جماعت اسلامی کے عاشق زار چنو چاچا

بقلم عبد الجلیل صاحب امیر مقامی ناندیڑ

جماعت اسلامی ہند سے وابستگی کے تنظیمی طور پر مختلف درجات زیر تذکرہ رہتے ہیں۔ ہمدرد ،مشفق، کارکن اور رکن ۔ لیکن وصف اور کیفیت کے لحاظ سے ایک درجہ ایسا ہے جو ان سب پر حاوی ہوتا ہے اور یہ درجہ ہے جماعت اسلامی کے عاشق زار کا ۔ یہ نعمت ان درجات کی تفریق کے بغیر کسی کو بھی عطا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے اس جماعت کے دامن کو ہر جگہ اور اور ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک عاشق زار عطا کئے۔ جماعت سے یہ عشق اور والہانہ لگاو مبنی بر عصبیت نہیں بلکہ صحیح تصور دین اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے تابع ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کے بزرگ رکن محمد ابراہیم صاحب ( چنو چاچا ) جماعت کے ایسے ہی عاشق زار تھے ۔ وہ رکن بہت بعد میں ہوے پہلے جماعت کے عاشق زار ہوے۔ جماعت کے یہ مخلص اور بزرگ رکن اپنے عمر کے تقریبا” 84 برس مکمل کر کے گزشتہ رات ڈیڑھ بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

عہدہ اور منصب کے لحاظ سے چنو چاچا کبھی نمایاں نہیں رہے لیکن حلقہ کے مختلف ذمہ داران اور ناندیڑ میں جماعت کے ابتدائی دور کی بزرگ شخصیات سے لے کر جی آئی او کی آج کی نو عمر بیٹیاں اور چلڈرن سرکل کے بچے تک انھیں اپنا سمجھتے رہے۔ وہ دفتر جماعت کے پڑوسی تھے ۔ چاچا کا مکان دفتر جماعت سے متصل ہے ۔ پتہ نہیں فاصلے کی نزدیکی نے انھیں جماعت سے ایسی قربت عطا کی تھی یا ان کے لگاو کے سبب اللہ نے انھیں دفتر کا پڑوسی بنا دیا تھا ۔ بیٹوں نے درمیان میں نقل مکانی کرکے دوسرے محلوں میں انھیں رکھا بھی تو ان کا دل دفتر جماعت ہی میں لگا رہا اور طبیعت کی خرابی اور منع کرنے کے باوجود دفتر آجاتے اور گھنٹوں خدمت کرتے۔ ابتدا ہی سے ذمہ داران جماعت اور وابستگان سے لگاو اور ہر دم دفتر جماعت میں حاضر رہنے کی اس کیفیت کے ضمن میں یہ دلچسپ بات مشہور ھیکہ ایک مرتبہ مقامی امیر کے لئے رائیں تجویز کرتے ہوے بعض رفقاء نے اس وقت بھی ان کا نام تجویز کردیا تھا جب وہ صرف کارکن تھے اور بہت بعد میں رکن ہوے۔
جماعت سے محبت کے اظہار کے مختلف پیرائے ہیں ۔ چاچا کا یہ اظہار محبت افراد جماعت سے محبت نیز دفتر جماعت کی دل وجان سے خدمت کی شکل میں ہوتا رہا۔ بڑوں سے لے کر نوجوانوں تک ہلکی سی حس مزاح کے ساتھ گفتگو ان کی شناخت تھی۔ اب ایسے احباب کم ہوں گے جن کو ان کی جانب سے ملنے والی پایے کی دعوتیں یاد ہوں گی جسے وہ قدم بوسی کہتے تھے۔ ان بے تکلف نشستوں کے بعض ساتھی حفظ الرحمن صاحب اور عبد القدیر صاحب وغیرہ ان سے پہلے اپنے رب کے حضور جا چکے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرماے۔ آمین۔

جماعت سے لگاو کا ایک اظہار نظم اور اطاعت سے بھی ہے۔ گذشتہ اٹھارہ بیس سالوں میں ” سامنے کے بچے ” ان کے امیر بنتے رہے لیکن آپ نے احترام کے ساتھ سب کی اطاعت کی ۔ البتہ جماعت یا دفتر جماعت کے کاموں میں ان کی دانست میں ہونے والے نقصان پر ان کی خفگی اور طیش بڑا دیدنی ہوتا تھا ۔ ایسے موقعوں پر انھیں بڑی حکمت سے ٹھنڈا کرنا پڑتا تھا ۔ خوبی یہ تھی کہ یہ غصہ امیر کی بات کے بعد دھیرے دھیرے رخصت ہوجاتا تھا ۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ جماعت کے نقصان پر کسی سمجھوتہ پر آسانی سے راضی نہ ہوتے تھے۔ بہت لمبے عرصہ تک انھوں نے دفتر جماعت کی دیکھ بھال نگرانی اور اس کے تمام کام رضا کارانہ طور پر ہمہ وقتی کارکن کی طرح کئے ۔ کچھ کام نہ ہو تو دفتر میں بیٹھ کر اخبار بینی اور مطالعہ کر لیتے تھے۔ بہت بعد میں ہمیں یہ احساس ہوا کہ راتوں کو بے وقت نل آنے سے لیکر بجلی اور دیگر مینٹینس کے کام کس طرح عرصہ تک خود بہ خود ہوجایا کرتے تھے۔ ناندیڑ میں جی آئی او کی بچیوں کی سرپرستی گھر کی بیٹیوں کی طرح کرتے رہے۔ چاچا کی شفقت ، خدمت توجہ اور نگرانی کے سبب وہ بے خوف کسی بھی وقت دفتر آیا جایا کرتی تھیں ۔ جن بچیوں کو ریٹائرڈ ہو کر عرصہ ہوا ان کی خیریت آخر تک معلوم کرتے رہے ۔ بچیوں نے بھی انھیں بہت محبتیں دیں ۔
محمد ابراہیم صاحب جماعت کے خلاف کچھ سن نہیں سکتے تھے۔کبھی کبھار بیٹوں میں سے کوئئ کسی موضوع یا افراد جماعت کو لے کر جماعت سے ناراضگی کا اظہار کرتا تو چاچا دو ٹوک کہدیتے تھے کہ جماعت کے بارے میں کچھ نہ کہو یہ میرے لئے آخرت کا سودا ہے۔ آج سے دس روز قبل عید کے دوسرے دن جب میں ان سے ملاقات اور عیادت کو پہنچا تو نقاہت اور کمزوری کے سبب ان سے بولا نہیں جارہا تھا ۔ اس حالت میں بھی جیب میں ہاتھ ڈال کر میرے فرزند کو عیدی دی۔ پھر ایک واقعہ یہ ہوا کہ باتوں باتوں میں میں نے کہا کہ دفتر جماعت پر نگرانی کے لئے متعین برادر شفاعت کو رخصت دے دی گئ تو بہت دیر سے کچھ نہیں بول پا رہے چاچا کے چہرے پر توانائی لوٹ آئی اور فکر مندی سے پوچھنے لگے تو پھر دفتر کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے؟

چنو چاچا نے ساری زندگی سادگی اور خودادری کے ساتھ گزاری۔ وہ شہر کی ایک قدیم فیض العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے عرصہ تک ممبر اور گذشتہ کچھ سالوں سے صدر تھے لیکن اس عرصہ میں انھوں اس ادارہ سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جسے آج شاید جائز بنادیا گیا ہے۔ اگر وہ جماعت کی ٹھیٹ تربیت یافتہ نہ ہوتے تو اس ممبر شپ اور صدارت سے اپنے اوپر نہ سہی اولاد پر خوشحالی کے دروازے کھول دیتے۔کچھ ماہ قبل انھیں کینسر ہوگیا تھا ۔ خدمت کے لئے ہر وقت کوئی دو بیٹے ضرور موجود ہوتے لیکن چاچا کو یاد ستاتی تھی رفقاے جماعت کی ۔ وہ رفقاے جماعت کے اس طرح نہ آنے کو محسوس کر رہے تھے جیسے وہ ان کی آمد چاہتے تھے۔ اس کا سبب کچھ تو رفقا کی حقیقی مجبوریاں اور مصروفیات ہیں اور کچھ شاید جذبہ کی کمی ۔ راقم سمیت ہمارا مجموعی ماحول اس ضمن میں اصلاح طلب ہے۔چنوچاچا کی زندگی ان کے لواحقین کے لئے مثالی رہی۔ تمام بچے ان سے شدید محبت کرتے تھے۔ آپ کے دو فرزندان برادر خالد اور برادر حامد کو جامعتہ الھدی مالیگاوں سے تعلیم دلوائی ۔ وہ تحریکی فکر کے حامل ہیں ۔ ایک پوتی جی آئی او کی علاقائی ناظمہ ہے ۔دوسری پوتی شہر کی ناظمہ ہے۔ خاندان کے کئ بچےچلڈرن سرکل میں بہت فعال ہیں ۔ ان شاءللہ یہ سب مرحوم ابراہیم صاحب کے لئے ثواب جاریہ بنیں گے۔چنو چاچا سے مجھے ذاتی طور انسیت بچپن سے رہی۔ ہم محلہ تھے۔ میرے والد مرحوم عبد الحق صاحب سے ان کی قربت اور بے تکلف تعلقات تھے۔ ان دو تین ماہ میں جب جب محمد ابراہیم صاحب کی عیادت کے لئے جانا ہوا ابا بھی بے اختیار یاد آے۔ دونوں میں دفتر جماعت کی خدمت کا کم وبیش ایک جیسا جذبہ تھا۔ اللہ تعالی ان بزرگوں کی مغفرت فرماے اپنے دامن رحمت میں سمیٹ لے جنت کے باغات میں جگہ عطا کرے۔ مرحوم کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading