دہلی: مندر کو نقصان پہنچانے کو اویسی نے بتایا غلط، قصورواروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی: دہلی کے چاوڑی مارکیٹ کے لال کنواں علاقے میں کشیدگی کا ماحول برقرار ہے۔اتوار دیر رات پارکنگ کے چلتے شروع ہوا تنازعہ اس وقت فرقہ وارانہ رنگ لے لیا جب ایک کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے علاقے میں واقع ایک مندر پر پتھرا ؤکر دیا، جس جے اس سے مندر کو نقصان پہنچا۔دونوں ہی کمیونٹی کے لوگ آمنے سامنے آ گئے۔

اس معاملے کو لے کر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور تیلنگانہ سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بیان دیتے ہوئے مندر پر پتھراؤ کی مذمت کی ہے۔ اویسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ

‘کسی بھی عبادت گاہ یا عبادت کرنے والے پر حملہ ہمارے عزیز ملک کی خوبی ‘ کثیر المذاہب’ ہونے پر حملہ ہے۔بربریت کی یہ کارروائی انتہائی قابل مذمت ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ قصورواروں پر کارروائی کی جائے اور انہیں کیفرا کردار تک پہنچا یا جائے۔

بتا دیں کہ علاقے میں کسی طرح کی کوئی تشدد نہ ہو اسے لے کرپولیس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سی آر پی ایف بھی تعینات ہے۔حالانکہ اب حالات کشیدہ ہے لیکن پرسکون ہے ۔پولیس نے دونوں فرقوں کے درمیان فاصلے بنائے رکھنے کے لئے باقاعدہ بیریڈگ کی ہوئی ہے اور بے سبب کسی شخص کو علاقے میں آنے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔اس دوران پیر کی دوپہر کو اس وقت ماحول گرم ہو گیا جب دونوں طرف سے نعرے بازی ہونے لگی۔پولیس مندر کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کر پائی ہے۔

#UrduNewsNewsDelhi #AsaduddinOwaisi #Reaction #DelhiTemple #Vandalisation #Incident Asaduddin Owaisi Aimim- All India Majlis-E-Ittehadul Muslimeen

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading