از: مولانا فیّاض احمد مصباحی شراوستی
(ضلع جنرل سکریٹری ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ بلرامپور،اتر پردیش)
جلالت العلم ، استاذ العلماء،حافظِ ملت،حضرت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآباد علیہ الرحمہ کی ذاتِ اعلٰی صفات علم و حکمت، دین و دانش،رشد و ہدایت اور فکر و عمل کی پیکرِ جمیل تھی۔علم و عمل،زہد و تقویٰ ،تعلیم و تربیت اور اصلاحِ افکار و اعمال آپ کی پُروقار شخصیت کے لازمی اجزا ہیں۔جہدِ مسلسل،عملِ پیہم، دینی درد، ملّی بقا، شخصیت وکردار سازی ، اصلاحِ معاشرہ، پاکیزہ افکار و اعمال کی تبلیغ و اشاعت آپ کی ہشت پہلو فکر و شخصیت کے نہایت شگفتہ اور دل آویز پہلو ہیں۔ آپ نے پوری زندگی درس و تدریس، تعلیم و تربیت ، تصنیف و تالیف اور وعظ و ارشاد میں گذاری ۔ حافظ ملّت علیہ الرحمہ ماضی قریب کے علمائے اسلام میں اپنے علم و تقویٰ ، فکر و تدبّر ، بصیرت و دانائی اور مقامِ رشد و ہدایت کے لحاظ سے ایک جیّد عالم دین، بے مثال صوفی اور باکمال مصلح و داعی کی حیثیت سے بہت منفرد اور ممتاز تھے۔ مبدا فیّاض نے آپ کو مجموعہء محاسن و کمالات بنا کر امّتِ مسلمہ کی ہدایت و قیادت کے لیے بھیجا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تادمِ حیات نیابتِ انبیاء علیہم السلام کا زرّیں تاج اپنے سر پر سجائے نہایت بصیرت و ہوشمندی اور کمالِ اخلاص کے ساتھ دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے اور دعوت و تبلیغ کے کارواں کو منزل سے ہم کنار کرتے رہے۔ آپ بلا شبہہ اپنے تلامذہ و مریدین اور دیگر افرادِ ملّت کی پُرسوز اصلاح و تربیت کرنے والے ایک باوقار مبلّغ و مصلح اور قابلِ رشک معلّمِ اخلاق تھے۔ آپ نے اپنی اصلاحی کاوشوں سے بیشمار گم گشتگانِ راہ کو جادہء مستقیم پر گامزن فرمایا اور اپنے مصلحانہ افکار و کردار سے ان گنت افراد کے سینوں میں قندیلِ ہدایت روشن کرکے ان کے ظاہر و باطن کو منور و تابناک کیا۔
دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ امّت آپ کی دبستانِ حیات کا ایک مستقل باب اور نہایت زرّیں عنوان ہے، آپ کی حیات کے اس درخشاں باب نے انفس و آفاق کی اندھیری دنیا میں جو اجالا پھیلا ہے، اس کا عملی مشاہدہ کرنے والے آج بھی ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ آپ کی ہمہ جہت دینی ، ملّی ، علمی، تحریری ، تعمیری اور تبلیغی خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ آپ کی حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ دین و مذہب کی تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کے لیے وقف تھا۔ اصلاحِ افکار و اعمال کے لحاظ سے آپ ایک عہد ساز اور انقلاب آفریں شخصیت کے مالک تھے، جس کے بیشمار تاریخی شواہد موجود ہیں۔
آپ کی ملّی خدمات کی تابندہ مثال ” الجامعہ الاشرفیہ مبارک پور” ہے ، جو گذشتہ نصف صدی کے زائد عرصے سے علم و دانش اور مذہب و ملت کی ترویج و اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی تعلیمی و تبلیغی مساعی اور اصلاح افکار و اعمال سے متعلق ان کی فکری و عملی کاوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مفکر اسلام، علامہ قمر الزماں خاں اعظمی دام ظلہ لکھتے ہیں:
امام احمد رضا قدس سرہ نے جس شریعتِ اسلامی کی تجدید فرمائی، حافظ ملّت نے اسے عمل کے سانچے میں ڈھال دیا۔ اگر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ملّی درد یکجا متشکل ہوں تو انھیں حافظ ملّت کہنا غلط نہ ہوگا۔ اگر آپ ہندوستان کے دینی ماحول کا جائزہ لیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ حافظ ملّت کی ذات وہ ذات تھی جس نے ہندوستان بھر کے دلوں کی سرزمین کو زندگی بخشی۔حافظ ملت ، ملت اسلامیہ کے ایک عظیم معمار تھے ، جنھوں نے کم و بیش نصف صدی تک اسلامیان ہند کو باطل کے مسلسل حملوں سے بچائے رکھا اور وصال سے قبل ملت کے ارد گرد ایک ایسا حصار قائم کرگئے جو رہتی دنیا تک ناقابلِ شکست رہے گا…………………. قوم کو تعمیری راہ پر لگانے کے لیے زبان و قلم کی توانائیاں صرف کیں اور اس کے اندر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن کرنے کے لیے جسمانی مشقّتیں جھیلیں………………….طلبہ کے اندر زہد و تقویٰ پیدا کرنے کے لیے آپ اپنی فطرت سلیمہ کے مطابق ہمیشہ پابندِ شریعت و سنت رہے۔ لوگ آدابِ شریعت کتابوں میں پڑھ کر جانتے ہیں ، مگر حضور حافظ ملّت کی حیاتِ مقدس دیکھ کر لوگ شریعت کے قوانین و آداب سیکھتے تھے۔
( حافظ ملّت نمبر: ص؛ 334 )
دعوت وتبلیغ اور اصلاحِ افکار و اعمال کے تین اہم ذرائع ہیں:
(1) درس و تدریس ۔۔(2) تصنیف و تالیف۔۔۔(3) وعظ و تقریر
ہر انسان کو بیک وقت یہ تینوں دولت میسر نہیں ہوتی ، مگر قدرت کی فیاضیوں نے حضور حافظ ملّت علیہ الرحمہ کو بیک وقت تینوں اوصاف سے متصف فرمایا تھا۔ آپ تختِ درس و تدریس کے بے تاج بادشاہ تھے اور میدانِ تصنیف و تالیف کے شہسوار ہونے کے ساتھ وعظ و تقریر کے رمز آشنا خطیب و مبلغ بھی تھے۔ آپ نے اپنی کانٹوں بھری دعوتی و تبلیغی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ان تینوں ہتھیاروں سے کام لیا اور فتح و نصرت کے پرچم لہرائے۔ آپ کے تدریسی افادات اور کتب رسائل کی شکل میں تحریری کاوشیں تو محفوظ رہیں ، لیکن آپ کے گراں قدر خطبات و تقاریر طاقِ نسیاں کے حوالے ہوگئیں ۔
اصلاحِ افکار و اعمال کے حوالے سے آپ کی گراں تعلیمات آج بھی ہم سب کے لیے مشعلِ راہ اور نمونہء عمل ہیں۔آپ زندگی کے آخری ایام تک فکری و عملی اعتبار سے دعوت و تبلیغ کے لیے کوشاں رہے اور اصلاحِ معاشرہ کا مقدس فریضہ انجام دیتے رہے ۔۔
چند اقتباسات ملاحظہ کریں اور اصلاحِ افکار و اعمال کے تئیں آپ کے قلبی احساسات اور مچلتے جذبات کا اندازہ لگائیں ۔ دینی تڑپ، ملی درد اور قوم کی دینی و اخروی فلاح و بہبود کا اس سے بہتر جذبہ اور کیا ہوسکتا ہے۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ نے امّت مسلمہ کو سب سے پہلے اخلاص و للّٰہیت اور حسنِ نیّت کے ساتھ مضبوط ایمان اور پختہ عقیدہ اپنانے کی تعلیم دی ہے ۔ اس کے بعد نورِ ایمان ، معیارِ اسلام ، حسن اخلاق ، تقویٰ و پارسائی ، خشیّتِ الٰہی، خوفِ خداوندی، اعمالِ حسنہ اور اجتناب عن المعصیت کی تلقین فرمائی ہے۔ یہاں ہر ایک پر روشنی ڈالنا ممکن نہیں ، اس لیے چند اقتباس پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔
(الف) تمام افعال و اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ۔ جیسی نیت ویسا ہی عمل۔ نیک نیتی سے عمل مقبول ہے، باعث اجر و ثواب ہے۔ بد نیتی سے عمل مردود ہے، موجب عذاب و عتاب ہے۔ قول ہو یا فعل ، اخذ ہو یا ترک ، از قبیل عبادات ہو یا معاملات ، کسی عمل پر بھی اجرو ثواب کا حصول ،حسن نیت پر موقوف ہے ۔ اصول دین میں یہ اصلِ عظیم ” اصل الاصول” ہے۔
( معارف حدیث؛ ص: 5)
دین و دنیا کی سعادت اور دارین کی فلاح و بہبود اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ پہلے اپنے دل میں ایمان و اسلام کو راسخ کر لے اور دل کے آئینے کو نور ایمان سے منور و مجلّٰی کرلے۔
اس حوالے سے حافظ ملّت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
(ب) نور ایمان سے جب مومن کا دل جگمگا اٹھتا ہے تو اس کا پاکیزہ اثر روحانیت پر اس درجہ پڑتا ہے کہ روح مرتبہء کمال پر پہنچ جاتی ہے ۔ حیوانیت دور اور لوازم بہیمیت کافور ہو جاتے ہیں۔ اس وقت انسان اخلاق حمیدہ سے آراستہ و پیراستہ ہو کر ” انسان کامل” ہوجاتا ہے۔
خدا وند قدوس کی طاعت و عبادت میں خوب لذت پاتا ہے اور پیکر اخلاص بن جاتا ہے۔
( ایضاً؛ ص: 8)
معیارِ ایمان اور تکمیلِ ایمان کیا ہے؟
حافظ ملت کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
(ج) ہر چھوٹے بڑے ، اپنے پرائے ، حتی کہ اپنی جان و مال ،عزت و آبرو ہر شے سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، تکمیلِ ایمان کے لیے ضروری ہے۔ ادائے حقوقِ مصطفیٰ میں جب کوئی طاقت، کوئی بھی قوت سامنے آئے تو اسے پاش پاش کردیا جائے۔
(یضاً؛ ص: 15)
بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چلنے اور قومِ خفتہ کو بیدار کرتے ہوئے اسے اس کا مقصدِ زندگی بتائے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
(د) انسان کا مقصود صرف ذاتِ الٰہی اور خوشنودی ربانی ہے۔ انسانی زندگی اور زندگی کے تمام مراحل و منازل اسی لیے ہیں کہ وہ اپنے مالک و مولیٰ تعالیٰ کی طلب میں کوشاں اور اس کی مرضی کا جویاں رہے……………….. مسلمان خدا سے ڈریں ، صرف خدا سے ڈریں ، خدا کے سوا کسی سے نہ ڈریں ۔ غیرت الٰہی کو یہ ہرگز گوراہ نہیں کہ اس کا بندہ ہو کر، اس کا پرستار ہو کر ، وہ اس کے سوا کسی اور سے ڈرے۔ جب سے مسمانوں نے خدا سے ڈرنا چھوڑا،ساری دنیا سے خوف زدہ ہیں۔۔
( ایضاً؛ ص: 53)
”اجتناب عن المعصیت” ، طاعات و عبادات سے بڑھ کر ہے۔ نیک اعمال و افعال کی انجام دہی کے ساتھ گناہوں کا ارتکاب ، موجبِ ہلاکت اور بد بختی کی علامت ہے۔ اجتناب عن المعصیت ، ہر قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔ اس حوالے سے قوم مسلم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوتے آپ رقم طراز ہیں:
(ہ) عبادتِ الٰہی بڑی چیز ہے۔ فلاحِ دارین اور عزت کونین کا باعث ہے۔ خوشنودیِ خداوندی ورضائے مولیٰ کا سبب ہے۔ بڑی نعمت، بڑی دولت ہے۔ اس کے فوائد گنتی و شمار سے باہر ہیں۔ لیکن عبادت سے بھی اہم فرض ” اجتناب عن المعصیت” ہے ۔ خداوند قدوس کی نافرمانی سے بچنا عبادت پر مقدم ہے۔
( معارفِ حدیث؛ ص: 90)
دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت ہر قسم کی برائیوں کی جڑ ہے۔ فنا ہو جانے والی چیزوں سے دل لگانا حماقت اور بیوقوفی ہے۔ آج لوگوں نے دنیاوی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے، جو بہت بڑی غلطی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل زندگی ،اخروی زندگی ہے۔دنیا کی نیکی آخرت میں کام آئے گی۔اس حقیقت سے امت مسلمہ کو متنبہ کرتے ہوئے بڑے مصلحانہ انداز میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:
(و) عزیزو ! دنیا فانی ہے ، ناپائیدار ہے۔ آخرت باقی ہے،ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ دنیا کی زندگی بے ثبات ہے،ختم ہونے والی ہے۔ آخرت کی زندگی جاودانی ہے۔ دنیا میں انسان آخرت کے لیے آیا ہے۔اس جاودانی زندگی کا سامنا کرنا ہے ۔ اسی لیے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الدنیا مزرعہ الاٰخرہ ” دنیا،آخرت کی کھیتی ہے۔ یہاں کی نیکی وہاں کام آئے گی۔ آخرت کی منزل کٹھن ہے۔
(ایضاً ؛ ص: 56)
مندرجہ بالا تحریروں سے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی ملی ہمدردی؛ قومی خیر خواہی اور اصلاح افکار و اعمال کے حوالے سے ان کا فکری اضطراب روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج آپ کی اس حیات بخش تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق بخشے ، آمین۔