جے این یو میں طلبا پر ہوئے حملے اور توڑ پھوڑ سے متعلق دہلی ہائی کورٹ میں پیر کے روز سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے حملے سے جڑے ویڈیوز کو لے کر گوگل، ایپل اور وہاٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ جے این یو حملے سے متعلق سبھی ویڈیوز وہ محفوظ رکھیں۔ جے این یو کے تین پروفیسروں کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے یہ نوٹس بھیجا ہے۔
Correction: Delhi High Court issues notice to Apple*, Whatsapp, Google on petition of three JNU professors seeking to preserve CCTV footage, whatsapp conversations and other evidences related to January 5 violence at the University campus https://t.co/kN1Emjll0Y pic.twitter.com/kWZSljetxe
— ANI (@ANI) January 13, 2020
جے این یو پروفیسروں نے 5 جنوری کو جے این یو میں ہوئے حملے کے متعلق جمعہ کو ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے حملے سے جڑے ڈاٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ثبوتوں کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ تشدد کے وقت واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئی طرح کے ویڈیوز اور تصویریں وائرل ہوئی تھیں جن میں کئی تشدد کرنے والے بھی تھے اور ان ویڈیوز سے ان کی شناخت ہو سکتی ہے۔
جے این یو کے پروفیسر امت پرمیشورن، اتل سود اور شکل ونایک ساونت کی عرضی کی سماعت کے دوران دہلی پولس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے پہلے ہی 5 جنوری کو ہوئے تشدد کے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگے تھے، لیکن یونیورسٹی سے کوئی جواب نہیں ملا۔
غور طلب ہے کہ 5 جنوری کو جے این یو میں درجنوں نقاب پوش حملہ آوروں نے کیمپس میں ہاسٹل کے اندر گھس کر لڑکے و لڑکیوں کی بے رحمی سے پٹائی کر دی تھی۔ کیمپس میں بھی انھوں نے خوب توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس حملے میں جے این یو طلبا یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-