رابوڑی تھانے میں تزک و احتشام سے دوسرا جلوس چشتیہ نکالا گیا ع رس خواجہ غریب نواز کے موقع پر محلوں محلوں میں کھیر بناکر تقسیم کی گئی

رابوڑی تھانے میں تزک و احتشام سے دوسرا جلوس چشتیہ نکالا گیا
عرس خواجہ غریب نواز کے موقع پر محلوں محلوں میں کھیر بناکر تقسیم کی گئی
تھانے (آفتاب شیخ)
گزشتہ سال کی طرح امسال بھی رابوڑی تھانے میں مدرسہ و خانقاہ عطاء اشرف رابوڑی تھانے کے کی جانب سے ہندالولی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے پر بہار موقع پر تمام سنی تنظیموں کے اشتراک سے سابقہ عظیم الشان جلوس چشتیہ آئمہ کرام و علماء اکرام کی قیادت میں مدرسہ خانقاہ عطائے اشرف سے نکلا جس میں کثیر تعداد میں عاشقان خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے شرکت فرمائی۔ مفتی سراج منظر اشرفی کے افتتاحی خطبہ سے جلوس کا آغاز ہوا۔ جلوس مدرسہ و خانقاہ عطائے اشرف سے نکل کر حضرت ماپلے شاہ بابا کی درگاہ پر حاضری دیتے ہوئے رابوڑی کا گشت کرتے ہوئے عصر کے وقت مومن پورہ جمعہ مسجد پہنچا وہاں جلوس روک کر حاضرین نے نماز عصر ادا کی اس کے بعد حضرت پیر ملا احمد شاہ بابا کی درگاہ پر حاضری دیتے ہوئے رابوڑی ناکہ سے ہوکر مغرب سے پہلے وقت مقررہ پر مدرسہ و خانقاہ عطائے اشرف پر اختتام پذیر ہوا جلوس کے دوران نعت شریف و منقبت باادب و منظم طریقے سے لوگ چل رہے تھے۔ جلوس کی قیادت مظھرالمشائخ حضرت سید مظھرالدین اشرف اشرفی جیلانی دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی وہی جلوس میں حضرت حافظ وقاری سید مونس اشرف رابوڑی، مفتی اھلسنت مفتی منظر حسن خان اشرفی گھاٹکوپر ممبئی، حافظ وقاری عمران خان اشرفی (خطیب وامام سنی نورانی مسجد ملنڈ), حافظ وقاری حاجی بشیر اشرفی( مدرس مدرسہ عطاۓ اشرف رابوڑی), حافظ وقاری مولانا ذوالفقار اشرفی صاحب (خطیب وامام مسجد اشرفیہ رابوڑی), مولانا جمیل قادری صاحب (خطیب وامام مسجد غوثیہ مسجد باپوجی نگر), مولانا مجسم رضا, حافظ صابر اشرفی, حافظ عبدالصمد اشرفی، حافظ نور نقشبندی، حافظ محمد زرار اشرفی گھاٹکوپر، حافظ ضیاءالحق ملنڈ، حافظ محمد علی نقشبندی، حافظ نسیم، حافظ ظفر اشرفی، حاجی عبدالرشید اشرفی، عبدالرحیم اشرفی، سمن انصاری، اسلم گھاؤٹے، نثار سیفی، توفیق شیخ، مجیب، آصف، جعفر، زبیر بھائی، وسیم چشتی و دارالعوام محبوب یزدانی رابوڑی تھانے کے طلبہ، مدرسہ عطاء اشرف کے طلباء تمامی عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ مفتی منظر اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ 808 سال سے غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منایا جارہا ہے اور ہندو، مسلم سکھ عیسائی ہر مذہب کے لوگ آپ کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنی مرادیں پوری کرکے لے جاتے ہیں، آج لوگ نفرت پھیلارہے ہے اس لیے ہم اس، نفرت کو ختم کرنے کے لئے خواجہ غریب نواز کے پیغام محبت کو پھیلائے ضرورت یہ ہے کہ ملک میں جہاں جہاں بھی لوگ امن و شانتی سے رہ رہے ہو وہاں خواجہ غریب نواز کے پیغام کو عام کرنے کے لیے جلوس چشتیہ نکالے اور لوگوں کو یہ بتائیے کہ جو ہمارے گھر پر دسترخوان پر آتے ہیں ہم انہیں بھگاتے نہیں بلکہ صوفیوں کے طریق پر عمل کرتے ہوے انہیں محبت کا بھائی چارگی کا جام پلاتے جاتے ہیں اور اپنے ملک کی امن و سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ حافظ عمران اشرفی نے جلوس نکالنے کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم جس ملک میں رہتے ہے اس ملک کے بادشاہ اور اولیاء کے بھی بادشاہ سرکار غریب نواز ہے اور انہیں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ولایت ہند عطا فرماکر یہاں بھیجا گیا۔ ہندوستان میں ہم ہر ایک کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں لیکن جن کا ملک ہے ان کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرنا بھول جاتے ہیں۔ ملک میں بھائی چارہ، امن و امان قائم ہو محبت قائم ہو غریب نواز کا فرمان ہے کہ محبت سب کے لیے اور نفرت کسی کے لیے نہیں ہو۔ انشا اللہ آنے والے وقت میں پیار محبت امن و امان کا پیغام اس جلوس کے ذریعے جائے گا۔ جلوس کے اختتام میں دعاء خیر کی گئی اور سکون و طمانیت کے ساتھ شریعت کی حد میں سلام و فاتحہ پر اختتام ہوا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading