حضرت معین میاں کے ہاتھوں محمد عارف بامنے کا استقبال
35 زندگیاں بچانے والے مسیحا کی انسانی خدمات کا اعتراف
تھانے (آفتاب شیخ)
گیٹ وے آف انڈیا کے قریب پیش آئے کشتی حادثے میں محمد عارف بامنے نے اپنی جان پر کھیل کر 35 افراد، بشمول ایک تین سالہ بچی، کی زندگیاں بچا کر انسانیت کی شاندار مثال قائم کی۔ ان ک۵ اس کارہائے نمایاں نے انہیں مسیحا کا لقب دلایا اور ہر طرف ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔
اس منفرد کارنامے پر حوصلہ افزائی کرنے کے لیے رابوڑی تھانے کی سنی مسجدِ غوثیہ، اقراء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام احمد شاہ بابا ہال میں ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں تھانے شہر کی مختلف سنی مساجد، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
تقریب کے دوران آل انڈیا سنی جمعیت علماء کے صدر اور کچوچھہ شریف درگاہ کے سجادہ نشین معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف الجیلانی المعروف معین میاں کے ہاتھوں سے محمد عارف بامنے کو بہادری پر استقبالیہ پیش کیا گیا اس موقع پر مولانا سید تفضیل اشرف، مفتی عظیم الدین نوری، مولانا سلیم نوری، حافظ عرفان انصاری، حافظ عمران اشرفی، مولانا جمیل قادری، قاری ذوالفقار اشرفی و دیگر علماء و ائمہ مساجد موجود تھے۔
اپنے خطاب میں معین میاں نے کہا کہ "عارف نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانیت کی مثال قائم کی۔ ان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل وقت میں انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔"
تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد اصغر مقادم نے نہایت خوش اسلوبی سے کی، جبکہ نثار سیفی، صفدر اشرفی، قیس راوی اور دیگر ذمہ داران نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شرکائے تقریب نے محمد عارف کی بہادری کو داد و تحسین پیش کیا اور اسے انسانیت کا روشن نمونہ قرار دیا۔ یہ پروگرام انسانی ہمدردی اور جذبۂ خدمت کی شاندار مثال ثابت ہوا۔
