دہلی: تیس ہزاری کے بعد اب کڑکڑڈوما کورٹ میں ہنگامہ، وکیلوں نے کی پولس اہلکار کی پٹائی

دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں ہفتہ کو ہوئے تشدد کے بعد وکیلوں اور پولس کے درمیان تلخی مزید بڑھ گئی ہے۔ تیس ہزاری کورٹ کے بعد اب دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ میں وکیلوں اور پولس کے درمیان تصادم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ معمولی بات کو لے کر وکیلوں اور پولس کے درمیان بحث ہوئی۔ اس دوران مبینہ طور پر وکیلوں نے پولس اہلکار کی پٹائی کر دی۔

خبروں کے مطابق وکیلوں کے ذریعہ کی گئی پٹائی میں پولس اہلکار کو کافی چوٹیں آئی ہیں۔ وکیلوں اور پولس کے درمیان تنازعہ دیکھ کر کچھ لوگ موقع پر پہنچے اور بیچ بچاؤ کیا۔ وہیں پولس اہلکار کو محفوظ عدالتی احاطہ سے باہر نکال کر لے گئے۔ تیس ہزاری کورٹ میں ہفتہ کو ہوئے تشدد کے خلاف وکیل آج ہڑتال پر ہیں۔ عدالتوں کے باہر وکیل احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تیس ہزاری کورٹ میں پولس کے ساتھ تصادم میں زخمی ہوئے وکیلوں کو 10-10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کے مطالبہ سمیت مختلف ایشوز کو لے کر سپریم کورٹ کے باہر بھی وکیلوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس سے پہلے ہفتہ کو تیس ہزاری کورٹ میں بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ پولس اور وکیلوں کے درمیان ہوئے تصادم کے دوران گولی بھی چلی تھی۔ اس دوران عدالتی احاطہ میں کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ پہلے وکیلوں اور پولس کے درمیان عدالتی احاطہ میں پارکنگ کو لے کر بحث ہوئی۔ اس کے بعد مار پیٹ شروع ہو گئی۔ جیسے ہی دوسرے وکیلوں کو اس بات کی خبر لگی وہ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان خوب مار پیٹ ہوئی۔

وکیلوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پولس کی جانب سے گولیاں چلائی گئیں۔ گولی ایک وکیل کو جا کر لگ گئی تھی۔ زخمی وکیل کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جس کی حالت فی الحال بہتر ہے۔ اس دوران کچھ وکیل اور پولس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے جنھیں اسپتال مین داخل کرنا پڑا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading