دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر ضلع ناندیڑکے زیر اہتمام زبیدہ گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج ” جدید عصری علوم کے لئے تعمیر” نئی عمارت“ کا افتتاح

ناندیڑ :(حامد اظہر) آج دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر ضلع ناندیڑکے زیر اہتمام زبیدہ گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج ” جدید عصری علوم کے لئے تعمیر ہونے والی ’’ نئی عمارت‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا ۔ اس عظیم الشان اجلاس کی صدارت ہندوستان کی مشہور ومعروف شخصیت حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی ( جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) نے کی،اور حاجی ابراہیم صاحب حیدرآباد کی سرپرستی میں اجلاس کا انعقاد ہوا، اوردیگر قد آور شخصیات کی شرکت نے جلسہ کو چار چاند لگا دیے، جس میں بطور مہمان خصوصی کے طور ،حضرت مولانا اسماعیل صاحب قاسمی نقشبندی مدظلہ خلفۂ مجاز حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی،حضرت مولانا امیر اللہ خان صاحب قاسمی مدظلہم ناظم مدرسہ سراج البنات محبوب نگر،حضرت مولانا حافظ عبدالجبار صاحب مظاہری نقشبندی مدظلہ ناظم مدرسہ مدینۃ العلوم لاتور، جیسے اکابرین ملت نے اسٹیج کو رونق بخشی۔تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا .

اس کے بعد حافظ محمد علی نے نعت رسول کے اشعار گنگنائے۔ بعد ازاں صدر اجلاس کی خدمت میں شیخ الجامعہ حضرت مولانا مفتی رضوان صاحب قاسمی نے سپاس نامہ پیش کیا۔اس کے بعد آبروئے حمایت نگر سرخیل علماء ،مولانا مظہر الحق صاحب کامل قاسمی زید مجدہم( بانی و مہتمم دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر ضلع ناندیڑ )نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، جس میں آپ نے فردا فردا علماء اور معاونین مدرسہ کا شکریہ ادا کیا،خوش آمدید اسکا وہ آیا میری چوکھٹ پر،بہاریں جسکے قدموں کا طواف کرتی ہے۔ مولانا نے نئے کالج کو شروع کرنے کی وجہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری بچیاں اسکول اور کالج میں جاتی ہیں تو مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے جسکی وجہ سے مسلم معاشرے کی لڑکیوں میں بے حیائی عام ہورہی ہے، اسکے لیے ضروری ہے کہ ایسے ادارے ہو جس میں مخلوط نظام تعلیم نہ ہو بلکہ دینی ماحول میں انکی تعلیم کا بہترین انتظام کیا جاسکے۔

مولانا کے استقبالیہ کے بعد مجوزہ عمارت( زبیدہ گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج) کا نقشہ حاجی ابراہیم صاحب کو دیا گیا، بعد ازاں صدر جلسہ کی مہتمم مدرسہ نے شال پوشی کی، اسکے بعد حاجی صاحب کے فرزند، مولانا جبار صاحب، مولانا امیر اللہ خان صاحب، مولانا اسماعیل صاحب، مولانا سعد عبداللہ صاحب ندوی، مولانا عبدالملک صاحب مظاہری اور جناب عبدالوحید صاحب کی بھی مہتمم صاحب نے شال پوشی کی۔ بعد ازاں مولانا عبدالجبار صاحب نقشبندی،کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔ آپ نے عرض کیا کہ ہمارے علماء جو کام اب کررہے ہیں اگر پہلے کردیتے تو ارتداد کی لہر اتنی نہ بڑھتی، آپ نے اس کالج کے بنانے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ زبیدہ خاتون( اہلیہ محترمہ ہارون رشید ) نے اس وقت میں حجاج کی جسمانی پیاس کی تشنگی کا انتظام کیا تھا، اور آج آپ نے ان کے نام سے لڑکیوں کا اک ادارہ قائم کرکے ان کی روحانی پیاس کو بجھانے کا انتظام کیا ہے۔

آپکے مختصر مگر پرمغز خطاب کے بعدمولانا امیر اللہ خان صاحب مدظلہ کا خطاب ہوا، آپ نے شروعات میں اپنی بذلہ سنجی سے سامعین کے لبوں پر مسکراہٹ سجادی، اس کے بعد مولانا نے کہا کہ اگر عورت کی صحیح تربیت نہ کی گئی تو وہ مرد کو مصیبت میں مبتلاء کردیتی ہے، اسلیے عورت کی صحیح اصلاح ضروری ہے، اور کہا کہ تعلیم ضروری ہے لیکن اس میں اعتدال بھی ضروری ہے، بے حیائی اور بے پردگی شامل نہ رہے، اور نوکری کے لیے روڈ پر نہ آجائے۔مولانا کے ایمان افروز اور بذلہ سنجی پر مشتمل خطاب کے بعد مفتی اسمعیل صاحب قاسمی نقشبندی* کا خطاب ہوا، آپ نے مہتمم صاحب کے لیے شکرانہ اور دعائیہ کلمات کہے، آپ نے کہا کہ ہمارے صرف تین فیصد بچے دینی اداروں میں شریک ہے باقی تمام غیروں کی گود میں پرورش پارہے ہیں،

اس کے لیے اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے زیور بیش بہا سے پیراستہ کرنا از حد ضروری ہے، اور اعلی تعلیمی معیار کے ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے حتی کہ برادران وطن کے بچے بھی اس میں شریک ہو کہیں اور داخلہ نہ لیں۔اسکے بعد صدر جلسہ مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ مونگیرکا پرجوش خطاب ہوا۔ آپ نے اپنے خطاب میں آنے والے مہمانوں سے کہا کہ یہ فرحت اور انبساط کا موقع ہے رب نے ہمیں ایک ایسے ادارے کے افتتاحی پروگرام میں آنے کی توفیق بخشی جس کے ذریعہ ہماری

لڑکیوں کی اصلاح ہوگی۔
ع میری طلب بھی کسی کرم کا صدقہ ہے
اپنی ابتدائی گفتگو میںحضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے فرمایا ملت اسلامیہ کا ہر روز نت نئے فتنوں سے سامنا ہے۔اور سب سے بڑا لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ ہے۔اس کی وجوہات میں سے نکاح میں دیری،جہیز کی لعنت ،شادیوں کی غیر ضروری خرافات ہے وہیں سب سے بڑی وجہ کو اجوکیشن سسٹم یعنی مخلوط تعلیمی نظام ہے۔اور لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دینا بھی ضروری ہے ۔اسکے لیے ضروری تھا کہ ہم اپنے ایسے ادارے اور کالجز کا قیام عمل میں لائیں جس میں مخلوط تعلیمی نظام نہ ہو ۔اسی کے ذریعہ اس بڑھتے ہوئے زہر کا تریاق ممکن ہو سکتا ہے۔ان ہی باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر نے ایک بڑا اقدام کیا، مدرسہ کی عمارت کے عقب میں پانچ ایکڑ زمین خریدی گئی اور ” زبیدہ گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج ” کے نام سے لڑکیوں کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس میں انہیں اسلامی تربیت کے ساتھ عصری تعلیم دی جاسکے.

یہ قدم اٹھے نہیں اٹھا گئے ہے۔ نیز آپ نے فرمایا کہ لوگ ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ مدارس نے دنیا کو کیا دیا؟ تو خوب سن لو اگر یہ اہل مدارس مشکلات کے وقت میں بے سر و سامانی کے عالم میں اگر دین و شریعت کا چراغ نہ جلاتے تو آپ کے سروں پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی نہ ہوتی۔ اور لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق کہا کہ ایک ادارہ بن گیا تو اسی پر اکتفاء نہ کرے ہر صاحب ثروت کو چاہیے کہ محفوظ محتاط ماحول میں لڑکیوں کے لیے دینی ماحول کے ساتھ عصری تعلیم کا نظم کرنے کے لیے جد و جہد کریں، کیونکہ اگر ایک مرد کو پڑھائےگے تو فرد پڑھے گا لیکن اگر ایک عورت دیندار ہوگی تو پوری نسلوں میں دین پہونچے گا۔ ارتداد کے اسباب کو ذکر کرتے ہوئے ایک اہم سبب پر روشنی ڈالی کہا کہ شادیوں کو آسان کرو، فضول خرچی نہ کرو، آپ اپنے معاشرے میں جہیز جیسی لعنت کو پنپنے کے سامان فراہم کررہے ہیں تو ہماری غریب لڑکیاں غیروں کے ساتھ گھر بسارہی ہیں، ارتداد کی آندھی پورے ملک میں پہنچ گئی ہے، آنکھ بند کرکے نہ بیٹھے ارتداد آپکے دروازے تک بھی آپہنچا ہے اس لہر پر بند لگانا ناگزیر ہے۔

اور کہا کہ عورتوں کی تمنائیں اچھی ہونی چاہیے، جب تمہاری خواہشات نیک ہوگی تو اولاد بھی صلاح الدین ایوبی جیسی پیدا ہوگی۔ آخر میں مالدار لوگوں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی پرزور اپیل کی۔ صدر جلسہ کی دعا پر ہی جلسہ اختتام پذیر ہوا، آپکی رقت آمیز دعاؤں سے لوگوں کے آنسو آنکھوں سے تجاوز کرکے انکے دامن کو بھگو رہے تھے۔آخر میں میں اپنے ان اساتذہ کا ذکر نہ کرو تو بڑی ناسپاسی ہوگی جنکی کڑی محنتوں سے جلسے کا نظام سنبھلا رہا، اللہ سب کو آخرت میں اس کا اجر عظیم عطا فرمائے، ان کے علاوہ اہلیان حمایت نگر کا بھی جلسہ میں اہم کردار رہا ہے۔ نظامت کے فرائض مفتی محمد اکرم خان قاسمی نے انجام دیے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading