خاموشی سے اعلی تعلیم کے ذریعہ حکومت انتظامیہ میں قدم رکھیں: مولانا غلام رسول بلیاوی

’’بھیونڈی کی سنی جامع مسجد کوٹرگیٹ میں مولانا غلام رسول بلیاوی صاحب کا خطابـ‘‘

بھیونڈی شہر کی مرکزی مسجد کوٹرگیٹ میںح ضرت علامہ و مولانا غلام رسول بلیاوی سابق ممبر آف پارلمنٹ اور بہار اسمبلی کے MLC)) نےجمعہ کے خطاب فرمایا کہ مسلمانوں سے گذارش کی کہ اب شور شرابہ،نعرے بازی ہنگامہ اوراب شکایت کا وقت نہیں بلکہ خاموشی سے ذمہ داری سے اور لگن سے قوم کے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذریعہ قوم کی خدمت پر معمور کریں ! یقین جانیے کہ کوئی بھی تعصب کسی بھی تعلیم کو روک نہیں سکے گا۔تعصب کی فضا میں اتنی طاقت نہیں کہ کسی کے تعلیم ہنر پر ڈاکہ ڈال سکے۔مولانا بلیاوی صاحب نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ کیا ہم ایک شہر سے ایک مسلم جج نہیں دے سکتے؟

*کیا ہم ایک شہر سے IPSاور IASجیسے آفیسر نہیں دے سکتے ؟

*کیا ہم ایک شہر سے ایک مسلم جج نہیں دے سکتے؟

*کیا ہم ایک شہر سے ایک سے ایک مسلم سرکاری وکیل( (PPنہیں دے سکتے؟

*کیا ہم ایک شہر سے ایک مسلم ہا سپٹل کا ڈین نہیں دے سکتے؟

*کیا ہم ایک شہر سے ایک پولیس کمشنر کا عہدہ نہیں حاصل کرسکتے؟

*کیا ہم ایک شہر سے ایک سے ایک مسلم کلکٹر ،تحصیلدار،حکومتی سیکریٹری نہیں دے سکتے ؟

*کیا ہم ایک ابوالکلام جیسا سائنسداں نہیں دے سکتے؟

ضرور دے سکتے ہیں۔اگر ہم مثبت قدم کے ذریعہ خاموشی سے مسلسل لگن اور جدوجہت سے کام کریں! اب تعصب کا رونا بند ہوجانا چاہیے ۔کوئی فرقہ پرست آپ کے قوم کے ہونہار طالب علم کے پرچہ کا مارکس کم نہیں کرسکتا کوئی حکومت آپ کے تعلیمی لیاقت کو ختم نہیں کرسکتی مگر ہم تو مایوس ہیں اور شکایت پر شکایت کرکے اپنی قوم کے ہنر مند اور تعلیم کی لیاقت کو نفسیاتی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔اب بس کیجیے نعرہ بازی شور کی بجائے آیئے ہم ملکر ایسا کام کریں کے شہر بھر کے ذہین اور پر جوش مسلم طلبا طالبات کو تلاش کریںاور ہر ہر ٹرسٹ،ادارہ،کمیٹی،سیاسی لیڈران اور سماجی افراد ان کو گود لے لیں اور انکی مکمل کفالت کریں اور انکی ہر طرح سے مدد کریں اور ان کو اس مقام تک پہنچادیں کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ملک کی شان و شوقت میں ملک کی حفاظت و کامیابی میں ان کا اثر ہو وہ پھر ایک بھارت رتن بن کر ابھر یں،اسکے لئے گھبرانے اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل مزاجی اور لگن سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہمارا مسلم بچہ بھارت رتن بن کر دنیا میں بھارت کو چمکا سکتا ہے۔

ہم کو اپنی تعلیم و ہنر سے حکومت کے اعلی عہدوں پر دفاع و خدمت کے عہدوں پر کورٹ کے سرکاری وکیل اور جج کے عہدوں پر IB,CIDاور ملک کی مرکزی ایجنسیوں میںاپنی قوم کو پہنچانے کا عزم کرنا ہے۔سائنس و ٹکنالوجی میں ابولکلام کی مثال بننا ہے۔

اب آئیے کا م کریں کوشش کریں عزم کریں اور پھر دیکھیں کے ہم اپنی قوم کے کتنے ـ’’بھارت رتن‘‘ پیدا کرکے ملک کی خدمت کرتے ہیں ۔

اس پر اثر تقریر کے بعد مولانا موصوف کے کو ٹرگیٹ ٹرسٹ اور بالخصوص مولانا محمد یوسف رضاقادری ،مفتی مبشیر رضا ازہر صاحبان کی اس کام کے لئے آگے بڑھنے کی گذاش کے ساتھ انکی مقامی کا رکردگی کو سہرایا ۔ایک بڑے ٹرسٹ کی طرف سے خاموش پیغام عمل کی شروعات کرنے پر زور دیا ۔

ٹرسٹ کے اراکین نے ان کا شکریہ ادا کیا اور مسجد کے ذمہ داران میں حاجی شکیل،مومن پرویز،مومن شمیم،نسیم رضا ،اعجاز شیخ،مزمل شیخ،مصعب مومن،وسیم مومن و دیگراراکین تنظیم ملت نے ان کی گل پوشی کی اور انکا خصوصی استقبال کیا ۔ ان کی رہنمائی نہ صرف قابل عمل ہے بلکہ اسمیں تاخیر نہ ہو اسکی توجہ ضروری ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading