تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ

امریکی فوج نے ایران میں نئے حملے کیے ہیں، جن میں ساحلی شہر بندر عباس کے ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فورسز نے چار ایرانی حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے ’جو آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بن رہے تھے۔‘

سینٹکام کے بیان میں گیا گیا کہ امریکی فوج نے بندر عباس میں ایران کے عسکری مقام کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کیا جانے والا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرق میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مذاکرات جاری ہیں۔

سینٹکام کے مطابق یہ نئے حملے اس نے اپنے دفاع کی خاطر ایک ’محتاط‘ در عمل کے تحت کیے۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

سینٹکام نے اس حملے کو بھی اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔

ایران نے پیر کے روز ہوئے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا اور عزم ظاہر کیا تھا کہ ایرانی حکومت ’ہر حملے کا جواب دے گی۔‘

ایران کے پاسداران انقلاب نے منگل کو یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور ایک لڑاکا طیارے اور ایک اور ڈرون پر فائرنگ کی۔ تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ واقعہ پیش کب آیا۔

پاسداران انقلاب کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف ایران کو جوابی کارروائی کا ’جائز اور قطعی‘ حق حاصل ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading