بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کے معروف اسلامی اسکالر اور کثیرالجہات شخصیت کے مالک ڈاکٹرمحمود حسن الہ آبادی کے بعد از مرگ شائع شدہ دو کتابوں ادباتِ محمود حصہ دوم اور ادبیاتِ محمود حصہ سوم کی گزشتہ دِنوں صنوبر ٹریننگ سینٹر ہال بھیونڈی میں شاندار جشنِ اجراءہوا ۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں تشریف لائے اہلِ علم و ادب سے خطاب کرتے ہوئے صد رِتقریب مومن جانِ عالم رہبر نے فرمایا کے ڈاکٹر محمود حسن بڑی جامع صفات و کمالات کے مالک تھے وہ شدت پسند ضرور تھے لیکن تعمیری و تہزیبی ذہن رکھنے والے انسان تھے مصلحت پسندی سے تو انھیں خدا واسطے کا بیر تھا جو کہنا ہوتا تھا منھ پر کہہ دیا کرتے تھے ۔ مذاکرے کا افتتاح کرتے ھوئے پرنسپل ضیاءالرحمان انصاری نے کہا کہ ڈاکٹر محمود نہ صرف ایک اچھے اور سچّے طبیب تھے بلکہ وہ ایک زبر دست عالمِ دین مدبّر محرر اور مقرر بھی تھے ان کے مضامین تو ایسے ہوتے تھے کہ جنھیں پڑھ کر دل و دماغ روشن ہو جاتاتھا۔ ادبیات محمود دوم کا اجراء ڈاکٹر ظہیر انصاری مدیرِتحریرِنو کے ہاتھوں اور ادبیاتِ محمود سوم کا اجراء ڈاکٹر غلام نبی مومن کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ نظامت کے فرائض سیماب انور نے بحسن و خوبی انجام دیئے ۔
ادبیاتِ محمود دوم پر تجز یہ کرتے ہوئے مولانا امتیاز احمد فلاحی نے کہا ڈاکٹر محمود حسن الہ آبادی ایک عظیم اسلامی اسکالر فلسفی اور کثیرالجہات شخصیت کے مالک تھے وہ نہ صرف اچھے معالج تھے بلکہ قرآن اور حدیث پر گہری نظر بھی رکھتے تھے ۔ ادبیاتِ محمود سوم پر تجز یہ کرتے ہوئے محمد رفیع انصاری نے کہا ڈاکٹر محمود ایک عبقری شخصیت کے مالک تھے یہی نہیں بلکہ ابنِ صفی سے متعلق جتنا جامع اور معلوماتی مضامین انھوں نے لکھے لکھے ہیں دنیا میں کسی اور نے نھیں لکھا۔ جویریہ بنتِ ڈاکٹر محمود حسن نے اپنے والد کی شخصیت خدمات اور فتوحات سے متعلق ایک بہت ہی پُر مغز جامع اور معلوماتی مقالہ پیش کیا جس میں اُس نے یہ بتا یا کہ والد صاحب کو اردو عربی فارسی اور انگریزی زبانوں پر زبر دست عبور تھا جویریہ نے بھی بتایا کہ والد صاحب کبھی نام نمود اور ایوارڈ وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑے وہ تو گوشئہ تنہائی میں رہ کر خدمت قوم و ملت کرنا چاہتے تھے اس کے باوجود بھی انھیں بیشتر ایواڈس سے نوا زہ گیا۔ کامریڈ اسرار احمد انصاری نے یہ عقدہ کھولا کہ ڈاکر صاحب سے ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ آپ کی تحریریں انتہائی جامع بلیغ اور کٹھن ہوتی ہیں لہاذہ انھیں ذرا آسان اور سہل بنا یا کریں تا کہ ہم جیسے کم پڑھے لکھے لوگ بھی ان سے استفادہ کر سکیں تو موصوف نے مسکرا کرفرمایا تھا اسرار میاں یہی مجھ سے نہیں ہوتا۔
کناڈا سے خلیل تمندار کا ویڈیو ٹیپ بھی سنایا گیا جس میں انھوں نے فرمایا تھا ۔ڈاکٹر محمود سے اکثر میری گفتگو بذریہء فون ھوتی تھی انکی باتوں اور لب و لہجے سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کتنے ذہین اور کتنے بڑے فنکار تھے ڈاکٹر ظہیر انصاری نے کہا ڈاکر صاحب کے کئی مضامین تحریرِ نو میں چھپے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد قارئین سوالات اتھا یا کر تے تھے اور وہ ان کے مدلل جوابات بھی دیتے تھے بعد ازاں مفتی حفیظ اللہ حفیظ کا منظوم خراج عقیدت راز پرتاپگھی نے پڑھ کر سنایا مہمانانِ خصوصی میں انصاراحمد انصاری محمد سلیم رحمت اللہ محمد فاضل انصاری ایم ابو بکر مولانا اسعد قاسمی اور محبوب الرحمان ببلو کار پوریٹر وغیرہ نے شرکت فرما کر مذکورہ تقریب کامیابی سے ہم کنار کیا ۔
