امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا: امریکی حکام

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق، ٹرمپ کو اس مجوزہ معاہدے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، مگر انھوں نے فوری منظوری نہیں دی اور مزید چند دن غور کرنے کا کہا ہے۔ امریکی ذرائع کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے پہلے سے زیادہ قریب آ چکے ہیں، اگرچہ حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھایا جائے گا اور اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے جنگ بندی معاہدے کی ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ایرانی قیادت نے منظوری نہیں دی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ایران نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تصدیق نہیں کی۔

بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی، جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے پاس ہوگا۔

دنیا کی تقریباً ایک تہائی مائع قدرتی گیس اور تیل اس اہم بحری راستے سے گزرتے ہیں، اور اس کی بندش نے عالمی توانائی تجارت کو متاثر کیا ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔

گذشتہ ہفتے دونوں فریقوں نے معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ جلد کوئی اعلان متوقع ہے۔.8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صدر ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مثال کے طور پر، چند روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی ٹھوس نتیجے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔

تقریباً ہر موقع پر، اور حالیہ دنوں میں بھی، ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ’دوسرا راستہ‘ یعنی فوجی کارروائی اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، لیکن اتحادی ممالک کی درخواست پر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

بدھ کو کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران کی پیشکش ابھی قابلِ قبول سطح تک نہیں پہنچی اور مزید کام باقی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ اگلے 24 گھنٹوں میں کیا پیش رفت ہوئی یا صدر ٹرمپ اس مجوزہ معاہدے کی منظوری کب، یا آیا دیں گے بھی یا نہیں۔

تاہم اگر جنگ بندی میں توسیع ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک کو پیچیدہ معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملے گا۔

ٹرمپ نے پہلے یہ تجویز دی تھی کہ امریکہ اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یا ایران کے ساتھ مل کر اسے کسی تیسرے مقام پر کم درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق، ٹرمپ کو اس مجوزہ معاہدے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، مگر انھوں نے فوری منظوری نہیں دی اور مزید چند دن غور کرنے کا کہا ہے۔

امریکی ذرائع کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے پہلے سے زیادہ قریب آ چکے ہیں، اگرچہ حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی، جبکہ ایران کو 30 دن کے اندر اس راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔

اس کے بدلے میں امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے اور ایران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی دے سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں اس معاہدے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ’صدر سے پہلے کوئی حتمی بات کہنا درست نہیں، یہ فیصلہ انہی نے کرنا ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading