سکندر آباد:28/ مئی ۔( ورق تازہ نیوز)ممبئی سے سکندر آباد جانے والی دیوگیری ایکسپریس میں ایک ایسا مسافر سفر کر رہا تھا، جس کے بیگ میں کپڑے نہیں بلکہ کروڑوں روپے بھرے ہوئے تھے۔ تاہم سکندرآباد پہنچنے سے پہلے ہی سرکاری ریلوے پولیس (GRP) اور ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) کی نظر اس پر پڑ گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران معاملہ حوالہ کاروبار سے جڑا ہوا نکلا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 1 کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار روپے نقد رقم برآمد کرلی۔
ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔ سکندرآباد ریلوے پولیس اور آر پی ایف کی ٹیم بولارم اور ملکاجگیری ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان چیکنگ کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک 40 سالہ شخص مشتبہ حالت میں بیگ لے جاتے ہوئے نظر آیا۔ پولیس کو اس کی حرکات مشکوک لگیں تو اسے روک کر پوچھ گچھ شروع کی گئی۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کا رہنے والا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ممبئی کے ایک زیورات کے تاجر نے اسے یہ نقد رقم دی تھی۔ اس کا کام صرف اتنا تھا کہ دیوگیری ایکسپریس کے ذریعے سکندرآباد پہنچ کر مونڈھا مارکیٹ علاقے میں موجود ایک زیورات کے تاجر تک یہ رقم پہنچا دے۔ کروڑوں روپے کی اس ڈلیوری کے بدلے اسے 5 ہزار روپے ملنے والے تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم نقد رقم سے متعلق کوئی بھی جائز دستاویز پیش نہیں کر سکا۔ نہ رقم کا کوئی حساب تھا، نہ کوئی بل، اور نہ ہی رقم کے ذرائع کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب دیا گیا۔ اس کے بعد پوری رقم ضبط کر لی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں معاملہ حوالہ کاروبار سے جڑا ہوا مانا جا رہا ہے۔
اب پولیس اس بات کی جانچ میں مصروف ہے کہ آخر ممبئی اور حیدرآباد کے درمیان یہ حوالہ نیٹ ورک کتنے بڑے پیمانے پر کام کر رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا زیورات کے کاروبار کی آڑ میں کروڑوں روپے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جا رہے تھے یا نہیں۔
ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹرینوں کے ذریعے حوالہ اور غیر قانونی نقد رقم کی منتقلی کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں مسلسل چیکنگ مہم چلائی جا رہی ہے۔ فی الحال ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے اور پولیس اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔