دیوبند۔ ۲۰؍دسمبر: (رضوان سلمانی؍ایس۔چوددھری) شہریت ترمیمی قانون اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات پر دہلی پولیس کے تشدد کے خلاف آج دیوبند میں زبردست احتجاجی مظاہرہ اور غم وغصہ دیکھنے کو ملا، صبح سے ہی دیوبند کے تمام بازار بند ہوگئے، جمعہ کی نماز کے بعد لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف جم کر نعرہ بازی کرنے لگے،

جلوس کے دوران ایک دوار گرِ نے سے کئی لوگ زخمی ہوگئے۔حالانکہ پولیس نے دیوبند میں خاص انتظامات کررکھے تھے اور گزشتہ 8؍ روز سے خفیہ محکمہ بھی چوکناّ تھا ،اس کے باوجود لوگوںنے اپنے غصہ کا کھل کر اظہار کیا، دیوبند کے ماحول میں آج صبح سے تناؤ دیکھنے کو مل رہاتھا، خاص بات یہ رہی کہ احتجاجی جلو س کی قیادت کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی احتجاج کرنے والے نوجوان غصہ کااظہار کرکے اپنے گھروںکو لوٹ گئے۔ اس دوران پولیس کے اعلیٰ افسران دیوبند میں ہی خیمہ زن رہے لیکن آج اس وقت افسران کی سانسیں پھول گئی جبکہ اچانک ہزاروں لوگ سی اے اے کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے۔ پورے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ آج دیوبند ،سہارنپور اور متصل ضلع مظفرنگر میں بھی لوگوں نے اس قانون کے خلاف اور جامعہ ملیہ کے طلبہ وطالبات پر پولیس تشدد کے خلاف اپنے غصہ کااظہار کیا۔ پولیس و انتظامیہ نے دیوبند سہارنپور اور مظفرنگر میں انٹر نیٹ سہولیات مکمل طورپر بند کرکے بڑے احتجاج سے عوام کو دور رکھنے کی کوشش کی۔
گزشتہ آٹھ دن سے دیوبند کو چھاونی میں تبدیل کررکھاہے اور جمعہ کے روز تو کسی بڑے احتجاج مظاہرہ کے پیش نظر خاص طورپر تیاری کی گئی تھی مگر پولیس انتظامیہ کی تمام تیاریاں اس وقت دھری کی دھری رہ گئی جب صبح سے ہی یہاںبازار مکمل طور پر بند ہوگئے اور بعد نماز جمعہ الگ الگ علاقوں میں جمع ہوئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ اس دوران ویاپار منڈل کے کارکنان ، پولیس افسران اور شانتی سمیتی کے ذمہ داران تاجروں کو اپنی اپنی دکانیں کھولنے کے لئے کہتے نظر آئے اس کے باوجود کسی بھی تاجر نے اپنی دکان نہیں کھولی۔مرکزی جامع مسجد میں ایک بجے نماز جمعہ ادا ہونے تک شہر میں تناؤ کی کیفیت بنی رہی ،اس کے بعد اچانک ہاتھوں میں تختیاں لئے نعرے بازی کرتے ہوئے ہزاروں کی بھیڑ دارالعلوم چوک کی جانب سے پہنچنا شروع ہوگئی،مودی سرکار مردہ آباد، دہلی پولیس مردہ آباد کے نعرے لگاتے ہوئے نوجوانوں کی بھیڑ بغیر کسی قائد کے آگے بڑھتے ہوئے خانقاہ پولیس چوکی تک جاپہنچی،جہاں پہلے سے موجود پولیس افسران اور پی اے سی کے جوانوںنے رکاوٹ بنتے ہوئے مظاہروں کو آگے جانے سے روک دیا،کچھ دیر خانقاہ چوک پر ہی نعرہ بازی کرنے کے بعد بھیڑ ایک مرتبہ پھر شہر کی جانب لوٹ آئی، صرافہ بازار،مین بازار،ایم بی ڈی چوک،سبھاش چوک،شاستری چوک ہوتے پٹھانپور ریتی چوک پہنچ گئی، پٹھانپورہ چوک پہنچنے کے بعد جلوس میں شامل نوجوان پر امن طریقہ سے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ قریب دو گھنٹے شہر میں جلوس نکلنے کے باوجود شہر میں کسی بھی قسم کوئی ناخوشگوار پیش نہیں آیا۔جلوس کے اختتام کے بعد افسران نے راحت کی سانس لی۔

جلوس کے دوران خانقاہ چوک پرایک دیوار گرِ نے سے افراتفری مچ گئی،سڑک کے کنارے موجود قریب پانچ فٹ اونچی دیوار پر نوجوانوں کے چڑھنے کے سبب دیوار کا ایک حصہ اچانک گرِ گیا،ملبے میںدبنے کی وجہ سے ایک نوجوان شدید طورپر زخمی ہوگیاجبکہ کئی لوگ معمولی زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو آناً فاناً لوگوں کی مدد سے پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیاہے،جہاں ان کی حالت خطرہ سے باہر بتائی گئی ہے۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ آج کے مظاہرہ سے طلبہ مدارس کافی دور نظر آئے۔ مدارس انتظامیہ کی جانب سے طلبہ مدارس کو کسی بھی قسم کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہ کرنے کاحلف دلایا گیا تھا، جس کے سبب طلبہ مدارس کے حدود میں ہی رہے۔دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف کے علاوہ دیگر مدارس کی جانب سے جہاں اداروں کے دروازوں پرسختی کی ہوئی ہے وہیں نوٹس چسپاں کرکے جمعہ کے روز احاطہ میں ہی رہنے اور نماز جمعہ کے بعد فوراً اپنے کمروں میں لوٹنے کی ہدایت دی گئی تھی،جس کے سبب آج کے مظاہرے میں طلبہ مدارس نظر نہیں آئے۔ادھر گزشتہ دیر شام سے دیوبند میں نماز جمعہ کے بعد خواتین کے ذریعہ احتجاجی مظاہرے کرنے کی خبریں موصول ہورہی تھی جس کو لیکر خفیہ محکمہ اور پولیس میں کافی افراتفری دیکھی گئی،حالانکہ خفیہ محکمہ کی یہ اطلاع محض ایک افواہ ہی ثابت ہوئی اور شام تک خفیہ محکمہ کے اہلکار مظاہرے کرنے والی خواتین کو تلاش کرتے نظر آئے۔ گزشتہ پانچ روز سے انٹر نیٹ بند ہونے کی وجہ سے جہاں کاروباری لوگ پریشان ہیں وہیں اخباری نمائندوں کو بھی سخت پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہاہے۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں،جس کے سبب ملک کے کئی حصوںمیں انٹر نیٹ سہولیات مکمل طورپر بند ہیں، جس سے لوگوںکو سخت پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہاہے۔جہاں لوگوں کے کاروبار متاثرہورہے ہیں وہیں لوگ انٹرنیٹ کااستعمال کرنے والے لوگ کافی پریشان ہیں، وہیں دیوبند میں مسلسل پانچ دن سے مکمل طورپر ہر کمپنی کی انٹر نیٹ سہولت پوری طرح بند ہے، انٹر نیٹ بند ہونے سے کئی لوگوں میں غم وغصہ دیکھا جارہاہے۔ حالانکہ اس سلسلہ میں ایس پی دیہات ڈاکٹر ودھیا ساگر مشر سے جب اس سلسلہ میں بات کی گئی تو ان کہنا تھاکہ فی الحال انٹر نیٹ سہولیات بند رہے گیں، اتوار کے روز کے بعد ہی انٹر نیٹ سہولیات کھولنے پر غوور خوض کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ اتوار سے پہلے انٹر نیٹ سروس نہیںکھولی جائینگے۔