بین الصلاۃ بغسل واحد ،حدیث نمبر:118)۔
میرا مشورہ ہے کہ روئی استعمال کرے کیونکہ وہ خون بند کردے گی ۔
اور آج کے زمانے میں پائے جانے والے طبی اشیاء مثلاً کیئرفری (Carefree) کا استعمال بھی ممکن ہے۔
جب عورت پچاس سال کی عمر کو پہونچ جائے یا اس کی ماہانہ عادت بے قاعدہ ہوجائے تو اس سے حیض اور حمل کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ۔
نیز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے یہی بات معلوم ہوتی ہے ۔خون کا بے قاعدہ ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ حیض کا خون نہیں ہے ،یہ خون استحاضہ کے خون کا حکم رکھتا ہے جو کہ عورت کے لیے نماز اور روزہ سے مانع نہیں ہے اور نہ ہی اس دوران جماع کرنے میں خاوند کے لیے کوئی رکاوٹ ہے ۔
(فتاویٰ برائے خواتین ،ص: 93)
(08)« قصدا ًروزہ توڑنے والی عورت کا حکم:
رمضان میں بغیر عذر کے قصدا ًروزہ چھوڑنے والی عورت گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ اسے اولاً اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور جو روزہ چھوڑی ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتی ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل 2مہینے کا روزہ رکھنا یا60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے۔
(09) بے نمازی عورت کے روزے کا حکم:
جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نبی ﷺ فرمان ہے:ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا(ترمذی)۔
اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائیگاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے۔
اللہ تعالی رمضان کے برکات وحسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری مغفرت و نجات کا ذریعہ بنادے اور تمام خواتین کو کتاب وسنت کے مطابق مسائل کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا،آمین ۔
(جاری)
afrozgulri
Follow us on WhatsApp:
7379499848
25/04/2020
11:55 pm
