چین میں مسلمانوں کو کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شنجیاگ صوبے میں حجاب پہننے، داڑھی بڑھانے اور رمضان مہینے میں روزا رکھنے تک پر پابندی ہے۔چین کی حکومت نے شور شرابے کی دلیل دیتے ہوئے تمام 355 مساجد سے لاؤڈ سپیکروں کو کو ہٹانے کے لئے پہلے سے ہی حکم دے چکی ہے۔مساجد کے اوپر چین کا قومی پرچم لگانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔چین مسلم اقلیتی فرقوں کے لوگوں پر کافی ظلم و ستم کر رہا ہے ۔

محکمہ خارجہ کے اندازے کے مطابق,000 800،سے 20 لاکھ اوئی گر،کاجاکاس،کرگج سمیت ترکی مسلمانوں کو بیجنگ کے تربیتی کیمپ کے نام پر قید میں رکھا جا رہا ہے۔لوگ تربیتی کیمپوں کو ڈٹینشن کیمپ کہتے ہیں۔امریکی حکام نے کئی مواقع پر چین کے اس برتاؤ کی مذمت کی ہے ۔چین اسے دہشت گردی سے لڑنے کا ذریعہ بتا کر اپنا دفاع کرتا ہے اور ان کیمپوں کو بورڈنگ سکول جیسے تربیت کیمپ کی طرح پیش کرتا ہے۔

اسی کے ساتھ چین مغربی شنجیاگ صوبے میں اسلامک مذہبی مقامات کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنا ہے۔’ دی گارجین ‘ اور بیلنگیٹ ویب سائٹ نے سیٹیلائٹ تصاویر سے 91 مذہبی ویب سائٹوں کی نگرانی کی تو پتہ چلا کہ تقریباً 31 مساجد اور اہم اسلامی مقامات کو 2016 سے لیکر 2018 کے بیچ بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے ۔گارجین کی رپورٹ کے مطابق ، ان مذہبی مقامات میں سے 15 عمارتوں کا لگ بھگ یا پوری طرح سے نام ونشان مٹا دیا گیا ہے۔کئی مساجد سے گنبد کو پوری طرح سے ہٹا دیا گیا تھا ۔

مسجد کی طرح استعمال کی جارہی 9 دیگر عمارتوں کو پوری طرح سے تباہ کر دیا گیا۔ ہیتان کے نزدیک سینکڑوں سال پرانی یوتین ایتکا مسجد جہاں مقامی لوگ نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے ، اس کو بھی منہدم کر دیا گیا۔

#IndianUrduNews #UrduNewsHindSamachar #China #Destroyed #Mosques #Muslim #Sites #Report
تصاویر سے آپ خود موازنہ کرسکتے ہیں





