تین طلاق بل لوک سبھا سے منظور، کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کا واک آؤٹ

بل پر بحث کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خواتین کے نام پر لایا جا رہا یہ بل سماج کو جوڑنے والا نہیں بلکہ توڑنے والا بل ہے، انہوں نے کہا کہ بل اسلام کے خلاف تو ہے ہی مساوی حقوق کے بھی خلاف ہے۔

نئی دہلی: تین طلاق پر مبنی بل (مسلم خاتون تحفظ ازدواجی حقوق قانون 2018) آج لوک سبھا سے منظور کر لیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے تین طلاق بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ کچھ جماعتوں نے بل میں کچھ ترامیم کی بھی تجاویز پیش کیں لیکن اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سمیت دیگر جماعتوں کی طرف سے بل میں ترمیم کے لئے لائی گئی تجاویز کو نامنظور کر دیا گیا۔

تین طلاق پر مبنی بل کے حوالہ سے ایوان میں موجود 256 ارکان پارلیمنٹ میں سے 245 نے اس کے حق میں ووٹنگ کی جبکہ 11 ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

قبل ازیں تین طلاق بل پر بحث کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خواتین کے نام پر لایا جا رہا یہ بل سماج کو جوڑنے والا نہیں بلکہ سماج کو توڑنے والا بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف تو ہے ہی مساوی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ بل مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور آئینی اقدار کے خلاف کوئی حکومت قانون سازی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کے ہم بھی حامی ہیں لیکن کسی بھی قانون میں طلاق دینے پر شوہر کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading