اوسہ بلدیہ انتظامیہ اور کونسلر لاپرواہ, اہلیان محلہ پانی کو ترس رہے ہیں’

Auasa water

لاتور:7ڈسمبر(محمدمسلم کبیر)اوسہ شہر بلدیہ بدعنوانی اور غیر مجاز کارناموں سے لبریز ہے. بلکہ عوامی بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال کر مالی مفاد کے کاموں میں کونسلرس زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے.اوسہ شہر کے قلب میں واقع مومن محلے میں گذشتہ کئی ماہ سے اہلیان محلہ نلوں کے ذریعے آبی دستیابی کو ترس رہے ہیں لیکن بلدی انتظامیہ،صدر بلدیہ اور متعلقہ کونسلرس عوام کے مطالبے پر غیر سنجیدہ ہیں.تقریبا ایک ہزار نفوس پر آباد اس محلے میں 1970 میں بچھی پائپ لائین کو 48 برس ہوئے جس کے بعد سے اب تک اس پائپ لائین کی طرف بلدیہ نے توجہ نہ دی بلکہ یہ پائپ لائین جس مین لائین سے جڑی ہے اس پر ایستادہ والوہ بھی کس حالت میں ہیں اس کا جائزہ نہیں لیا گیا. البتہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے بمصداق جس علاقے میں یا محلے میں نلوں کو پانی نہیں ملا اس دوران کونسلرس والوہ اور بچھی پائیپ لائین کو توڑ کر عارضی پی وی سی پائیپ لائن اور نیا والوہ بٹھا کر اہلیان محلہ کو آبرسانی کرتے رہے ہیں لیکن اب اس علاقے میں کتنے والوہ اور کہاں بٹھائے گئے ہیں اور کونسے محلے کی پائیپ لائن لکیج ہے اور اس کو کہاں منقطع کیا گیا ہے اس علم سے اوسہ بلدیہ کی انتظامیہ نابلد ہے. اس طرح کی وجوہات کے بنائ پر اوسہ شہر کے کئی محلہ جات میں آبرسانی میں رخنہ پڑ رہا ہے. مومن محلے کے نوجوان اور خواتین کا بلدیہ کے ذمہ داران سے بارہا شکایت کرنے کے باوجود آبرسانی کرنے سے قاصر ہیں بلدیہ کے کونسلرس اور ذمہ داران کی اس جانب غیر سنجیدگی سے تنگ آکر اہلیان محلہ جن میں نوجوان اور خواتین کثیر تعداد میں تھے، ایک تحریری یادداشت لے کر دفتر بلدیہ پہنچے لیکن دفتر میں نہ تو چیف آفیسر موجود تھے نہ صدر بلدیہ..لہذہ نوجوانوں نے ان دونوں ذمہ داروں کی کرسیوں کی گلپوشی کرکے احتجاج کیا.پھر عوامی مسائل کو حل نہ کرنے والی بلدی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائےاور اعلان کیا کہ اگر مومن محلے میں پیر تک آبرسانی سے محروم رکھا گیا تو دفتر بلدیہ اور دفتر تحصیل پر سخت احتجاجات کئے جائیں گے. اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے ضلع نائب صدر بابا مختار پٹیل,لوکنائیک سنگھٹنا کے کارکنان نے اہلیان محلہ کے مطالبات کی حمایت میں بلدیہ میں ایک یادداشت پیش کی. اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ مومن محلے میں آبرسانی کو فوری یقینی بنائیں ورنہ سخت احتجاج کیا جائے گا.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading