لکھنو ، 7 مارچ. (پی ایس آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی میں رہنما اور رکن اسمبلی کے درمیان ہوئے جوتا وار کو لے کر پارٹی کی فضیحت ہونے لگی ہے. اپوزیشن اس واقعہ کو لے کر مسلسل طنز کس رہا ہے. سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں اس سے یہی سب ہوگا جو ہو رہا ہے. ستکبیرنگر میں بی جے پی کے رہنما شرد ترپاٹھی اور بی جے پی ممبر اسمبلی راکیش سنگھ بگھیل کے درمیان تنازعہ پر اکھلیش یادو نے کہا کہ جب ملک کے وزیر اعظم کہتے ہیں ‘گھر میں گھس کے ماروں’، اور سی ایم یوگی ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں ‘ٹھوکو’. جب پی ایم اور سی ایم ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیں، جس کا استعمال جمہوریت میں نہیں ہونا چاہئے تو وہی ہوگا جو ہو رہا ہے. اس سے پہلے اکھلیش یادو نے جمعرات کو اس معاملے پر ٹویٹ کیا. اکھلیش نے لکھا، ‘اب حکمراں کہہ رہے ہیں کہ رافیل کی فائل چوری ہو گئی. پہلے معافی مانگی کورٹ میں گرائمر پر، پھر شرمندگی ہوئی بی جے پی کے ایم پی-ایم ایل اے جی کے جوتے کے طرزعمل پر. بی جے پی کا کارکن اپنے رہنماو¿ں سے پوچھ رہا ہے کیا یہی مسئلہ لے کر عوام کے درمیان جائیں گے، عوام کو بھلا ہم کیا منہ دکھائیں گے. ‘ آپ کو بتا دیں کہ بدھ کو یوپی کے سنت کبیرنگر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم پی شرد ترپاٹھی اور مےہداول اسمبلی سیٹ سے بی جے پی ممبر اسمبلی راکیش سنگھ کے درمیان ایک پروگرام کے دوران جم کر مار پیٹ ہوئی تھی. دونوں کے درمیان یہ تنازعہ نیم پلیٹ میں بی جے پی کے رہنما ششرد ترپاٹھی کا نام نہ ہونے کے بعد شروع ہوا. الزام ہے کہ رہنما شرد ترپاٹھی نے جوتا نکال لیا اور بی جے پی ممبر اسمبلی کی جم کر پٹائی کی. حیرانی والی بات تو یہ ہے کہ اس دوران موقع پر یوگی سرکار کے وزیر آشوتوش ٹنڈن بھی موقع پر موجود تھے.