نئی دہلی‘ 8 جولائی (یو این آئی)آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دلت مسلمانوں کو بھی ایس سی /ایس ٹی ایکٹ میں شامل کیا جائے تاکہ دلتوں اور قبائلیوں کی طرح انہیں بھی قانونی طور پر تحفظ حاصل ہوسکے اور خوف کی نفسیات سے آزاد ہوکر ملک کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرسکیں۔مورچہ کے لیڈروں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی / ایس ٹی ایکٹ 1989میں ابھی ہندو‘ سکھ اور بودھ مذاہب کے دلت اور قبائلی طبقے آتے ہیں۔ اسی کے دائرہ میں مسلمانوں کے ہم پیشہ افراد کو شامل کرنے سے اقلیتوں کی بڑی آبادی خوف کی نفسیات سے آزاد ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بڑی آبادی غریب‘ناخواندہ او رمظلوم ہے اور ایک طویل عرصے سے چلی آرہی نفرت کی سیاست کی وجہ سے اسی آبادی کو ظلم کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ لیکن اس غریب اور محروم طبقہ کی حفاظت کے لئے حکومت ہی پہل کرسکتی ہے۔لہذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طبقہ کو بھی ایس سی/ایس ٹی ایکٹ میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غریب اور محروم طبقہ پر مشتمل مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت کو اسکالرشپ یا حج کوٹے میں اضافہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے انہیں سب سے زیادہ فکر اپنے اور اپنی نسلوں کے تحفظ کی ہے اور مرکزی حکومت انہیں قانونی تحفظ فراہم ان کا دل جیت سکتی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں مورچہ کے قومی نائب صدر کمال اشرف راعین‘ ترجمان حافظ غلام سرور‘ ڈاکٹر ایم آئی انصاری‘ جہانگیر عالم‘ محمد اعظم وغیرہ تھے۔