
ایمریٹس ایئرلائن نے کہا ہے کہ جہاز پر سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندی کرنا غیر حقیقی ہے، ایسا کرنا ایئر لائن کو بہت مہنگا پڑے گا۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس نے کہا ہے کہ مسافروں کو ایک سیٹ چھوڑ کر بٹھانے سے اخراجات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے جو ایئر لائن کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔
ایمریٹس کے کورپوریٹ کمیونیکیشن کے سربراہ بطرس بطرس نے دبئی میں جاری کاروباری کانفرس سے خطاب میں کہا کہ جہاز میں سماجی فاصلہ رکھنے کی بحث اچھی ہے لیکن ایمریٹس معمول کے مطابق فلائٹ آپریشن بحال کرنا چاہے گا
انہوں نے کہا کہ جہاز کی معیشت کا انحصار اس کی سیٹیں بھرنے پر ہوتا ہے، مسافروں کے درمیان سیٹ چھوڑنا ممکن نہیں ہے، جب تک کہ مسافر خود خالی سیٹ کا کرایہ نہ ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت ہماری خواہشات کے برعکس ہوتی ہے۔کورونا کے بعد سے ایمریٹس اپنے کل ملازمین کا دسواں حصہ نوکری سے برطرف کر چکا ہے، جو پندرہ فیصد یعنی 9 ہزار نوکریوں تک بڑھ سکتا ہے۔کورونا سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے قبل ایمریٹس کے پاس 60 ہزار اہلکاروں کا عملہ تھا جس میں 4 ہزار 300 پائلٹ اور تقریباً 22 ہزار کیبن کریو شامل تھا۔ایمریٹس کے صدر ٹم کلارک نے کہا کہ ایئرلائن کے آپریشن کچھ حد تک معمول پر آنے میں چار سال تک کا عرصہ لگے گا۔