اتوار کی صبح سے شاہین باغ کو لے کر جو خبریں آنا شروع ہوئیں انہوں نے دیر شام تک افواہوں کی شکل لے لی اور پھر اچانک ایک ہی وقت میں دہلی کے کئی علاقوں سے بھگدڑ اور ہنگامہ کی افواہوں کا بازار گرم ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کے کئی علاقوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ ان افواہوں کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور افواہ پھیلانے کے لئے دو لوگوں کو گرفتار بھی کیا ۔رات کو ہی پولیس کی جانب سے بیان آیا کہ دہلی میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوارواقعہ نہیں پیش آیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پردھیان نہ دیں۔
Delhi Police PRO MS Randhawa: Some people have been detained for rumour-mongering and cases are being registered against them. Strict action will be taken against those who spread rumours & hate speech. pic.twitter.com/ZOvC3auze7
— ANI (@ANI) March 1, 2020
صبح پہلے یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کو ختم کرانے کے لئےوہاں پربڑی تعداد میں پولیس تعینات کر دی گئی ہے ۔شام کو پہلے اوکھلا کے کئی علاقوں سےبھگدڑ کی خبریں موصول ہونا شروع ہوئیں اورلوگ بغیر سوچے سمجھے لاٹھیاں اور ڈنڈے لے کر گھر سے نکل کر باہر آگئے لیکن بعد میں پتہ لگا کہ کچھ نہیں تھا اور حملہ کرنے کی کسی نے افواہ پھیلا دی تھی ۔ پھر خبر آئی کہ بدرپور کے علاقہ جیت پور میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا ہے جس کا بعد میں پتہ لگا کہ وہ بھی محض افواہ تھی اور کسی چور کو پکڑ کر کچھ لوگوں نے پٹائی کی تھی اور دونوں کا تعلق ایک ہی فرقہ سے تھا ۔ جیت پور کی خبر کے بعد شاہین باغ میں ماحول گرم ہو گیا ۔ اس سے پہلے شاہین باغ میں چھوٹے بچوں کی لڑائی کےبعد وہاں بھگدڑ مچ گئی تھی اور خوف میں بہت تھوڑی سی خواتین مظاہرہ گاہ میں رہ گئی تھیں۔
افواہ صرف مسلم اکثریتی علاقوں تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ تلک نگر وغیرہ علاقوں میں فساد کی افواہ کے بعد بازار بند کر دئے گئے تھے جس کے بعد وہاں کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے فیس بک لائیو کر کے سب کو بتایا کہ وہاں کچھ نہیں ہوا ہے اور حالات نارمل ہیں ۔ دہلی کے روہنی علاقے میں بھی تشدد کی افواہ پھیلی تھی ۔واضح رہے دہلی میٹرو نے تلک نگر سمیت سات میٹرو اسٹیشنوں کے ایگزٹ گیٹ بند کر دئے تھے ۔خاص بات یہ تھی کہ ان افواہوں کا اثر شما ل مشرقی دہلی کے ان علاقوں میں نظر نہیں آیا جہاں ابھی حال ہی میں فساد ہوئے تھے ۔
دہلی میں ہوئے فسادات کی وجہ سے دہلی پولیس مستقل سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اس تعلق سے پولیس نے کہا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔دہلی پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کوئی بھی اشتعال انگیز مواد سوشل میڈیا پر شئیر نہ کریں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو