ممبئی: گیٹ وے آف انڈیا پر طلبا نے جے این یو واقعہ کے خلاف کیا مظاہرہ
جے این یو میں طلبا و طالبات پر ہاسٹل میں گھس کر کیے گئے حملہ کے بعد ملک کی کئی یونیورسٹیوں کے طلبا سڑکوں پر اتر پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر بھی اتوار کی دیر رات سے ہی سینکڑوں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس مظاہرہ کر رہے ہیں اور دہلی پولس کے خلاف بینر لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
Mumbai: Students continue to protest outside Gateway of India against yesterday's violence in Jawaharlal Nehru University (JNU). #Maharashtra https://t.co/6uNb1f9iZR pic.twitter.com/6p2sikQLgl
— ANI (@ANI) January 6, 2020
وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے رجسٹرار، پراکٹر اور ریکٹر کو کیا طلب
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اتوار کی شام کچھ نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ ہاسٹل میں گھس کر طالبات پر کیے گئے حملہ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ رات بھر دہلی پولس اور پی ایم نریندر مودی و وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نہ صرف جے این یو کے طلبا و اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے بلکہ ان کا ساتھ دینے کے لیے دہلی میں موجود سبھی یونیورسٹیوں و کالج کے طلبا و اساتذہ دیر رات تک دھرنا و مظاہرہ کرتے رہے۔ پولس کی موجودگی میں جے این یو میں نامعلوم غنڈوں کی غنڈہ گردی اور ہنگاموں کے پیش نظر وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے سکریٹری نے جے این یو کے رجسٹرار، پراکٹر اور ریکٹر کو اپنے دفتر مین طلب کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رات بھر جے این یو میں طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ، دہلی پولس اور پی ایم مودی کے خلاف نعرے بازی کی اور ایک بار پھر بڑی تعداد میں طلبا آئی ٹی او واقع پولس ہیڈکوارٹر پر جمع ہو کر اپنا احتجاج کرنے لگے۔ مختلف سیاسی ہستیوں نے جے این یو واقعہ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر طلبا یونیورسٹی کیمپس میں محفوظ نہیں ہیں تو پھر آخر کہاں محفوظ رہیں گے۔
اس درمیان دہلی پولس نے میڈیا کو جانکاری دی ہے کہ بہت جلد جے این یو واقعہ سے متعلق کیس درج کیا جائے گا۔ پولس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جے این یو سے متعلق کئی شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور جلد ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
Delhi Police: We have received multiple complaints in connection with yesterday's violence in Jawaharlal Nehru University (JNU). We will soon register FIR.
— ANI (@ANI) January 6, 2020
Delhi: Latest visuals from Jawaharlal Nehru University (JNU) main gate. Violence broke out in the campus yesterday evening in which more than 20 people were injured. pic.twitter.com/45Zmv8Pnm2
— ANI (@ANI) January 6, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
