نئی دہلی ۔( پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں وزرات داخلہ کے حالیہ نوٹیفکیشن جس میں 10خفیہ ایجنسیوں کسی بھی شہری کے کمپیوٹر کی نگرانی اور اس میں موجود موادحاصل کرنے کا اختیار دیا ہے اس نوٹیفکیشن پر اپنا سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک کی جمہوری اور پارلیمانی نظام میں یقین نہیں رکھتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تعلق سے وزرات داخلہ نے یہ غلط بہانہ بھی پیش کیا ہے کہ سال 2012میں اس وقت کی یو پی اے حکومت کی طرف سے منظور کردہ 2009میں بنائے گئے ایکٹ میں اضافہ ہے۔اگر یہ سچ ہے تو پھر کیوں ملک کے ہر شہری کے موبائل فون اور کمپیوٹرس کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو اصل ایکٹ میں شامل نہیں ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ ملک ایک ایمرجنسی کی صورتحال سے بھی بدترین دور سے گذررہا ہے کیونکہ صرف ایک معمولی نوٹیفکیشن کے ذریعے بعض حکومتی ایجنسیوں کو ملک کے تمام شہریوں پر جاسوسی کرنے کااختیار دیا گیا ہے۔
یہ عالمی سطح پر ذاتی رازداری کے حقوق کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں رازداری کے حق کو بنیادی حق بتایا گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسی حکومت جس کی میعاد میں ابھی صرف تین ماہ باقی ہیں وہ پارلیمنٹ کی مدد سے ایک ایسا فرمان جاری کررہی ہے جس سے پورے ملک کے شہریوں کے پرائیویسی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
ایس ڈی پی آئی قومی صدرا یم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کامقصد واضح طور پر اپوزیشن لیڈران اور سول سوسائٹی کے افراد پر جاسوسی کرنا ہے جو حکومت کی بدعنوانیوں اور عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔حال ہی میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شدید شکست کا سامنا کرنے بعد آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بھی واضح شکست کے احساس ہونے کے بعد بی جے پی کسی بھی طریقے کی غیر اخلاقی،غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقوں سے انتخابات میں جیتنا چاہتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس نوٹفیکشن کو پہلے سے ہی موجود کالے قوانین جیسے UAPA، MCOCA،GJOCAوغیرہ میں اضافہ قرار دیا ہے۔ایس ڈی پی آئی نے ہمیشہ سے اس طرح کے قوانین کی مخالفت کی ہے۔چاہے وہ قوانین یوپی اے حکومت کی طرف سے یا موجودہ این ڈی اے حکومت کی طرف سے لائی گئی ہوں کیونکہ اس طرح کے قوانین لوگوں کی حاکمیت کو ختم کرنے کیلئے خو د مختار ریاست کے ہاتھوں ایک آلہ ہے۔اس طرح کے قوانین واضح طور پر پولیس ریاست کیلے راستے ہموار کرتی ہیں۔ایم کے فیضی نے اس بات پر تعجب کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن بینچوں نے پارلیمنٹ میں صرف ایک علامتی مظاہرہ کیا ہے اور اس طرح کے خطرناک قوانین کے خلاف سڑکوں پر کیوں نہیں اتری ہے؟۔