فلم جے بھیم اس وقت بھارتی مین اسٹریم کی چرچا میں ہے، برہمن منو۔وادی میڈیا اس کے خلاف زوروشور سے پروپیگنڈا کررہاہے اور فاشسٹ ذہنیت کے سَنگھی اس سے تلملائے ہوئے ہیں، آن لائن فلموں کے اِس دور میں جبکہ فحاشیت / Sexual Crime اور دیگر جرائم کو فروغ دینے والی فلمیں بنانے کا چلن عام ہورہا ہے اور منو وادی سوچ کی سرکاريں ان کی سرپرستی بھی کر رہی ہیں اچانک ایک فلم کے خلاف ان تمام فاشسٹ برہمنوں کا متحد ہوجانا دلچسپی سے خالی نہیں ہے، لگتا ہے اب کے بھارت میں کوئی کام کی فلم بن گئی ہے
فلم جے بھیم ۱۹۹۳ کے دور میں تمل ناڈو میں رونما ہونے والے ایک حقیقی واقعے سے مربوط فلم ہے، یہ فلم بنیادی طورپر پسماندہ ذاتوں کے قبائیلی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، یہ فلم ہندوستان میں آدی واسیوں کےساتھ ہورہے انسانیت سوز سلوک کو واشگاف کرتی ہے، اور یہ فلم ایکسپوز کرتی ہے کہ کس طرح بھارتی سسٹم میں ذات پات کے جراثیم اندر تک سرایت کیے ہوئے ہیں اور انسانیت کی حفاظت کے لیے تشکیل کردہ پولیس فورسز کیسے یہاں پر نچلی ذاتوں کےساتھ جانوروں سے بھی بدتر معاملات کرتے ہیں ۔
فلم جے بھیم کی بنیادی زبان تمل ہے اور اس میں مرکزی کردار جنوبی ہند کے اداکار سوریا نے ادا کیا ہے، اس کے ہدایتکار ٹی۔جے گنانویل ہیں، اس میں پولیس کی درندگی کے شکار ہونے والے آدی واسیوں کی قابلِ رحم زندگیوں کو فلمایا گیا ہے، فلم کی کہانی راج کنّا اور سنگنی کے اردگرد ہے، اس میں سماجی
رضاکاروں / سوشل ایکٹوسٹوں کی مثبت جدوجہد کو بھی فلمایا گیا ہے، فلم میں ایک معلم / ٹیچر کے ہمہ جہت رول کو بھی سبق آموز انداز میں فلمایا گیا ہے، کمزوروں اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے مناظر میں جابجا سرخ جھنڈوں کو بھی دکھلایا گیا ہے جس کے ذریعے بھارت میں مزدوروں کو انصاف دلانے کی تحریک کے ذریعے جڑ بنانے والی کمیونسٹ تحریکات کی تاریخ کی طرف اشارہ بھی ہے
فلم جے بھیم میں پولیس کی، ساہوکاروں زمینداروں اور اعلیٰ ذات کے سرپنچوں سے غلامی کو دکھلایا گیا ہے، جنہیں آج کی زبان میں آپ کارپوریٹ اہلِ مال کی غلامی سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں، پولیس اعلیٰ ذاتوں کی غلامی میں دیگر انسانوں کے ساتھ کس قدر کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر سلوک کرتی ہے ان دل دہلا دینے والے حقائق سے یہ فلم پردہ اٹھاتی ہے،
اور بھارتی سماج کی ستم ظریفی یہ ہےکہ یہ بالادست ذہنیت کے حامل اعلیٰ ذات والے نچلی ذاتیوں کو آج بھی ہزاروں سوتیلے سلوک اور بنیادی مذہبی و شہری حقوق سے محروم کرکے بھی ہندو باور کرائے ہوئے ہیں فلم جے بھیم گاؤں دیہاتوں کے انہی سادہ لوح غریبوں اور مزدوروں کی جہنم زدہ زندگی کو فلماتی ہے، یہ فلم منظر کشی کرتی ہےکہ یہ غریب مزدور جوکہ بھارت کے ” مول نواسی ” ہیں وہ اپنے مالکان کے تئیں کس قدر وفادار اور سعادت مند ہوتے ہیں البتہ اُن کے مالکان انہیں اس قدر ناپاک اور اچھوت سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے پاس بٹھانا یا ہاتھ لگانا بھی گھناؤنا تصور کرتےہیں
فلم جے بھیم میں جو دکھایا گیا ہے وہ صرف ایک مظلوم آدی واسی کی روح فرسا داستان ہے جوکہ جمہوریت والے بھارتی سسٹم میں منو وادی عناصر کے طریقۂ کار کو واضح کرتی ہے وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ طبقاتی جہنم کا عذاب ڈیموکریسی کےباوجود دلتوں اور آدی واسیوں کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے
*” کیا یار ! ہم تو ایک سرٹیفکیٹ / کاغذ بنوانے آئے تھے، اس نے تو ہم سے ہی دس سرٹیفکیٹ مانگ لیے "* یہ محض فلم کا ایک ڈائیلاگ نہیں بلکہ یہ بھارتی سسٹم میں منو وادی نظام کی چالاک ذہنیت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ کس طرح مول نواسی یہاں پر آریائی چالوں کےذریعے حق شہریت سے لے کر پیدائشی انسانی حقوق تک سے محروم کردیے گئےہیں ۔
فلم کے اخیر میں سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے اور انسانیت کے لیے محنت کرنے والے رضاکاروں کے لیے یقینًا امید کی کرنیں دکھلائی گئی ہیں لیکن درحقیقت ہمیں سورج کی ضرورت ہے
بھارتی پولیس محکمے کا جو وحشیانہ چہرہ اس میں پیش کیاگیاہے وہ بھی صرف ایک جھلک ہے ورنہ ہمارے یہاں کے پولیسیا مظالم کی تفصیلات ایسی ہیں کہ اگر انہیں عام کردیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور ڈرائکولا بھی شرمندہ ہوجائے
فلم جے بھیم بنیادی طورپر تمل/ساؤتھ فلم انڈسٹری کی شاہکار اور مفید پیشکش ہے، یہ انصاف کی لڑائي لڑنے والی ایک عام عورت کی عزم و ہمت کی سبق آموز داستان ہے، طاقت اور پیسے کے سامنے اگر جراتمندانہ جہدمسلسل ہو تو سچائی کی ہی جیت ہوتی ہے، بہترین ہدایتکاری، منظر کشی اور اداکاری نے اس میں کرداروں کا حق ادا کردیاہے، اور یقینًا منو۔وادیوں کی انڈسٹری ایسی فلم پيش نہیں کرسکتی تھی،
ضرورت ہے کہ آدی واسیوں پر ہورہے ظلم و ستم اور ان کے لیے ڈیموکریٹک سسٹم میں ہی چل رہے ایک اور طبقاتی سسٹم کو واشگاف کیا جائے، ہر زبان میں ان مظالم کو عام کیا جائے، ہم مسلمان ابھی گرچہ سَنگھ کے راڈار پر ہیں اور ہندوستان میں اسلاموفوبیائی نفرت کے شکار ہیں لیکن مظلوموں، کمزوروں اور حقوق سے محروم انسانوں کے لیے لڑنے کا ہمارا شعار ابھی بھی زندہ ہے استعماری طاقتوں کےخلاف انسانوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اسلام روزِ اول سے ہی ضامن ہے اور مسلمان اس کے لیے آج بھی پابندِ عہد ہیں
فلم جے بھیم برادرانِ وطن کی نئی نسل تک ضرور پہنچائی جانی چاہیے، جو حقیقت اس فلم میں دکھلائی گئی ہے ایسے زہرہ گداز حقائق کی ڈاکیومینٹری مزید عام ہونی چاہیے کہ، آدی واسیوں اور دلتوں کو گرچہ آج ہندو ہونے کا جھانسہ دیا جارہاہے مگر ان پر ہورہے مظالم کی جڑیں صدیوں قدیم، منو وادیوں کی سیاہ تاریخ اور تاریک کتابوں میں پیوستہ ہے_
✍: سمیع اللہ خان
ksamikhann@gmail.com