کولکاتہ،16جون.مغربی بنگال میں این آر ایس اسپتال میں ایک ڈاکٹر کی پٹائی کے بعد مخالفت کی صورت میں ہڑتال پر گئے جونئر ڈاکٹر وں کی ہڑتال کے چھٹے دن مریضوں کی حالت خراب ہے اور وزیراعلی ممتا بینرجی کے بار بار اپیل کرنے کے بعد بھی ڈاکٹرکام پر لوٹنےکےلئے تیار نہیں ہیں۔ریاست میں سبھی سرکاری اسپتالوں میں اوپی ڈی،ریگولر او ٹی اور دیگر خدمات ٹھپ ہیں لیکن ایمرجنسی خدمات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ان ڈاکٹروں کے غیر انسانی ہونے کا ایک پہلو یہ سبھی سامنے آیا ہے کہ مدنا پور میں ہڑتال کی وجہ سے مناسب علاج نہ مل پانے کی وجہ سے ایک نوزائدہ بچے کی موت ہوگئی ہے۔اس کے والدین نے بچے کی لاش لے کر ان ڈاکٹروں کے سامنے مظاہرہ کیا لیکن شاید اس کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ دارالحکومت کے ایمس اور صفدر جنگ اور دیگر اسپتالوں کے ڈاکٹر ہڑتال پرگئے ان ڈاکٹروں کے تئیں متحد نظر آرہے ہیں۔ریاست کی وزیراعلی ممتا بینرجی نے بار بار جونیئر ڈٓاکٹرون سے کام پر لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے زیادہ تر مطالبات مان لئے گئے ہیں۔محترمہ بینرجی نے ہفتے کو کہا تھا کہ ان کی حکومت ہڑتال پر گئے ڈاکٹروں پر اسما نہیں لگائے گی اور ان کے زیادہ تر مطالبات مان لئے گئے ہیں،اس لئے انہیں کام پر لوٹاآنا چاہئے۔
محترمہ بینرجی نے یہاں نبنا میں چیف سکریٹری ملے ڈے کی موجودگی میں نامہ نگاروں سے کہا،’’میں ریاست میں ہڑتال پر گئے ڈاکٹروں پر اسما نہیں لگانا چاہتی اور جونیئر ڈاکٹروں سے کام پر لوٹنے کی اپیل ہے کیونکہ ان کے زیادہ تر مطالبات مان لئےگئے ہیں۔‘‘