شہر کے اہم۔بازار تین بتی علاقے میں لگنے ہفت روزہ منگل بازار کے بند ہونے سے ہزاروں لوگ بے روزگار
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی کے معروف منگل بازار کو بند ہوئے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی کارپوریشن کی جانب سے اس کے متبادل کی طور پر کوئی نئی پالیسی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے اسلیے منگل بازار سے جڑے سیکڑوں چھوٹے دکانداروں نے آج کارپوریشن کے سامنے منگل بازار ویپاری سنگھٹنا کی خاتون صدر ریحانہ ہلال انصاری کی قیادت میں یک روزہ دھرنا آندولن کیا اور اپنی مانگیں کارپوریشن حکام کے سامنے رکھی۔منگل بازار ویپاری سنگھٹنا کے پلیٹ فارم تلے سیکڑوں تاجروں نے اپنا احتجاج درج کیا ان کی مانگیں تھی کہ جب تک منگل بازار کے متبادل کی طور پر کوئی نئی جگہ دستیاب نہیں ہو جاتی تب تک منگل بازار کو اسی طرح جاری رکھا جائے ،
سنگھٹنا کے مطابق ۳۵ سالوں سے جاری اس بازار کے خلاف آج تک عوام نے کبھی احتجاج بلند نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی عوامی نمائدے نے کبھی دھرنا آندولن کیا ہو پھر اچانک یہ بازار بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، احتجاج کرنے والوں کے مطابق چونکہ بھیونڈی میں زبردست مندی کا دور ہے ایسے میں منگل بازار کو بند کرکے لوگوں کے لیے اور بھی دشواریاں پیدا کی گئی ہے اور شہر کو مزید کساد بازاری میں مبتلا کر دیا گیا ہے،
اس بازار سے سیکڑوں لوگوں کے کاروبار جڑے تھے جو کہ بے روزگار ہوچکے ہیں۔اس بازار میں آج سستے داموں میں اچھی اور مناسب چیزیں مل جایا کرتی تھی جو کہ بھیونڈی کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے بری سہولت کی بات تھی ، مگر یہ بازار بند ہوجانے کی وجہ سے سستی چیزیں لوگوں کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں،چونکہ منگل بازار شہر کے بلکل وسط میں واقع ہے اور شہر میں کہیں سے بھی عوام صرف ۱۰ روپئے میں یہاں پہنچ جایا کرتی تھی، مگر اب بازار کے شہر کے ایک کونے میں کھلنے کی خبر سے لوگوں میں تشویش کا ماحول ہے۔اس بازار میں لگنے والی سیکڑوں دکانوں کے کرایہ سے کارپوریشن کو آمدنی ہوتی تھی اب یہ آمدنی بھی رک گئی ہے جس سے کارپوریشن کی اقتصادی کے بگڑنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔منگل بازار کے سبب آس پاس کے دکاندار ،رکشا والے اور دیگر لوگوں کو سہولت ہوتھی مگراب تمام لوگ اس سہولت سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اسلیے سنگھٹنا نے کارپوریشن پر احتجاج کے زریعے دباؤ بنایا ہے کہ جب تک منگل بازار کی طرز پر کسی بازار کا دائمی بندوبست نہیں ہو جاتا تب تک عارضی طور پر اس بازار کو دوبارا اسی مقام پر شروع کیا جائے۔
اس موقع پر خاتون صدر ریحانہ انصاری کہا کے اس ضمن میں کئی بار کارپوریشن انتظامیہ کے ساتھ سنگھٹنا کی طرف سے خط و کتابت کر غریبوں اور بے روزگاروں کی مجبوری کو دیکھتے منگل بازار کو دوبارہ شروع کرنے کی مانگ اٹھاتی جاتی رہی ۔ لیکن انتظامیہ کے کچھ اعلی افسران اور بڑے دکانداروں اور سیاسی لیڈران کے اشارے پر بازار کو شروع کرنے پر عدم توجہی برتی جارہی ہیں ۔ انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کے اگر ایک ہفتے کے اندر بازار دوبارہ شروع نہیں کیا گیا تو کارپوریشن کے سامنے بے مدت بھوک ہڑتال شروع کی جائے گئی ۔ اس موقع پر طفیل فاروقی ، اقبال صدیقی ، احمد صدیقی ، حلیم انصاری ، فراز بابا ، طلحہ مومن ، شاہد لوا ، مجاہد انصاری ، دین محمد خان ، حمید انصاری ، شاداب عثمانی، رام لہارے ، شمیر انصاری، نسیم بابا ، صعود انصاری کے علاوہ سیکڑوں متاثر دکاندار موجود تھے ۔