دہلی انتخابات میں اسد الدین اویسی کی انٹری سے کس کو نقصان ہوگا، اے آئی ایم آئی ایم کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے جمعرات کو دہلی میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے اوکھلا اسمبلی حلقہ میں پیدل مارچ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم دہلی اسمبلی کی صرف دو نشستوں اوکھلا اور مصطفی آباد سے ہی انتخاب لڑ رہی ہے۔ دونوں نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی فسادات کے ملزمان کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہ دونوں رہنما ان دنوں جیل میں بند ہیں۔

دہلی میں مسلمان ووٹ تقریباً 20 لاکھ ہیں۔ پچھلے دو انتخابات سے مسلمانوں کے ووٹ عام آدمی پارٹی کو جا رہے ہیں۔ لیکن اس بار دہلی کے انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کی انٹری اور کانگریس کے تھوڑا مضبوط ہونے سے اس میں تقسیم ہونے کی امید ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ دہلی میں مسلمان ووٹوں پر دعویٰ کس کا ہے۔

دہلی میں اے آئی ایم آئی ایم کہاں سے انتخاب لڑ رہی ہے؟ دہلی انتخابات میں اویسی کی پارٹی صرف دو نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ اوکھلا اسمبلی نشست پر اس نے شفاور رحمان اور مصطفی آباد نشست پر طاہر حسین کو امیدوار بنایا ہے۔ ان کے دونوں امیدوار دہلی فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔

دونوں جیل سے ہی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس طرح اویسی نے دہلی فسادات کے زخم کو ایک بار پھر سے چھیڑ دیا ہے۔ اویسی اس کے ذریعے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading