جمنا نگر میں احتجاجی اجلاس: ’آئین پر غلط نظر رکھنے والے کامیاب نہیں ہوں گے‘

جمنانگر: ہزاروں لوگوں نے فرقہ واریت، سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں جمنانگر ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے اناج منڈی کے میدان میں احتجاجی اجلاس کرکے بھائی چارہ ایکتا منچ اور مجلس احرار اسلام ہند کے مشترکہ بینر تلے جرنیل سنگھ سانگوان کی صدارت میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یوم شہادت منایا گیا۔

نظامت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جبار پوسوال نے کہا کہ مہاتما گاندھی آخری سانس تک فرقہ واریت کی مخالفت اور ہندو – مسلم اتحاد کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ ناتھو رام گوڈسے نامی قاتل نے گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا اور آج بھی ساورکر اور گوڈسے کے پیروکار اشتعال انگیز تقاریر اور بھاشنوں سے ملک کے اتحاد کو توڑنے کا خونی کھیل کھیل رہے ہیں۔

ورکرزیونین ہریانہ کے بانی شو سنگھ نے احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہر روز پاکستان – پاکستان اور ہندومسلمان کرکے عوام کے مسائل بے روزگاری، تعلیم، صحت، بدعنوانی، مہنگائی اور جرائم وغیرہ سے توجہ بھٹکانے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔

سہارنپور سے ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے آئین پر غلط نظر رکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، اس ملک کی مٹی میں بھائی چارہ ہے جس کو کوئی دنیا کی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ حاجی ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ نفرت کی آگ کی وجہ سے ہی تعلیمی اداروں پر حملہ کرکے نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے اور پولیس و فوج کا بھی فرقہ وارانہ کرن کرکے غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ، اربن نکسل اور غداری کے الزام گھڑ کر جیلوں میں ٹھوسا جا رہا ہے۔ اسی لئے ملک کی خواتین، نوجوان اور کسان – مزدور سڑکوں پر ہیں۔ملک اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتا ہے ۔

منشی مہدی حسن نگلی نے کہا کہ بھارت کی مٹی میں محبت اور احترام ہے، یہاں کے لوگوں کو توڑنے کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، ملک میں لوگوں کو بیدار ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا مستقبل لوگ طے کریں گے، ہم جب ایک ساتھ آئیں گے تبھی اپنے حقوق پر پہرہ دے سکیں گے۔ قاری سعیدالزماں صدر مجلس احرار ہریانہ نے سی اے اے، این پی آر، اور این آر سی کو واپس لینے کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین کے خلاف احتجاج کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوگا اگر حکومت نیند سے بیدار نہیں ہوئی تو!

صدارتی تقریر میں جرنیل سنگھ سانگوان نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے والے لوگ ملک کے دشمن ہیں، ان کے خلاف عوامی تحریک جاری رہے گی، بی جے پی کی حکومتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے گولیوں سے ہلاک ہونے والوں کے لیے یہ ریلی خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ سمراٹ بھائی نے آزادی تھیم پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فاشسٹ قوتوں کے دنیا بھر میں کارناموں کو اجاگر کیا۔

مولانا ولی الدین ولی شمالی نے کہا کہ آج جامعہ کے پرامن مظاہرین پر گولی چلاکر ایک نوجوان نے جو گندی سیاست کی ہے یہ وہی زہر ہے جسے ہمیں اپنی نسلوں سے چاکر رکھنا ہے ،انہیں زہر کی کھیتی والوں سے بچاکر رکھیں۔

احتجاجی اجلاس اور مظاہرہ کو ایڈووکیٹ بلبیر سنگھ، اجمیر سنگھ، مہیپال، دھرم پال سنگھ چوہان، عبدالستار، حافظ لعل دین تیور، صادق چودھری گڑھی ، افضل علی ، قاری محمد اسلام ، محمد انعام، سوہل ساڈھورہ، پما سنار سنگر، اسماعیل وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

کمل براڑا ریاستی صدر بھیم آرمی نے بھی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سی اے اے، اینارسی اور این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر اسلم انصاری، نریش سارن، آس محمد، نور محمد نگلی، فرقان ہدایتی، اسلام، محمد ناظم، علی ہدایتی، راغب، نسیم، مکرم، پروین، قاسم، مستقیم، روشن علی، عاشق چاندپور، ہارون، بھجن لال وغیرہ موجود تھے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading