ممبئی۔7دسمبر(ورق تازہ نیوز) دہشت گردی کے الزام میں پوسد سے گرفتار کئے گئے عبدالملک کے مقدمے کی سماعت اکولہ سیشن کورٹ میں تیزی سے جاری ہے اور سرکاری وکےل کی جا نب سے ملزم کے خلاف گواہان کو عدالت میں پیش کےا جا رہا ہے آج یہاںایک ہی دن میں استغاثہ کے 4 گواہوں کی گواہیاں اور جرح کی تکمیل عمل آئی، ان میں سے 2 گواہ 11 اور12 نمبر کے گواہ پولےس اہلکارتھے ،49 اور 50 نمبر کے گواہ عام آدمی تھے50 نمبر کا گواہ آج عدالت میں اپنے سابقہ بیان سے مکر گیا جس سے دفاع کا موقف مزید مضبوط ہو گیا ہے ۔یہ اطلاع آج یہاں اس مقدمے کی قانونی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی نے دی ہے۔واضح رہے کہ 25ستمبر 2015 کو پوسد شہر میں چھرہ زنی کی ایک واردات کے الزام میں عبد الملک و دیگر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے بعد میں دہشت گردانہ کارروائی سے جوڑدیا گیا اور اس پر یو اے پی اے کی ۶۱،۸۱،۰۲ اور انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۷۰۳کے تحت مقدمہ درج کیا گیاتھا۔دفاع کے مطابق اس کے مقدمے کی سماعت ابتداءمیں ناگپور کے عدالت میں جاری تھی، کہ ۶۲اگست ۶۱۰۲ کو ایک خصوصی سرکیولر کے ذریعے اسے اکولہ کی خصوصی عدالت میں منتقل کردیا گیا تھا۔اسکے بعد سے اکولہ عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہو ئی اور سرکاری وکےل کی جا نب سے یکے بعد دیگرے گواہان کو پیش کےا جا رہا ہے ۔جن کے بیا نات سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس مقدمہ میںسازش کے تحت عبد الملک و دیگر کو پھنسایا گیا ہے اور اسکے لئے فرضی گواہان و غیرہ پولےس اہلکاروں کی جا نب سے سے تیار کئے گئے ہیں ۔ جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولاناندیم صدیقی نے کہا کہ عدالت میں اس مقدمہ کی کاروائی منصفانہ طریقے پر جا ری ہے، جمعیة علماءپوری شدت اورمکمل دیانت داری سے انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہے،مقدمہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے امید ہے کہ آئند ہ ۲ ۳ تاریخوں میں مقدمہ مکمل ہو جائے گا ،اور ملزم کو انصاف ملے گا،اس کےس کی پیروی جمعیة علماءمہا راشٹر کی جا نب سے ایڈوکےٹ دلدار خان کر ررہے ہیں ۔