جے این یو تشدد LIVE : تفتیش کے لیے کانگریس کے ذریعہ تشکیل کردہ کمیٹی کی میٹنگ آج

جے این یو حملہ کی جانچ کے لیے تشکیل کانگریس کمیٹی کی میٹنگ آج

جے این یو تشدد کی جانچ کے لیے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ذریعہ تشکیل چار رکنی کمیٹی آج میٹنگ کرنے والی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق میٹنگ آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہوگی۔ کمیٹی جے این یو تشدد معاملے میں ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ سونپے گی۔


جے این یو کے صدر دروازے پر پولس کا سخت پہرہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے صدر دروازے پر پولس کا سخت پہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پولس اہلکار پوری طرح مستعد نظر آ رہے ہیں اور یونیورسٹی کے اندر یا باہر ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس درمیان مختلف ریاستوں میں طلبا کے ذریعہ جے این یو طلبا پر حملہ کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ دوسری طرف پولس بھی اس حملہ کی تفتیش اپنے طور پر کر رہی ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ کچھ نقاب پوش حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے لیکن ابھی تک کسی کا نام سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔


گیٹ وے آف انڈیا پر مظاہرہ کرنے والے طلبا کو پولس نے آزاد میدان منتقل کیا

ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر جو طلبا جے این یو حملہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے انھیں پولس نے وہاں سے ہٹا کر آزاد میدان منتقل کر دیا ہے۔ اس درمیان مظاہرین طلبا نے وہاں سے ہٹنے سے منع کر دیا لیکن پولس نے انھیں وہاں سے اٹھا کر گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔ مظاہرین اس درمیان جے این یو طلبا پر ہوئے حملے کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے۔


’ہندو رکشا دَل‘ نے جے این یو تشدد کی ذمہ داری لی، کہا ’ضرورت پڑی تو آگے بھی ہوگا ایسا‘

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کے روز طلبا و طالبات پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ حملہ کا معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ پورے ملک میں طلبا کا احتجاج جاری ہے اور سیاسی و سماجی ہستیوں کے ذریعہ لگاتار اس سلسلے میں بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس درمیان طلبا پر ہوئے حملے کی ذمہ داری ’ہندو رَکشا دَل‘ نے لے کر ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس ہندو تنظیم نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جے این یو میں اتوار کو ہوئی مار پیٹ انہی کے کارکنان نے کی ہے۔

ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے ان کے کارکنان تھے اور آگے بھی وہ جے این یو میں ملک مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پنکی چودھری نے کہا کہ اگر ملک مخالف سرگرمیاں اس یونیورسٹی میں آگے بھی دیکھنے کو ملیں تو ایک بار پھر اسی طرح کی کارروائی ہوگی۔ حالانکہ اس سلسلے میں دہلی پولس نے ابھی کچھ بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading