ایسا لگتا ہے کہ غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ مہینوں پہلے مکمل طور پر دوسرے مرحلے پر داخل ہوچکی ہے جو تباہی اور ایک دبا دینے والے محاصرے سے کم نہیں بلکہ وقت کے مطابق زیادہ ہے۔یہ نیا مرحلہ حماس کے جنگجوؤں کی مصنوعی ذہانت کی مدد سے شناخت کرنا اور ان کے ٹھکانوں کا پتا چلا کرانہیں نشانہ بنانا ہے۔غزہ کے لوگوں کے چہروں کو پہچاننے،ان کی تصاویر کوجمع کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے پروگرام کا اسرائیل کے ساتھ تعاون اب کوئی راز نہیں رہا لیکن فائل میں ایک نئی چیز سامنے آئی ہے۔
حماس کے ارکان کو ٹریک کرنے کے لیے "جادوئی پاؤڈر”
اسرائیلی الیکٹرانک انٹیلی جنس ایجنسی یونٹ 8200 کے ایک سینیراہلکار کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے، جس نے انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال غزہ میں حماس کے اہداف کی شناخت میں مدد کے لیے "جادوئی پاؤڈر” کے طریقہ کار کا استعمال کیا گیا تھا۔حال ہی میں شائع ہونے والی فوٹیج میں اسرائیلی فوج کے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق حالیہ بیان کی درستگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں تاکہ کارکنوں کی شناخت کی جا سکے یا یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا کوئی شخص دھڑوں میں سے ہے یا نہیں۔
یونٹ 8200 میں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت کے سربراہ جنہیں صرف "کرنل یوآو” کہا جاتا ہے ان آلات میں سے ایک کے بارے میں بتایا اور کہا کہ انہیں ہم استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے مئی میں غزہ پر اسرائیلی حملے میں مشین لرننگ تکنیک کا استعمال کیسے کیا۔
’گارڈین‘ اخبار کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ "فرض کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ دہشت گرد ہیں جو ایک گروپ بناتے ہیں۔ ہم صرف ان میں سے کچھ کو جانتے ہیں۔ اپنی ڈیٹا سائنس کے جادوئی پاؤڈر کو استعمال کرنے سے ہم باقی کو تلاش کر سکتے ہیں”۔
جبکہ یونٹ 8200 کی طرف سے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کی ویڈیو میں بیانات چھ حالیہ شہادتوں سے مماثلت رکھتے ہیں جو اسرائیلی فوج کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ دراصل حماس پر حملے کے دوران "لیوینڈر” نامی مصنوعی ذہانت کا آلہ استعمال کر رہی ہے۔چھ گواہوں نے بتایا کہ AI سے تیار کردہ ڈیٹا بیس کو غزہ میں بمباری کی مہم میں شامل انٹیلی جنس افسران کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا جس نے دسیوں ہزار ممکنہ اہداف کی شناخت میں بھی مدد کی۔
اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ کچھ معلومات "غلط” نکلی تھیں۔
تاہم یہ معلومات گذشتہ سال فروری میں تل ابیب یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق کانفرنس کے دوران یوآو کے بیانات سے مطابقت رکھتے ہیں۔اس نے جس ویڈیو میں بات کی تھی اسے یونیورسٹی کے یوٹیوب چینل پر ان کی تصویر کے بغیر ہوسٹ کیا گیا تھا۔ ابھی تک اسے صرف چند ہی وگوں نے دیکھا ہے۔جب وہ فوجی وردی پہن کر اسٹیج پر پہنچا تو سامعین کو ہدایت کی گئی کہ وہ کرنل یوآو کی کوئی تصویر نہ لیں اور نہ ہی اس کی پرفارمنس ریکارڈ کریں۔
10 منٹ کی پریزنٹیشن میں جس کا عنوان "ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور AI انٹیلی جنس ہے” میں کرنل یو آو نے اس بات پر ایک نادر خیال پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کلاسیفائیڈ ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعہ کس طرح اے آئی سسٹمز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے یہ پیش گوئی کی کہ آیا کوئی "دہشت گرد” ہے۔ یونٹ 8200 ان لوگوں کے بارے میں معلومات لیتا ہے جو اس کے خیال میں "دہشت گرد گروہوں” کے ارکان ہیں اور اس کا مقصد باقی گروپ کو تلاش کرنا ہے۔
ایک مخصوص مثال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے مئی 2021ء کے فوجی آپریشن میں اس اصول کو "غزہ میں حماس ڈویژن کے میزائل کمانڈروں اور ٹینک شکن میزائل برداروں کو تلاش کرنے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔
مشین لرننگ کی ایک شکل کا استعمال کرتے ہوئے جسے "مثبت بغیر لیبل والی لرننگ” کے نام سے جانا جاتا ہےمیں پہلے کچھ لوگوں کا ایک سیٹ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے قریبی حلقوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ پھرمتعلقہ علامات کا حساب لگایا جاتا ہے اور آخر کار فوج نتائج کی درجہ بندی کرتی ہے اور ایک حد مقرر کرتی ہے۔کرنل یوآو نے کہا کہ انٹیلی جنس افسران کے تبصرے "فوج کے الگورتھم کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں مگر گوشت اور خون کے لوگ” ہی فیصلے کرتے ہیں۔
فوج انکار نہیں کرتی
یہ قابل ذکر ہے کہ کرنل ’یوآو‘ کے مطابق یونٹ 8200 مئی 2021ء کے حملے کے دوران "انسانی رکاوٹ” کو توڑنے میں کامیاب رہی جب اس نے 200 سے زیادہ نئے اہداف کی نشاندہی کی تھی۔ویڈیو پر تبصرہ کرنے کے لیے جس اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا گیا اس نے کہا کہ اس نے کرنل کی کانفرنس میں شرکت کی منظوری دی تھی۔ تاہم ایک ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے بیانات فوج کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حالیہ بیانات سے متصادم ہیں۔
الفاظ کی معمولی تبدیلی میں جو اس کے اصل بیان میں استعمال نہیں کی گئی اس نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو بتایا کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے نظام حملے کے لیے "اہداف کا انتخاب” نہیں کرتے۔ فوج نے تنظیموں میں سرگرم کارکنوں کے ڈیٹا بیس کی موجودگی سے کبھی انکار نہیں کیا جو ان کارکنوں کے بارے میں موجودہ معلومات کی تصدیق کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج اپنے اس بیان پر پوری طرح عمل کرتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام کا استعمال نہیں کرتی جو حملے کے لیے اہداف کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ کہ زیر بحث ڈیٹا بیس حملے کے لیے اہل کارکنوں کی فہرست نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے پہلی مرتبہ غزہ پر اپنی جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا اشارہ گذشتہ جنوری میں دیا تھا جب فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فورسز زمین کے اوپر اور نیچے کام کر رہی ہیں۔
ایک فوجی اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکنالوجی فلسطینیوں کے ڈرون کو نیچے لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسے حماس نے زیر زمین کھودی ہوئی سرنگوں کا بصری یا نقشہ کھینچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
متعدد مبصرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی جنگ سے اسرائیل کو چہرے کی شناخت اور زمینی سروے کے علاوہ مصنوعی ذہانت کی بہت سی تکنیکوں کو استعمال کرنے کی راہ اختیار کی ہےجن میں سے کچھ ہتھیاروں اور نئی فوجی ٹیکنالوجیز سے بھی متعلق ہیں۔