دہلی کو ’غیر محفوظ‘ بنانے کے الزام کا سامنا کر رہے کپل مشرا کو ملی ’وائی کیٹگری‘ کی سیکورٹی

بی جے پی لیڈر کپل مشرا کو دہلی پولس نے وائی کیٹگری کی سیکورٹی دینے کا اعلان کیا ہے۔ کپل مشرا نے خود کی جان کو خطرہ بتایا تھا جس کے بعد انھیں یہ سیکورٹی دی گئی ہے۔ یہ وہی کپل مشرا ہیں جن کے اوپر دہلی فساد کو بھڑکانے سمیت کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز بیان دینے کے لیے کپل مشرا پر مقدمہ درج کرنے کے لیے پولس سے فیصلہ لینے کے لیے کہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں بی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبہ کو لے کر عرضی داخل کی گئی ہے۔ اس عرضی میں کپل مشرا، پرویش ورما سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کے نام ہیں جن پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ 26 فروری کو سماجی کارکن ہرش مندر کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی جس میں انھوں نے کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے دہلی میں تشدد برپا ہوا اور لوگوں کی جانیں گئیں۔

سماعت کے دوران جسٹس مرلی دھرن نے حکومت کی طرف سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے تلخ سوال کیے تھے اور دہلی پولس کو ان لیڈروں پر ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق فیصلہ لینے کو کہا تھا۔ شام ہوتے ہوتے جسٹس مرلی دھر کے ٹرانسفر کا حکم جاری کر دیا گیا تھا۔ 27 فروری کو جب اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت سے حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تینوں لیڈروں پر کیس درج کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ اس کے بعد معاملہ کی آئندہ سماعت 13 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔ اب تک کپل مشرا کے خلاف کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading