لوک سبھا کے بعد اب راجیہ سبھا سے بھی تین طلاق بل منظور ہو گیا ہے۔ بل کے حق میں 99 ووٹ جبکہ مخالفت میں 84 ووٹ ڈالے گئے۔ اب اس بل کو منظوری کے لئے صدر کے ہاں بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ بل قانون کا روپ اختیار کر لیگا۔
بل کی مخالفت کر رہیں کئی پارٹیاں ووٹنگ کے وقت ایوان سے واک آؤٹ کر گئی تھیں۔ اس بل میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے، شوہر کو 3 سال کی جیل کی سزا اور جرمانیہ کا التزام شامل ہے۔
Rajya Sabha passes Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill, 2019. #TripleTalaqBill pic.twitter.com/gVLh2wTzXK
— ANI (@ANI) July 30, 2019
قبل ازیں 26 جولائی کو موجودہ اجلاس کے دوران ہی یہ بل لوک سبھا سے منظور ہو گیا تھا۔ مودی حکومت پہلی مرتبہ جب اقتدار میں آئی تھی اسی وقت سے اس بل کو منظور کرانے کی فراق میں تھی۔ گزشتہ لوک سبھا کے دوران بھی اس بل کو لوک سبھا سے تو منظور کرا لیا گیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں یہ لٹک گیا تھا۔ اس کے بعد مودی حکومت اس کے لئے آرڈیننس لے کر آئی تھی۔
لوک سبھا میں اسے اس مرتبہ کچھ تبدیلیوں کے بعد پیش کیا گیا تھا اور لوک سبھا کے بعد اب یہ راجیہ سے بھی منظور ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس بل پر مسلم طبقہ اور علما دروز اول سے ہی نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق خواہ ایک برا عمل ہے اور اسے تلاق بدعت کہتے ہیں لیکن مسلم طبقہ کے لئے اگر حکومت کوئی بل لے کر آ رہی ہے تو اس طبقہ سے صلاح مشورہ کیا جانا چاہئے۔ نیز یہ کہ اس طرح جبراً کسی کمیونی کے لئے قانون بنا دینا سراسر ناانصافی ہے اور شریعت میں مداخلت مترادف ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-