تہران میں ایک جانب حکومت کے حامی جشن منا رہے ہیں وہیں کچھ کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟

🟥 تہران کی سڑکوں پر حکومت کے حامیوں کا مظاہرہ 🟥

📍 مقام: تہران، ایران

🇮🇷 ایرانی دارالحکومت کی فضا آج حب الوطنی سے لبریز نظر آئی۔ شہری موٹر سائیکلوں 🏍️ اور گاڑیوں 🚗 پر سوار ہو کر سڑکوں پر نکلے، ہاتھوں میں ایران کا جھنڈا تھامے حکومتِ وقت سے وفاداری کا اعلان کر رہے تھے۔

📢 سپیکروں سے انقلابی ترانے چلائے جا رہے تھے اور “طاقت ہے تو دکھاؤ!” جیسے نعرے فضا میں گونج رہے تھے۔


🌪️ منظر کا دوسرا رخ: تشویش اور خدشات

😟 چند شہری موجودہ حالات سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

🗨️ "یہ جنگ بندی خامنہ ای کو دھوکہ دینے کے لیے ہے… اصل منصوبہ کچھ اور ہے!”

— بی بی سی فارسی سے گفتگو کرنے والا شہری

🎯 ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی آیت اللہ خامنہ ای کو عوام کے سامنے مجبوراً لانے کی ایک چال ہے۔


🕊️ سفارتی منظرنامہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کروانے کا دعویٰ کیا۔
  • ایران نے حملوں کو روکنے کا اعلان کیا، مگر اسرائیل نے نیا میزائل حملہ رپورٹ کیا۔
  • ایرانی وزیر خارجہ: "ہم نے آخری لمحے تک دشمن کا دفاع کیا۔”

📉 اندرونی بحران اور عوامی ردعمل

📉 معیشت، کرنسی کی گراوٹ، اور بیرونی حملوں نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ عوامی ریلیوں میں شرکت کم ہوتی جا رہی ہے، اور کئی افراد تقریب کے اصل مقصد سے لاعلم ہیں۔

🔍 سڑکوں پر جشن، ذہنوں میں سوالات…

ہمیں ایرانی دارالحکومت تہران کے اندر سے تصاویر موصول ہوئی ہیں کہ جن میں ایرانی حکومت کے کچھ حامیوں کو ایران کا جھنڈا تھامے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر سوار دکھایا گیا ہے۔فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ سڑکوں پر موجود حکومت کے حامی افراد سپیکروں سے حکومت کی طاقت کی تعریف کرنے والی اونچی آواز میں نغمے چلا رہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب ایران میں ہی چند لوگ اس بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ایک شخص نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ان کے خیال میں جنگ بندی کا اعلان صرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دھوکہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ ’خامنہ ای کو سامنے آنے پر مجبور کیا جائے اور اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔‘اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کبھی بھی بغیر کسی وجہ کے کوئی فیصلہ نہیں کرتے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading