جے این یو حملہ کی جانچ کے لیے تشکیل کانگریس کمیٹی کی میٹنگ آج
جے این یو تشدد کی جانچ کے لیے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ذریعہ تشکیل چار رکنی کمیٹی آج میٹنگ کرنے والی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق میٹنگ آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہوگی۔ کمیٹی جے این یو تشدد معاملے میں ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ سونپے گی۔
A four member fact finding committee formed by Congress interim President Sonia Gandhi on JNU violence issue is scheduled to meet today at Congress office. They have to submit their report in a week pic.twitter.com/xr0ZYBcL0O
— ANI (@ANI) January 7, 2020
جے این یو کے صدر دروازے پر پولس کا سخت پہرہ
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے صدر دروازے پر پولس کا سخت پہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پولس اہلکار پوری طرح مستعد نظر آ رہے ہیں اور یونیورسٹی کے اندر یا باہر ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس درمیان مختلف ریاستوں میں طلبا کے ذریعہ جے این یو طلبا پر حملہ کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ دوسری طرف پولس بھی اس حملہ کی تفتیش اپنے طور پر کر رہی ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ کچھ نقاب پوش حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے لیکن ابھی تک کسی کا نام سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
Delhi: Police personnel outside main gate of Jawaharlal Nehru University. Violence had broken out in the campus on January 5 in which more than 30 people were injured. #JNUViolence pic.twitter.com/D4zRYHzRGk
— ANI (@ANI) January 7, 2020
گیٹ وے آف انڈیا پر مظاہرہ کرنے والے طلبا کو پولس نے آزاد میدان منتقل کیا
ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر جو طلبا جے این یو حملہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے انھیں پولس نے وہاں سے ہٹا کر آزاد میدان منتقل کر دیا ہے۔ اس درمیان مظاہرین طلبا نے وہاں سے ہٹنے سے منع کر دیا لیکن پولس نے انھیں وہاں سے اٹھا کر گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔ مظاہرین اس درمیان جے این یو طلبا پر ہوئے حملے کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے۔
Mumbai: Protesters(protesting against #JNUViolence) at Gateway of India evicted by Police and relocated to Azad Maidan. (earlier visuals) pic.twitter.com/llYz0OAfYD
— ANI (@ANI) January 7, 2020
’ہندو رکشا دَل‘ نے جے این یو تشدد کی ذمہ داری لی، کہا ’ضرورت پڑی تو آگے بھی ہوگا ایسا‘
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کے روز طلبا و طالبات پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ حملہ کا معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ پورے ملک میں طلبا کا احتجاج جاری ہے اور سیاسی و سماجی ہستیوں کے ذریعہ لگاتار اس سلسلے میں بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس درمیان طلبا پر ہوئے حملے کی ذمہ داری ’ہندو رَکشا دَل‘ نے لے کر ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس ہندو تنظیم نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جے این یو میں اتوار کو ہوئی مار پیٹ انہی کے کارکنان نے کی ہے۔
ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے ان کے کارکنان تھے اور آگے بھی وہ جے این یو میں ملک مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پنکی چودھری نے کہا کہ اگر ملک مخالف سرگرمیاں اس یونیورسٹی میں آگے بھی دیکھنے کو ملیں تو ایک بار پھر اسی طرح کی کارروائی ہوگی۔ حالانکہ اس سلسلے میں دہلی پولس نے ابھی کچھ بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
Watch this video.
This guy associated with Hindu Raksha Dal has taken responsibility of JNU attack and said that his organisation will keep doing such attacks in future too if people will speak against Hindu religion.
#JNUTerrorAttack #ABVP_TERRORISTS #JNUattack pic.twitter.com/zWLYrs4Aad
— Md Asif Khan آصِف (@imMAK02) January 6, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
