شمالی کوریا میں اتوا کو کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا ہے جبکہ دنیا میں اب تک اس مہلک وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پہلے سے ہی تنہا اور مالی طور پر غیر مستحکم ملک اب تک یہ اصرار تھا کہ ابھی تک شمالی کوریا میں کووڈ 19 کے کسی ایک کیس کی بھی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ اس وبا سے بڑے پیمانے پر تباہی اور عالمی معیشت کو بھی دھچکا لگا ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 645 ہزار افراد کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوا ہے، خاص طور پر شمالی کوریا کا ازلی حریف امریکہ کو اس وبا نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق ملک کے رہنما کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ مہلک وائرس ملک میں باہر سے آئے کسی شخص کے ذریعے پھیلا ہے۔’
کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آنے کے بعد ملک کے سرحدی شہر کائی سونگ میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا سے ایک شخص واپس پہنچا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر تھا۔
تاہم ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس پہلے ہی ہمسایہ ملک چین سے شمالی کوریا پہنچ چکا تھا جہاں گذشتہ سال کے اواخر میں اس وبا نے سر اٹھایا تھا۔