انہوں نے کہاکہ جدید فقہی مسائل میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس میں فقہ اکیڈمی نے ماہرین علمائے اور مفتیان کرام کو ساتھ لیکر اس کو حل نہ کیا ہو اور اس پر واضح رائے ظاہر نہ کی ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ ملک و بیرون فقہ اکیڈمی کے فیصلے کو عدالت نے تسلیم کیاہے اور فقہ اکیڈمی کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ سب لوگ جہاد میں نہ جائیں بلکہ ایسا گروپ بھی ہو جو تفقہ فی الدین بارے میں غور و فکر کرے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ تفقہ کا مطلب صرف نماز روز وغیرہ نہیں ہے بلکہ وہ عائلی مسائل ہیں جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی آجاتی ہے اور مسئلے کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ اس پر ادراک کرکے آنے والے جدید مسائل کا حل پیش کرے۔
انہوں نے فقہ اکیڈمی کے کام کے بارے بات کرتے ہوئے کہاکہ اکیڈمی ملک و بیرون ملک کے ماہرین علماء کرام کو جمع کرکے اور تدبرو تفکر کرکے اس کا حل نکالتی ہے۔ انہوں نے خواتین کے تعلق سے اکیڈمی کے کاموں کے بارے بتاتے ہوئے کہاکہ خواتین کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ان کے مختلف امور کو موضوع بحث بنایا تاکہ خواتین پر ہونے والے مظالم کا سدباب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے اشتراط فی النکاح ہے جس میں خواتین کئی طرح کے اختیارات دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عام طور پر خواتین کی ملازمت پسند نہیں کیا جاتا بعض دفعہ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ خواتین کو ملازمت کرنا ضروری ہوتا ہے، اکیڈمی اس موضوع پر سیمنار کرکے اس سلسلے میں رہنمائی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ اکیڈمی نے مسلم غیر مسلم تعلقات پر شریعت کی رائے کو واضح کیا ہے تاکہ ہندوستان کے تناظر میں مسلمانوں کی رہنمائی ہوسکے۔ اسی کے ساتھ اکیڈمی نے بینک کاری اور اسلامی بینکنگ کے بارے میں اسلامی ممالک سے بہتر کام کیا ہے۔ بینکنگ کے بارے میں مکمل رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اکیڈمی کی خوبی ہے کہ فقہ اکیڈمی میں تمام مسلک کے علماء شامل ہیں جن میں اہل حدیث، شوافع، بریلوی اور دیوبندی علماء شامل ہیں۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بتایا کہ 134 مرکزی موضوع سمیت 810مسائل پر فیصلے کئے ہیں اور 60سے زائد مجلات شائع کئے ہیں۔ اس کے علاوہ اکیڈمی نے عالم اسلام کی اہم کتابوں کا اردو سمیت مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کیا ہے اور اسی سلسلے میں خواتین کے حقوق اور احکام سے متعلق شیخ عبدالکریم زیدان کی ’المفصل فی احکام المراۃ‘ جو گیارہ جلدوں میں ہے، آٹھ جلدوں کا ترجمہ ہوچکا ہے اور 2021کے اخیرتک باقی جلدوں کا ترجمہ مکمل ہوجائے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ اکیڈمی نے تمام جدید فقہی مسائل کا حل پیش کیا ہے۔
قبل ازیں شعبہ علمی امور کے انچارج مولانا صفدر زبیر ندوی نے فقہ اکیڈمی کی خدمات اور ان پر ہونے والے کام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ فقہ اکیڈمی اور اس سے وابستہ شخصیات پر متعدد پی ایچ ڈی ہورہی ہے اور اکیڈمی کے فیصلے کودنیا کی دیگر متعدد اکیڈمیوں نے اپنے یہاں کے فیصلے سے موازنہ کیا ہے اور اسے بہتر پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد یونیورسٹی میں اکیڈمی پر مقالے لکھے جارہے ہیں اور اسی کے ساتھ عالم اسلام سے وابستہ حضرات نے فقہ اکیڈمی انڈیا کو بہترین اکیڈمیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رکھا ہے جب کہ پہلے نمبر اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ ہے۔انہوں نے کہاکہ اسی کے ساتھ اکیڈمی کے 28فقہی سیمنار، 41فکری سیمنار،31ورکشاپ، درجنوں توسیعی خطبات اور ڈھائی سو سے زائد کتائیں شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ اکیڈمی کے مفتی امتیاز احمد قاسمی نظامت کی جب کہ مفتی نادر احمد قاسمی نے شکریہ ادا کیا۔