نئی دہلی‘ 17ستمبر(یو این آئی) ”ہے رام کے وجود پر ہندوستاں کو ناز۔۔ اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند“ سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع پر سماعت کے آج 25ویں دن سماعت کے دوران مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا۔
مسٹر دھون نے کہا کہ بھگوان رام کی بزرگی پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس بات پر بھی اختلاف نہیں ہے کہ بھگوان رام کا جنم اجودھیا میں کہیں ہوا تھا لیکن اس طرح کی بزرگی،کسی مقام کو ایک قانونی شخصیت میں تبدیل کرنے کا متبادل کب ہوگیا؟“سماعت کے دوران مسٹر دھون نے علامہ اقبال کے مذکورہ شعر کا ذکر کرکے رام کو امام ہند بتاتے ہوئے ان پر ناز کرنے کی بات کہی۔ مسٹر دھون نے دلیل دی کہ ’جنم استھان‘ ایک شخص نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جنم اشٹمی بھگوان کرشن کے جنم دن کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن کرشن ’قانونی شخصیت‘ نہیں ہیں۔شیعہ وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر دھون نے دلیل دی کہ بابری مسجد وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ کا اس پر حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے باہر کا رام چبوترہ 1885کے بعد ہی رام جنم استھان کے طورپر مشہور ہوا۔
سماعت کے دوران مسٹر دھون نے علامہ اقبال کے مذکورہ شعر کا ذکر کرکے رام کو امام ہند بتاتے ہوئے ان پر ناز کرنے کی بات کہی۔ مسٹر دھون نے دلیل دی کہ ’جنم استھان‘ ایک شخص نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جنم اشٹمی بھگوان کرشن کے جنم دن کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن کرشن ’قانونی شخصیت‘ نہیں ہیں۔شیعہ وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر دھون نے دلیل دی کہ بابری مسجد وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ کا اس پر حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے باہر کا رام چبوترہ 1885کے بعد ہی رام جنم استھان کے طورپر مشہور ہوا۔