دستور مخالف طاقتوں کو شکست دینے کے لیے تمام ہندوستانی کمر کس لیں: آل انڈیا علماء بورڈ

ممبئی: ملک کے اتحاد اور اس کی سالمیت کے لئے تمام بھارتیوں کو کمر کس لینی ہے کیونکہ دستور مخالف طاقتیں ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں. یہ باتیں آل انڈیا علماء بورڈ کی جانب سے منعقد پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی گئیں۔

بورڈ کے جنرل سیکریٹری علامہ بنئی نعیم حسنی نے صحافیوں سے کہا کہ دستور کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے دستور رہے گا تو ملک متحد رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک قوم کا نہیں ہے جیسا کے بی جے پی کے لوگ گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانوں، این آر سی اور این پی آر سے ملک مذہبی اعتبار سے تقسیم ہو جائے گا اور اس کی سالمیت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم آج ملک بھر میں تقسیم مخالف تحریک کا آغاز کر رہے ہیں جس کے تحت ہم ملک میں گھوم گھوم کر ان بی جے پی کے ناپاک منصوبوں کا پردہ فاش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک غیر مسلم برادرانِ وطن کو ساتھ میں لے کر شروع کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے لوگوں میں اور ہم اپنے لوگوں میں اس پر کام کر سکیں۔ انہوں نے انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، مولانا جرجیس انصاری، مولانا شہریار رضا اور وارث پٹھان پر الزام لگایا کہ یہ لوگ مذہبی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، تمام بھارتیوں کو ان کے منصوبوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

سینئر قانون داں فرحانہ شاہ نے کہا کہ وہ خواتین مبارکباد کے قابل ہیں جنہوں نے سڑک پر اتر کر مظاہروں کی کمان سنبھال رکھی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرے اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں کہ حکومت کو ان کے سامنے جھکنا پڑے گا ۔ بورڈ کے ممبئی کے صدر عارف میمن (باپو) نے صحافیوں سے کہا کہ ان کی ٹیم اس تحریک کو گلی محلوں میں لے جائے گی اور عوام کو بیدار کرے گی۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ سنگین مسائل سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ مولانا ثابت علی ندوی نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈروں کے زہریلے نعروں کی وجہ سے دہلی تباہ ہوئی ہے اگر ان پر شکنجہ نہیں کسا گیا تو وہ ایسے تجربے پورے ملک میں کریں گے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading