ایودھیا میں اراضی کے ٹکڑے ہرگز ہونے نہیں دیں گے ، جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ لاکھوں بھکتوںکا عہد
ایودھیا ۔ /25 نومبر ۔رام مندر کے لئے پوری زمین لے کر رہیں گے ۔ ہم ایودھیا میں اراضی کے ٹکڑے ہرگز ہونے نہیں دیں گے کے عہد کے ساتھ لاکھوں رام بھکتوں نے وی ایچ پی کی دھرم سبھا میں شرکت کی ۔ وی ایچ پی کے سینئر لیڈر چمپت رائے نے اعلان کیا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے متنازعہ اراضی کو تقسیم کرنے کا فارمولہ ناقابل قبول ہے اور نہ ہی اس جگہ پر جس کو قبضہ کیا گیا تھا نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ لاکھوں بھکتوں نے وی ایچ پی کے دھرم سبھا میں شرکت کی ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وی ایچ پی کے انٹرنیشنل جنرل سکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ رام مندر کا معاملہ ہمارے دل کے اندر پیوست ہوچکا ہے ۔ پولیس ہمارے ساتھ ہے ۔ چمپت رائے نے اگرچیکہ اراضی کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کا کوئی حوالہ نہیں دیا ۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے ایودھیا میں متنازعہ اراضی کے تعلق سے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ایودھیا کی اراضی کو 3 حصوں میں ہندو¶ں ، مسلمانوں اور اس جگہ کو جہاں رام کا عارضی مندر موجود ہے ہندو¶ں سے تعلق رکھتی ہے تقسیم کیا جائے ۔ ایک علحدہ فیصلہ میں اس 60 سالہ حساس مسئلہ پر جسٹس ایس یو خاں اور سدھیر اگروال نے کہا تھا کہ بابری مسجد کے 3 گنبدوں کے وسط میں واقع علاقہ جہاں بھگوان رام کی مورتی موجود ہے ہندو¶ں سے تعلق رکھتی ہے ۔ وی ایچ پی لیڈر چمپت رائے نے مزید کہا کہ رام مندر کی تعمیر میں تاخیر اچھی علامت نہیں ہے ۔ اتوار کی صبح قطار بنائے لاکھوں افراد رام مندر کی تعمیر کے لئے زور دیتے ہوئے دھرم سبھا میں شرکت کررہے تھے ۔ 1992 ءمیں کارسیوا کے بعد سے ایودھیا رام بھکتوں کا یہ سب سے بڑا ہجوم تھا ۔ وی ایچ پی نے دعویٰ کیا کہ اس جلسہ سے سنتوں اور پنڈتوں کے بشمول تقریباً 3 لاکھ افراد شریک تھے ۔ یہ جلسہ متنازعہ رام جنم بھومی نیاس کی جانب سے چلائے جارہے ورکشاپ سے تھوڑی ہی دور منعقد ہوا ۔ اس کثیر اجتماع کی وجہ سے مقامی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ۔ یہ دھرم سبھا 10 ویں صدی کی بابری مسجد کے انہدام کی 26 ویں برسی سے صرف دو ہفتے قبل ہی منعقد کی گئی ۔ وی ایچ پی نے اس دھرم سبھا میں مسلمانوں سے کہا کہ وہ رام مندر کے لئے یہ اراضی حوالے کردیں ۔ قبضہ کرکے بابری مسجد بنانے کے مقام پر ہم نماز پڑھنے کو قبول نہیں کریں گے ۔ وی ایچ پی نے ایودھیا کے علاوہ کاشی ، متھرا اور دیگر مندروں کے تعلق سے بھی آرڈیننس لانے کے لئے بی جے پی پر زور دیا ۔ وشواہندو پریشد کی دھرم سبھا نے رام مندر کی تعمیر کے لئے ایک قرارداد منظور کی لیکن حکومت سے آرڈیننس لانے کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ کوئی مہلت دی گئی ۔ اس مقام پر سکیورٹی کے ساتھ انٹلیجنس ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔ آر ایس ایس کے کرشنا گوپال نے کہا کہ ہندو چاہتے ہیں کہ ایودھیا کے ساتھ کاشی اور متھرا کے مندروں کو بھی حوالہ کیا جائے ۔