ناندیڑمیں منعقدہ تعزیتی نشست میں مطالبہ
ناندیڑ:28نومبر ۔(ورق تازہ نیوز) آندھر اپردیش اردو اکیڈیمی حیدر آباد کے سابقہ صدراورہندوستان میں اردو تحریک کے بے لوث مجاہد عالی جناب جلیل پاشاہ کا 25 نومبر کی شب ساڑھے نو بجے طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ۔ ا س خبر غم کی اطلاع یہاں ناندیڑ پہونچی تو اردو حلقوں میں غم واندوہ کی لہردوڑگئی ۔ آج برو ز منگل 27نومبر کو دوپہر تین بجے دفتر ور ق تازہ میں ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ۔ جناب محمد تقی مدیراعلیٰ ورق تازہ نے جلیل پاشاہ صاحب کے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج و افسوس کااظہار کرتے ہوئے جلیل پاشاہ اپنی تمام زندگی اردو زبان وتعلیم کے فروغ کےلئے جدوجہد کرتے رہے ۔ اُن کی کوششوں سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کاقیام حیدرآباد میں ہواتھا ۔اسی طرح وہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ‘دہلی کے تاسیسی ممبر تھے ۔اُن کی بے لوث خدمات کی وجہ سے ملک کے ادبی و اردو حلقوں میں ُن کی بڑی قدرو منزلت تھی ۔ ڈاکٹرفہیم صدیقی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جلیل پاشاہ آزاد ہند میں ایک عظیم اردو مجاہد کی حیثیت سے مصروف کارتھے ۔ حیدر آباد میں مولانا ابوالکلام آزاد قومی اردو جامعہ قائم کرنے کا پُرزور مطالبہ جلیل پاشاہ نے کیاتھا ۔ 11نومبر مولانا آزاد کے یوم پیدائش کویوم تعلیم کی حیثیت منایاجائے یہ مطالبہ بھی جلیل پاشاہ نے کیاتھا۔آل انڈیااردو تعلیمی کمیٹی حیدر آباد کے وہ صدر تھے ۔ اور اس کمیٹی کے تحت جلیل پاشاہ نے تقریبا 42کُل ہند کانفرنس منعقدکروائیں ۔ احقر کو کئی کانفرنسوں میںشرکت کا شرف حاصل رہا ۔ وہ میرے بڑے کرم فرما تھے ان کی رحلت سے مجھے صدمہ ہواہے ۔ اجلاس میں حکومت تیلنگانہ سے مطالبہ کیاگیا کہ جلیل پاشاہ کو اردو اخدمات کے عوض تیلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب ے انھیںبعداز مرگ ”مخدوم ایوارڈ“ سے نوازاجائے ۔ اس تعزیتی نشست میں خواجہ منیر الدین ‘محمدظہیرالدین بابر (نمائندہ اعتماد) ‘ محمدنقی شاداب( مدیر ور ق تازہ ) ‘ محمد شفیع احمدقریشی (سابقہ ڈپٹی میئر)‘ نعیم خان ‘ فیرو زرشید‘ محمود علی سحر ‘ کے علاوہ بڑی تعداد میں اردو دوستوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایک تعزیتی قرارداد منظور کی گئی جس میں عالی جناب جلیل پاشاہ کی رحلت پراظہارافسوسورنج کیاگیا ۔ ان کی رحلت نہ صرف تیلنگانہ بلکہ جنوبی ہند کی اردو زبان ‘ تعلیم اور ادب کاناقابل تلافی نقصان ہے۔ خدا ن کی لغزشوں کو معاف کرے ۔ ان کی مغفرت کرے اور انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ان کے پسماندگان کوصبر جمیل عطاءکرے ۔