دہلی میں کورونا وائرس کی دستک، پہلا پازیٹو کیس آیا سامنے

دہلی میں پیر کے روز کورونا وائرس سے متاثر پہلے مریض کی تصدیق کی گئی۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں بھی ایک دیگر کورونا وائرس سے متاثر مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزارت صحت نے اس سلسلے میں میڈیا کو جانکاری دی اور بتایا کہ دونوں ہی مریضوں کو انتہائی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

وزارت نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’سی او وی آئی ڈی-19 وائرس کا ایک معاملہ دہلی اور ایک تلنگانہ سے سامنے آیا ہے۔ دہلی والا مریض اٹلی گیا تھا جب کہ تلنگانہ والا مریض قبل میں دوبئی کا سفر کر چکا ہے۔‘‘ ان کے سفر کی دیگر تفصیلات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں ہی مریضوں کی حالت مستحکم ہے اور ان پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ کورونا کی حالت کی بنیاد پر کچھ ممالک کے سفر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے جانکاری دی ہے کہ ٹریول ایڈوائزری کے تحت اس وقت چین اور ایران کے لیے موجودہ ویزا اور ای-ویزا سسپنڈ رہیں گے۔ حالات بدلنے کے ساتھ سفری پابندیوں کو دیگر ممالک پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے ہندوستان کے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین، ایران، کوریا، سنگاپور اور اٹلی کا غیر ضروری سفر کرنے سے بچیں۔

اس سے قبل ہندوستان میں کیرالہ کے تین مریضوں میں کورونا وائرس پایا گیا تھا۔ لیکن صحت مند ہونے کے بعد تینوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی۔ بیماری کو قابو کرنے کے لیے ہندوستان میں 21 بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر دو ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانچ کی گئی ہے۔ حکومت ہند تین بار ہندوستانی طلبا سمیت دیگر بیرون ملکی شہریوں کو چین سے محفوظ وطن لے کر آئی ہے۔

اس سے پہلے کوروناوائرس کے مرکز بن چکے چین کے ووہان علاقہ سے لائے گئے مشتبہ مریضوں کو فوج اور آئی ٹی بی پی کے چھاؤلہ اور مانیسر واقع کیمپوں میں الگ سے کیمپ لگا کر رکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ چین سے دوسرے ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 89 ہزار لوگوں کو اپنی زد میں لے چکا ہے جب کہ تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی اس سے موت ہو چکی ہے۔ عالمی صحت تنظیم نے اس وائرس کو کووڈ-19 نام دیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading