دہلی خواتین کمیشن نے پولس کے نام بھیجا سمن
دہلی خواتین کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے کل جے این یو کیمپس کے اندر طالبات پر ہوئے حملے کو لے کر پولس کو سمن بھیجا ہے۔
Delhi Commission for Women Chief Swati Maliwal issues summons to Police over assault on female students inside the JNU campus yesterday. #JNUViolence pic.twitter.com/vbJyZLrpdJ
— ANI (@ANI) January 6, 2020
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے تشدد کا ذمہ دار طلبا کو ہی ٹھہرا دیا
ایک طرف سیاسی و سماجی شخصیتیں جے این یو طلبا کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں اور دوسری طرف مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے جو طلبا کے ہی خلاف ہے۔ انھوں نے واقعہ کی تو مذمت کی ہی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ’’لیفٹ وِنگ طلبا جے این یو کو بدنام کر رہے ہیں، انھوں نے یونیورسٹی کو غنڈہ گردی کے سنٹر میں بدل دیا ہے۔‘‘ گری راج سنگھ نے اس طرح کے واقعات کے لیے سیاسی لیڈروں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
Union Minister Giriraj Singh on #JNUViolence: Left students are defaming Jawaharlal Nehru University (JNU), they have turned the University into a centre of hooliganism. pic.twitter.com/AmjPiEnB3r
— ANI (@ANI) January 6, 2020
سابرمتی ہاسٹل کے سینئر وارڈن آر. مینا نے دیا استعفیٰ
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابرمتی ہاسٹل کے سینئر وارڈن آر مینا نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے پیش کردہ استعفیٰ نامہ میں کہا ہے کہ ’’ہم نے کوشش کی، لیکن ہاسٹل کو سیکورٹی نہیں دے سکے۔‘‘ دراصل نقاب پوش غنڈوں نے سابرمتی ہاسٹل میں ہی گھس کر طلبا و طالبات پر لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کیا تھا۔ اس حملہ میں کم و بیش 3 درجن اسٹوڈنٹس زخمی ہوئے تھے جنھیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
R. Meena, senior warden of Sabarmati Hostel of Jawaharlal Nehru University (JNU) has resigned stating, 'we tried but could not provide security to hostel.' #JNUViolence pic.twitter.com/9K68Fe1LIX
— ANI (@ANI) January 6, 2020
کچھ حملہ آوروں کی ہوئی شناخت، جانچ کرائم برانچ کے حوالے
جے این یو میں ہوئے طالب علموں پر حملہ سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے کے بعد کرائم برانچ نے اپنی جانچ شروع کر دی ہے۔ اس درمیان پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ نقاب پوش حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے۔ پولس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ جانچ کی کارروائی میں آسانی پیدا ہو۔
ایف آئی آر درج کرنے کے بعد پولس کی ایک ٹیم جے این یو پہنچی، سی سی ٹی وی فوٹیج مانگے
جے این یو تشدد معاملہ میں پولس نے آف آئی آر درج کر لیا ہے اور یونیورسٹی پہنچ کر پولس نے ذمہ داران سے سی سی ٹی وی فوٹیج حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساؤتھ-ویسٹ کے ڈی سی پی دیویندر آریہ نے اس سلسلے میں میڈیا کو بتایا کہ جانچ جاری ہے اور قصورواروں کو جلد سزا ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ جانچ آگے بڑھے گی اور ضرورت پڑنے پر طلبا سے بھی واقعہ کی جانکاری لی جائے گی۔
Devendra Arya,DCP (South-West): We have taken cognizance of yesterday's #JNUViolence and have registered an FIR. Social media and CCTV footages will be part of investigation. pic.twitter.com/Nyfl4YCBTb
— ANI (@ANI) January 6, 2020
طلبا پر حملہ نے کئی ایسے سوال کھڑے کیے جن کے جواب کے لیے جانچ ضروری: کپل سبل
جے این یو میں طلبا پر ہوئے حملے پر کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے کہا کہ ’’نقاب پوش لوگوں کو کیمپس میں کیسے گھسنے دیا گیا؟ وائس چانسلر نے کیا کیا؟ پولس باہر کیوں کھڑی تھی؟ وزیر داخلہ کیا کر رہے تھے؟ یہ سبھی سوال ایسے ہیں جن کے جواب نہیں ملے ہیں۔ یہ ایک واضح سازش ہے، جانچ کی ضرورت ہے۔‘‘
Kapil Sibal,Congress on #JNUViolence: How were masked people allowed to enter the campus? What did the Vice Chancellor do? Why was Police standing outside? What was the Home Minister doing? All these questions are unanswered. This is a clear conspiracy,investigation needed. pic.twitter.com/y4SkGfYOaZ
— ANI (@ANI) January 6, 2020
ممبئی: گیٹ وے آف انڈیا پر طلبا نے جے این یو واقعہ کے خلاف کیا مظاہرہ
جے این یو میں طلبا و طالبات پر ہاسٹل میں گھس کر کیے گئے حملہ کے بعد ملک کی کئی یونیورسٹیوں کے طلبا سڑکوں پر اتر پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر بھی اتوار کی دیر رات سے ہی سینکڑوں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس مظاہرہ کر رہے ہیں اور دہلی پولس کے خلاف بینر لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
Mumbai: Students continue to protest outside Gateway of India against yesterday's violence in Jawaharlal Nehru University (JNU). #Maharashtra https://t.co/6uNb1f9iZR pic.twitter.com/6p2sikQLgl
— ANI (@ANI) January 6, 2020
وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے رجسٹرار، پراکٹر اور ریکٹر کو کیا طلب
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اتوار کی شام کچھ نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ ہاسٹل میں گھس کر طالبات پر کیے گئے حملہ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ رات بھر دہلی پولس اور پی ایم نریندر مودی و وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نہ صرف جے این یو کے طلبا و اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے بلکہ ان کا ساتھ دینے کے لیے دہلی میں موجود سبھی یونیورسٹیوں و کالج کے طلبا و اساتذہ دیر رات تک دھرنا و مظاہرہ کرتے رہے۔ پولس کی موجودگی میں جے این یو میں نامعلوم غنڈوں کی غنڈہ گردی اور ہنگاموں کے پیش نظر وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے سکریٹری نے جے این یو کے رجسٹرار، پراکٹر اور ریکٹر کو اپنے دفتر مین طلب کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رات بھر جے این یو میں طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ، دہلی پولس اور پی ایم مودی کے خلاف نعرے بازی کی اور ایک بار پھر بڑی تعداد میں طلبا آئی ٹی او واقع پولس ہیڈکوارٹر پر جمع ہو کر اپنا احتجاج کرنے لگے۔ مختلف سیاسی ہستیوں نے جے این یو واقعہ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر طلبا یونیورسٹی کیمپس میں محفوظ نہیں ہیں تو پھر آخر کہاں محفوظ رہیں گے۔
اس درمیان دہلی پولس نے میڈیا کو جانکاری دی ہے کہ بہت جلد جے این یو واقعہ سے متعلق کیس درج کیا جائے گا۔ پولس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جے این یو سے متعلق کئی شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور جلد ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
Delhi Police: We have received multiple complaints in connection with yesterday's violence in Jawaharlal Nehru University (JNU). We will soon register FIR.
— ANI (@ANI) January 6, 2020
Delhi: Latest visuals from Jawaharlal Nehru University (JNU) main gate. Violence broke out in the campus yesterday evening in which more than 20 people were injured. pic.twitter.com/45Zmv8Pnm2
— ANI (@ANI) January 6, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
