دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظارمیں (ابراہیم علی ابو کی رحلت پر)

میں شہر ناندیڑ کی بڑی درگاہ میں جاری فری میڈیکل چیک اپ کیمپ جوادارہ ورق تازہ اورمولانا آزاد وچار منچ کے زیر اہتمام منعقد کیاگیاتھا میں موجود تھا کہ محمدیوسف خاں پٹیل نے مجھے یہ خبر غم سنائی کہ ابراہیم علی ابو کاانتقال ہوگیا ہے ۔ خبر مجھ پر شاک گزری ۔ سابقہ صدر مسلم لیگ ناندیڑ‘ ابراہیم علی ابو گزشتہ ایک سال سے موت سے نبردآزماں تھے ۔انھیں عارضہ شوگرلاحق تھا ۔ مرض اتنا بڑھ چکاتھا کہ انھیں ہرمہینہ ڈئلائسیس کے عمل سے گزرنا پڑرہاتھا یہ عمل مہنگا اور تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ مرحوم کی مالی حالت بہتر نہیں تھی اسلئے وہ چاروں طرف سے آنیوالی پریشانیوں میں گھرے ہوئے تھے ۔ابراہیم علی‘ سے میرے تعلقات گزشتہ 18-17 سالوں سے تھے ۔ وہ انڈین یونین مسلم لیگ ناندیڑکے ضلع صدر تھے اور اکثر خبریں اوراپنے مضامین کی اشاعت کی غرض سے ’ورق تازہ“ کے دفتر آیاکرتے تھے ۔اس طرح اُن سے میری گہری دوستی ہوگئی تھی ۔و ہ ایک جذباتی مسلمان ہونے کے ساتھ ہی دردمند انسان تھے ۔ ملت کے مسائل پر ضلع انتظامیہ سے اکثر نمائندگی کرتے رہتے تھے ۔ وہ ایک بے غرض ‘ہمدرد ملت ‘خوددار اور سادہ لوح شخص تھے ۔ اسی وجہ سے کچھ مفادپرست افراد اُن کا استحصال کیاکرتے تھے جس کو وہ سمجھ نہیں پائے تھے ۔میراابراہیم علی ابو سے ایک اہم تعلق ہوں پیداہوگیاتھا کہ شہر ناندیڑ کی عیدگاہ جدید سے قریب اس وقت کے کانگریسی ایم پی نے سڑک کے تعمیری کام کاآغازاپنے مذہبی عقیدے کے مطابق کیاتھا جس پر ”ورق تازہ“ نے نیو ز چھاپی تھی اور ابراہیم علی ابو ‘سید بلیغ الدین ثاقب(سینئر صحافی)‘کامذمتی بیان شائع کیاتھا ۔ جس پر شہر کے ہی ایک مسلم صاحب نے جو اب اس جہان فانی میں نہیں رہے ‘ پولس اسٹیشن میں میرے ‘ابراہیم علی اور سید بلیغ الدین ثاقب کے خلاف شکایت درج کروادی ۔

شکایت میں یہ الزام عائد کیاگیاتھا کہ اس خبر اورمذمتی بیانات کی اشاعت سے دو فرقوں میں نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ پولس نے ایف آئی آر درج کیااورہم تینوں پرعدالت میں مقدمہ چلا لیکن اللہ رب العزت کے کرم سے عدالت نے ہم تینوں کو باعزت بری کردیا ۔ حالانکہ دوران سماعت مقدمہ فریادی اور کچھ سیاسی قائدین کی جانب سے ہمیں کئی بار صلح کی پیش کش کی گئی تھی ۔ میں نے ہر بار صلح کی پیش کش کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا تھاکہ ہم تینوں نے خدائے برتر کے گھر کی بے حرمتی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی اگر اس مقدمہ میں ہمیں سزاے قید ہوتی ہے تو ہم اسے پرور دگار عالم کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرلیں گے۔لیکن پروردگار نے ہمیں باعزت بری کروادیا ۔ہم نے اُس کاشکرادا کیا ۔

ابراہیم علی مقدمہ سے قطعی خوف زدہ نہیں تھے اوراپنے مخالفین کوترکی بہ ترکی جواب دینے سے ذرہ برابر بھی ہچکچاتے نہیں تھے ۔ بے باکی اور حق گوئی اُن کی شخصیت کے نمایاں وصف تھے ۔ وہ مسلم لیگ کے بعد مجلس اتحاد المسلمین اور پھر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے لیکن کبھی بھی کانگریس پارٹی کی رکنیت قبول نہیں کی۔اکثر یہ دیکھاگیاتھا کہ جب بھی کوئی الیکشن ہوتا توابراہیم کو کانگریس میں شمولیت کی پُرکشش پیش کش کی جاتی تھی لیکن وہ کانگریس کے مایا جال میں کبھی نہیں پھنسے ۔جبکہ ناندیڑ کی گزشتہ 65 سالہ سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ ‘ایم آئی ایم اور جتنادل کے مقامی مسلم قائدین نے راتوں راست سبزچولااتارکر کانگریسی سفید کھدری چُغہ پہن لیاتھا ۔یا انھیں پہنایاگیاتھایہی وجہ ہے کہ آج شہر میں کانگریس کاکوئی قدآور مسلم لیڈر دیکھائی نہیں دیتا ہے۔

ابتداءسے ”ورق تازہ“ کی یہ پالیسی رہی ہے کہ سیاست میں وارد ہونے والے مسلم نئے چہروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ انھیں پروجیکٹ کیاجائے ۔ چنانچہ شہر کے سابق ایم ایل اے مرحوم پروفیسر نوراللہ خاں ‘شفیع احمد قریشی(سابق ڈپٹی میئر ناندیڑ) ‘ہوں یا پھر جواں سال قائد الطاف احمد ‘عبدالصمدسیٹھ(سابقہ ڈپٹی میئرناندیڑ) ‘ ابراہیم علی ابو ‘سید معین ان مسلم قائدین کی سیاسی شخصیت سازی میں ”ورق تازہ“ نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ ابراہیم مجھ سے جب بھی ملتے تو یہی شکوہ کرتے تھے کہ خدا نے انھیں دولت نہیں دی اگر دیتا تو وہ ہمہ وقت ملت کےلئے وقف ہوجاتے ۔ بڑی کسمپرسی میں زندگی گزارنے کے باوجود انھوں نے اپنے ملی جذبہ کوکبھی سرد ہونے نہیں دیا ‘ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ۔وہ اپنی آخری سانس تک اسی ڈگر پرچلتے رہے ۔پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے دل میں بے شمار آرزوئیں اور خواہشیں لئے 16فروری 2019 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے 55سال کی عمر میں ابراہیم علی کی ناگہانی موت پر آخری مغل حکمراں بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

عمرِ دراز مانگ کرلائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

محمدتقی(ناندیڑ)

9325610858

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading