تھانے کانگریس کے کارکنان اور عہدیداران کا استعفیٰ دینے کا سلسلہ شروع،  تھانے-اسمبلی الیکشن میں امیدواری نہ ملنے پر شدید ناراضگی

تھانے(آفتاب شیخ) مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں کانگریس کے تھانے کارکنان اور عہدیداران نے پارٹی ہائی کمان کے فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے استعفے پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیے ہیں۔ تھانے کی چار اسمبلی نشستوں میں سے ایک بھی کانگریس کو نہ ملنے پر عہدیداران نے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے اور تھانے شہر ضلع کے صدر ایڈوکیٹ وکرانت چوان کو اپنے استعفے بھیجے ہیں۔

کارکنان کا کہنا ہے کہ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، جبکہ تھانے میں کانگریس نے پچھلے کئی سالوں سے جوش و خروش اور محنت سے کام کیا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ "ہم نے ہر مشکل حالات میں پارٹی کے لیے انتھک محنت کی، لیکن جب کامیابی کا وقت آیا تو ہمیں نظرانداز کر دیا گیا۔” ان کا یہ بھی سوال ہے کہ "اتنی ساری ملاقاتیں اور میٹنگیں محض خانہ پوری تھیں؟ ہم نے تھانے میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لیے جانفشانی سے کام کیا، لیکن ہماری محنت کا صلہ نہیں ملا۔” عہدیداروں نے کہا کہ تھانے کی تین اور آدھی نشستوں پر مبینہ طور پر مالی لین دین کی وجہ سے کانگریس کو موقع نہیں ملا، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کارکنان نے سوال اٹھائے کہ اتحاد کے جن امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے، کیا وہ ہم سے زیادہ اہل ہیں؟ "ان میں سے کچھ تو بالکل نئے چہرے ہیں، پھر بھی ان پر اعتماد کیا گیا۔ اگر ہم پر بھی ایسا ہی اعتماد کیا جاتا تو ہم پورے جوش سے کام کرتے اور ہماری عزت اور وقار بھی برقرار رہتا۔”
سریش تلشی رام پاٹل کھیڑے، پردیش او بی سی کانگریس کے عہدیدار نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ "ہماری مایوسی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ہم اب پارٹی دفتر میں کسی بھی انتخابی معائنہ کار کو نہیں چاہتے۔ اگر کسی کو بھیجا گیا تو اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے، اور اس کی ذمہ داری مکمل طور پر مہاراشٹر پردیش کانگریس قیادت پر ہوگی۔” سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ استعفیٰ کا سلسلہ کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، کیونکہ تھانے میں کانگریس کا پرانا ووٹ بینک موجود ہے۔ کارکنان کی یہ ناراضگی انتخابات کے نتائج پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
تھانے کانگریس کے عہدیداران اور کارکنان نے اپنے جذبات اور مایوسی کا اظہار کر دیا ہے اور اب آگے کیا قدم اٹھانا ہے، اس کا فیصلہ کانگریس قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کی محنت اور قربانیوں کو نظرانداز کرنا ٹھیک نہیں اور اس سے پارٹی کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading