دارالعلوم حسینیہ بوریولی( ممبئی) کے سالانہ جلسہ کا پُروقار انعقاد

ممبئی:26اپریل(ورق تازہ نیوز) دارالعلوم حسینیہ بوریولی( ممبئی) کے سالانہ جلسہ کے پُروقار انعقاد پرآج سب کے چہرے فرحت و نشاط اور سرور و شادمانی سے سرشار تھے، مہینوں انتظار کے بعد یہ مبارک و مسعود دن بڑی خوشی و خرمی کے ساتھ آیا،ایسا حسین منظر کہ جس طرف نگاہ اٹھاؤ علیک سلیک مبارک باد کی صدائیں باز گشت کر رہی تھیں، ہر شخص خوشبوؤں سے معطر عمدہ پیرہن زیب تن کر کے خندہ پیشانی سے مہمانوں کی آمد کا منتظر تھا، شام کے پانچ بجے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور مہمانوں کے آمد کا سلسلہ شروع ہوا، مہمانوں کے درمیان ایک بزرگ شخصیت بعد نماز عصر جلوہ افروز ہوئی جن کے آنے سے چمن میں بہار آگئی، گلشن محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پھول مہک رہے تھے اور اپنی خوشبوؤں سے محفل کو دوبالا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے، اسی کے ساتھ چھ بج کر دس منٹ پر مائک سے حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب ندوی کے حمدو ثناء کی صدا بلند ہوئی، مختصر تعارف کے بعد آپ نے ان مختلف پھولوں کو یکے بعد دیگرے، تلاوت، نعت، بیان کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کیا، محفل میں بیٹھے ہر شخص نے ان گلشن محمد صل اللہ علیہ و سلم کی پھول کو دیکھ کر دلی مسرت کا اظہار کیا مزید حوصلہ افزائی، انعامات، سے ان کی دل جوئی فرمائی، آج مولانا کے زبان سے جو الفاظ نکل رہے تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پھولوں کی برسات ہو رہی ہے ، شیریں الفاظ موقع محل کے اعتبار سے بڑے ہی دلکش انداز میں پیش کر رہے تھے، کہ جس سے آپ کی علمی صلاحیت کے جوہر کھل کر لوگوں کے سامنے آرہے تھے،

تقریباً پچیس طلبہ نے اپنی طاقت علمی، عزم صمیم کا مظاہرہ کیا، اور سامعین کے قلوب کو فتح کرنے میں کامیاب رہے، جس بے باکی سے طلبہ اپنے پروگرام پیش کر رہے تھے کہ جب شہنشاہ نظامت حضرت مولانا شاہد اشہد صاحب امام و خطیب نورانی مسجد کاندیولی مائک پر تشریف لائے تو انہوں نے جو طلبہ کی حوصلہ افزا کلمات سے تعریف فرمائی یقیناً وہ طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے اور عزائم کو مضبوط کرنے میں بڑے معاون و مدد گار ثابت ہوں گے ، ان کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے وہ الفاظ جب آخری طالب علم اپنی تقریر پیش کر رہے تھے توممبئ میں قلت وقت کی بنا پر طالب علم نے کہا کہ بدقسمتی سے میں اپنی بات کو یہیں ختم کر کر رہا ہوں مولانا نے فرمایا کہ جس بے باکی، جرات مندی سے تمام طلبہ نے اپنی بات کو پیش کیا ہے ان کی جواں ہمتی کو سامنے رکھ کر یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ اگر ادارے کے طلبہ کو مستقل وقت دیا جائے اور سرپرست، صدر جلسہ کو مدعو کیا جائے تو مقررین کی ضرورت نہیں رہے گی، اپنی گفتگو سے مجمع پر سحر طاری کرنے والے مولانا شاہد اشہد صاحب نو بجے سفر پر روانہ ہو گئے،مولانا عبد الرحیم ندوی صاحب نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے، فاضل نوجواں، بزرگ شخصیت کے فرزند ارجمند، حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب دامت برکاتہم کو مدعو کیا، حضرت والا نے دس منٹ کے قلیل وقت میں ان مہمانوں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جو سر زمین ممبئی کی مختلف مقامات سے تشریف لائے ہوئے تھے، کہ تواضع انکساری میں وہ کرسیوں پر جلسہ کی زینت بنے ہوئے تھے، اور اپنے بیان کے اخیر میں یہ پیغام دیا کہ جو سنیں اس پر عمل کریں،
اس کے بعد نظامت کے فرائض صدر جمیعتہ علماء شمال مغربی زون کے حضرت مولانا اسلم صاحب قاسمی نے انجام دیئے، مولانا بیک وقت نظامت، خطابت، تلاوت، نعت، ان تمام میدانوں کے شہسوار ہیں، اور آپ نے جس میدان میں قدم رکھا وہیں پر کامیابیوں نے آپ کی قدم بوسی پر فخر محسوس کیا ہے،

آپ نے سب سے پہلے مقرر شعلہ بیان، حضرت مولانا مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کو مدعو کیا دس منٹ کے قلیل مدت میں مفتی صاحب نے علماء کرام، مدرسین، کی شان میں جو پر جوش قابل ستائش تقریر فرمائی ہے، اسے سن کر محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا دل ایمان و قرآن سے پر نور ہے، اتنے قلیل عرصہ میں بے شمار قرآن کی آیات اور احادیث کو زبان نوک پر لے آنا یہ بحر العلوم کے ہی بس کی بات ہے،

مفتی صاحب کی تقریر ختم ہوئی تو تقریباً رات کے نو بجکر بیس منٹ ہو چکے تھے، ممبئی میں پروگرام کا پرمیشن رات دس بجے تک ہی ہوتا ہے اسی لیے مقرر خصوصی کو دعوت دی گئی تو ان کے پاس بیس منٹ کا ہی وقت تھا،کیونکہ دعا اور دستار بندی ابھی باقی تھی، مقرر خصوصی، خطیب شیریں بیان حضرت مولانا شفیق احمد صاحب استاد حدیث بڑودوی، سامعین سے مخاطب ہوئے چونکہ مستورات بھی کافی تعداد میں بیان سننے کے لیے تشریف لائیں تھیں اس لیے حضرت والا نے ان کے تعلق سے خصوصی باتیں بھی ارشاد فرمائیں، مختصراً پیش خدمت ہے، شوہر کی اطاعت نفلی عبادات سے افضل ہے، حدیث میں آقا نے فرمایا جس عورت میں یہ چار باتیں پائی جائیں (1)پانچ وقت کی نمازوں کا اہتمام،( 2)رمضان المبارک کے روزے کا اہتمام( 3)اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کرنا( 4)اپنے شوہر کی جائز امور میں اطاعت کرنا، آقا نے فرمایا جو عورت یہ چار کام کر لے گی وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے، مشکوٰۃ،.مزید آگے آپ نے فرمایا اس زمانے میں فتنوں کا بہترین حل قرآن پاک سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا، آخر میں ایک پیغام دئیے کہ اللہ والوں کی کوئی ایک صفت اندر داخل کرلو، اللہ کامیاب بنا دیں گے،ان کے بعد وہ بزرگ شخصیت جس کے آنے سے چمن میں بہار آگئی تھی، جن کی بے شمار دینی خدمات ہیں سب سے عظیم خدمت ممبئی و اطراف میں تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآن پاک کے لیے مدارس و مکاتب کی نگرانی سرپرستی کرنا،وہ عظیم المرتبت، جلیل القدر، نابغہ دہر، یگانہ روزگار، ستودہ صفات ہستی، حضرت مولانا منیر احمد صاحب دامت برکاتہم ہے، آپ نے مختصر وقت میں سلام کی خوبیوں کو اجاگر کیا، اور فجر کی سنت اپنے گھر پر ادا کرکے فرض نماز مسجد میں ادا کرنے کے تین فوائد کا تذکرہ کیا، اول روزی کشادہ ہو جائے گی، دوسرے گھریلو جھگڑے ختم ہو جائیں گے، تیسرے خاتمہ ایمان پر ہوگا،اور مختلف قیمتی نصائح سے سامعین کے قلوب کو منور فرمائے .اس کے بعد طلبہ کی دستار بندی کی گئی، مہمانوں میں ممبئی کے مختلف مقامات سے کثیر تعداد میں مرد عورتیں شریک ہوئیں ، خصوصاً کاندیولی، ملاڈ ،گورے گاؤں، جوگیشوری، سانتا کروز، کاجو پاڑہ کرلا،اندھیری ،محلے کے حضرات نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے ہر طرح سے تعاون فرمایا، اور اساتذہ میں قاری کلیم الدین صاحب گونڈوی، قاری عبد الرب صاحب بستوی، مولانا سجاد صاحب بہرائچی، حافظ سعید صاحب بستوی، قاری نفیس صاحب بہرائچی ،مولانا نجم الدین صاحب اڑیسوی، طباخ منظر صاحب بہاری، اور ہمارے صدرِ محترم حافظ محمد شریف صاحب بہرائچی کی جدوجہد، رنگ لائی، ان کی بڑی قربانیوں سے یہ جلسہ دستار بندی بحسن خوبی کامیابیوں کو سمیٹتے ہوئے اختتام کو پہنچا ، اللہ سب کو اپنی شایان شان اجر عطا فرمائے .اخیر میں حضرت والا کی رقت آمیز دعا پر جلسہ ختم ہوا،لیکن اپنے یادگار لمحات دلکش مناظر کی خوبیوں کو ہمارے دل و دماغ پر نقش کر گیا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading