لکھنؤ:17 ستمبر(یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) راجستھان کے کل 6 اراکین اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلینے کے بعد پارٹی سپریمو مایاوتی نے منگل کو اپنے تلخ تبصرے میں کانگریس کو ’ناقابل اعتماد‘ قرار دیتے ہوئے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا۔
محترمہ ماوتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا’’ بی ایس پی اراکین کو توڑ کر کانگریس نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک ایسی پارٹی ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کے ذریعہ راجستھان میں کانگریس حکومت کو غیر مشروط حمایت دینے کے باجود کانگریس نے ہمارے اعتماد کا خون ہے۔
بی ایس پی نے کہا کہ’’اپنے کٹر حریف سے مقابلے کے بجائے کانگریس مسلسل ایسی پارٹیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جنہوں نے اس کا تعاون کیا اور اسے حمایت دی۔اس نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کانگریس دلت، ایس سی/ایس ٹی اور او بی سی کے مخالف ہے اور ان طبقات کے مفادات سے اسے کچھ بھی نہیں لینا دینا ہے۔بی ایس پی سپریمو نے ملک کی سب سے قدیم پارٹی پر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک کے پہلے وزیر قانون کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا‘۔کانگریس کبھی نہیں چاہتی تھی کہ بابا صاحب پارلیمنٹ میں جائیں اور نہ ہی اس نے بابا صاحب کو بھارت رتن ایوارڈ دیا۔یہ کافی شرمناک اور مایوس کن ہے۔پیر کی رات بی ایس پی کے 6 اراکین اسمبلی نے راجستھان اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کو کانگریس میں شمولیت کے بارے میں آگاہ کیا۔اسمبلی اسپیکر کے نام اپنی تحریر میں راجیندر سنگھ گدھا، جوگیندر سنگھ اوانا، واجب علی، لکھن سنگھ مینا، سندیپ یادو اور دیپ چند یادو نے لکھا کہ ان لوگوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔