تِر ی یاد باقی تِرا غم سلامت (پروفیسر یونس فہمی کی اچانک رحلت پر)

از: محمدتقی‘ناندیڑ‘9325610858

میں نے مراٹھواڑہ یونیورسٹی اورنگ آباد سے سن 1980ءمیں ا ردو مضمون میں M.A پھر 1982 میں مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن اورنگ آباد سے B.Ed. کرنے کے فوراً بعد ملازمت کی تلاش شروع کردی تھی۔ ملازمت کی شدید ضرورت تھی ۔ مجھے اطلاع ملی تھی کہ ناندیڑ کے پرتیبھا نکیتن کالج کے شعبہ اردو میں پارٹ ٹائم لکچررکی ایک جائیداد مخلوعہ ہے ۔ اُس وقت صدر شعبہ اردو پروفیسر یونس فہمی ہوا کرتے تھے ۔ میں نے اس جائیداد کےلئے درخواست کالج بھجوادی ۔مجھے پتہ تھا کہ میرے حقیقی چچا محمد یعقوب(باسمی) اورپروفیسر یونس فہمی اسکول میں ہم جماعت اوردوست تھے ۔ دونوں میں بہت گاڑھی چھنتی تھی ۔میں نے اپنے چچاسے کہا کہ پرتیبھا نکیتن کالج میں اردو لکچرر کی ایک جائیداد خالی ہے ۔ میں نے اس کےلئے درخواست دی ہے ۔آ پ کے دوست پروفیسر یونس فہمی صدر شعبہ اردو ہیں اگر وہ دلچسپی لیں تو مجھے یہ ملازمت مل سکتی ہے ۔یہ بھی بتادوں کہ میرے حقیقی ماموں خُسر محمد غلام صمدانی ساجد بھی یونس فہمی کے جگری دوست تھے ۔ غلام صمدانی کو موسیقی اورشاعری کابڑا شوق تھا ۔وہ اکثر محفل سماع میں صوفیانہ کلام ترنم و موسیقی کے ساتھ سنایا کرتے تھے ۔ غلام صمدانی ساجد کے بار ے میں مختصراً بتاتاچلوں کہ وہ قطب الارشاد حضرت محمد عبدالواحد صاحب کے منجلے فرزند تھے ۔ آپ حضرت محمد عبدالواحد صاحب نے 63سال کی عمر میں 11رمضان المبارک1953 عیسوی کو اس دارفانی سے پردہ کرلیا ۔ آپ کا مزار مبارک ناندیڑ میں حضرت مکھاشاہ اولیاءؒ درگاہ کے احاطہ میں ہے ۔ ان کے مریدین اورمعتقدین ہر سال 11 رمضان المبارک کو اُن کاعرس بڑے جوش وعقیدت سے مناتے ہیں ۔ اتفاق ہی کہئے میرے چچا محمدیعقوب ‘پروفیسر یونس فہمی اور غلام صمدانی ساجد تینوں آپس میں بڑے گہرے دوست تھے ۔ افسوس کہ یہ تینوں دوست آج دنیائے فانی میں موجود نہیں ہیں۔ اللہ انھیں غریق رحمت کرے ۔

سمٹ کے رہے گئے ماضی کی داستانوں تک
حدودِ ذات سے آگے نکلنے والے لوگ

بہر حال قصہ مختصر پرتیبھا نکیتن میں میرا انٹرو یو ہوا ۔ ماہرین کے پینل میں پروفیسر یونس فہمی بھی تھے ۔ پارٹ ٹائم اردو لکچرر کی پوسٹ پر میرا تقرر ہوچکا تھا ۔ مجھے اپائنمنٹ لیٹر بھی مل گیا ۔ حق بات کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں ہے میرا تقرر پروفیسر یونس فہمی کی کوششوں سے ہوا تھا ۔ یہ اُن کا مجھ پر بڑااحسان تھا جسے میں آج بھی بھول نہیں پایا ہوں ‘ لیکن جس دن اپائنمنٹ کالیٹر ملا تھا اسی دن مجھے رتنا گیری ضلع کے موضع لاٹون کے نیشنل اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس حسن میاں ولیلے کا ٹیلی گرام ملا ۔میں نے اس اسکول میں مدرس کی پوسٹ کےلئے درخواست دے رکھی تھی ۔ ٹیلی گرام میں لکھا تھا ”آپ کاتقرر ہوچکا ہے فوری لاٹون پہونچئے “ ۔ مجھے چونکہ فُل ٹائم جاب کی ضرورت تھی اس لئے میں بغیر تاخیرکئے لاٹون کےلئے چل پڑا ۔بعد میں معلوم ہوا کہ پرتبیھا نکیتن کالج کی اردو لکچرر کی جائیداد پر کئی مہینوں تک کسی کاتقرر نہیں ہوا ۔ پھر یہ اطلاع ملی کہ ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی کا تقرر ہوچکا ہے ۔ اللہ رب العزت اس کائنات کامالک اور تمام مخلوق کاپالن ہار ہے ۔ وہ جس شخص کارزق جہاں لکھتا ہے اسے اُس جگہ جانا ہی پڑتا ہے ۔لاٹون میں میرا آب و دانہ ختم ہوا تو میں پربھنی لوٹ آیا ۔ پھر پربھنی سے 1994 میں واپس اپنے وطن ناندیڑ پہونچا ۔اورنگ آباد ‘ لاٹون (رتناگیری)‘پربھنی پھر ناندیڑ۔

میرا وجود کوئی برگِ خشک تھا گویا

اِدھر اُدھر لئے پھرتی رہی ہوا مجھ کو

اب میں نے درس و تدریس کے پیشہ کوترک کرکے پیشئہ صحافت کو اپنالیاتھا ۔ کیونکہ صحافت میرا شوق تھا ۔ ناندیڑ میں میرے حلقہ احباب میں ادیب ‘شاعر ‘ صحافی ‘ سیاست داں ‘ غرض کہ بھانت بھانت کے افراد شامل تھے ۔ ان احباب میں ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی ‘قاضی اطہر الدین ‘ خورشید احمد ‘ مرحوم انیس قمر ‘ عبدالقادر ‘سید قدیر اور ناچیز شامل تھے ۔ احباب روزانہ شام میں ”گلمرگ ہوٹل‘ یا پھرپروفیسر جلیل کے کوچنگ روم میں جمع ہوتے ۔احباب کی محفل میں شہر کی بزرگ ادبی و علمی شخصیت پروفیسر یونس فہمی بھی شریک ہوا کرتے ۔

ادب ‘سیاست‘صحافت اور حالات حاضرہ پر گفتگو ہوتی‘تبادلہ خیال ہوتا ۔ پروفیسر یونس فہمی ہم سب میں عمر میں بڑے تھے اس لئے سبھی اُن کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ فہمی صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اگر انھیں کوئی بات پسند نہ آتی یا وہ غلط ہوتی توبر ملا دو ٹوک انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ۔ ان کی رائے اور اعتراض پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتا سوائے ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی ۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا کہ فہمی صاحب اور ڈاکٹر فہیم صدیقی میں نوک جھونک بھی ہوجایا کرتی ۔ پھر قاضی اطہر مداخلت کرکے معاملے کو سلجھادیا کرتے ۔ ان تمام احباب میں قاضی اطہر الدین کبھی کسی گفتگو یا بات کی نہ تو مخالفت کرتے تھے اور نہ ہی کھُل کر تائید ۔احباب کی مجلس میں اُن کی کیفیت یوں ہوتی جسے وہ کچھ کہہ رہے ہوں۔

نہیں منت کش تاب شنیدن داستان میری

خموشی گفتگو ہے ‘بے زبانی ہے زباں میری

زیر نظر مضمون میں میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ تمام احباب فہمی صاحب کا بڑا احترام اور ادب کرتے تھے ۔میں تو احباب میں سب سے کم عمر تھا اسلئے فہمی صاحب کی موجودگی میں اکثرخاموش ہی رہتا انکی عالمانہ گفتگو سے محظوظ ہوتا اور اکتساب حاصل کرتا ۔

جب فہمی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ”پسِ دیوار“2016ءمیں چھپ کر آیاتو دوستوں نے مشورہ دیا کہ اس کی شایان شان تقریب رسم اجراءرکھی جائے ۔ یونس فہمی کی شخصیت اورفن پرمقالے لکھوائے جائیں۔چنانچہ حیدر آباد سے فہمی صاحب کے دوستوں کومدعو کیاگیا ۔ ”ورق ِتازہ“ میں فہمی صاحب کی شخصیت اورفن پر خوبصورت گوشہ شائع ہوا جسے مقامی و بیرونی ادیبوں ‘شاعروں اور اردو کے باذوق قارئین نے کافی پسند کیا ۔میں نے جب جب بھی ”ورق تازہ“ کے کسی خاص شمارے یا ادبی گوشہ کےلئے مضمون یا کلام لکھنے کی فرمائش کی فہمی صاحب نے کبھی انکار نہیں کیا ۔ چنانچہ اُن کانعتیہ ‘غزلیہ ‘منقبتی کلام کے علاوہ کئی نثری مضامین ”ورق تازہ“ میں شائع ہوئے ہیں۔اس طرح انھیں ورق ِتازہ فیملی کے ایک مخلص ممبر ہونے کی حیثیت حاصل تھی ۔یونس فہمی ”ورق تازہ“ کے تقریبا سبھی مشاعروں میں مہمان شاعر کی حیثیت سے اور جلسوں میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کئے جاتے رہے ہیں ۔ وہ سلیس ‘سادہ اور بامحاورہ زبان میں نثر لکھتے تھے جو قارئین کے دلوں پر اثر کر جاتی تھی ۔ شعربھی بڑے خوبصورت اور عمدہ کہے ہیں ۔ ”پس ِ دیوار“ کی شاعری کودکن کی نمائندہ شاعری کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔

کورونا وباءکے پھیلتے ہی جب ضلع انتظامیہ نے 24مارچ2020 ء سے ناندیڑمیں غیر معینہ مدت کا لاک ڈاون اور کرفیو نافذ کردیاتو سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہوگئے ۔ پتہ نہیں یہ کن ناکردہ گناہوں کی سزا مل رہی تھی ۔ فہمی صاحب سے دو ڈھائی مہینوں تک رابطہ قائم نہ ہوسکا ۔ ایک دن اچانک ان کافون آیا ۔ میری خیریت پوچھی اپنی خیریت سے آگاہ کیا ۔اورکہا کہ میرے پرانے مکان کی تعمیر چل رہی ہے اسلئے میں سہیوگ نگر(ناندیڑ) میں ایک کرایہ کے مکان میں شفٹ ہوچکا ہوں ۔ بچوں نے مجھ پر سخت پہرہ لگادیا ہے یہ بھی ناکردہ گناہوں کی سزا ہے جو میں بھگت رہا ہوں ۔بچوں نے مجھ سے کہاکہ میں قطعی گھر کے باہر نہ نکلوں ۔میری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ میں بچپن سے فہمی صاحب کے پرانے آبائی مکان سے واقف ہوں۔ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کی زندگی میں پرانا مکان توڑ کر وہ ایک اچھا خوبصورت مکان تعمیر کریں ۔ اس خواہش کااظہار انھوں نے اپنے دوستوں سے بھی کیاتھا ۔ لیکن بقول شہریار۔

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہوسکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کم ہے

گھر کی تعمیر کے دوران گھر کے سربراہ کااچانک اس دار فانی سے کوچ کرنے کایہ دوسرا سانحہ میرے سامنے گزرا ہے ۔ پہلا سانحہ خود میرے ساتھ پیش آیاتھا ۔ 17 فروری 1992 میں میرے والد محترم محمدشریف صاحب جو شہر ناندیڑ کے ایک مشہور تاجر اور ذی اثر شخص تھے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور شہرکے ایک خانگی اسپتال میں زیر علاج تھے ۔بیمار ہونے سے چند دن قبل ہی انھوں نے اپنے پرانے مکان کوتوڑکر اس کی تعمیر شروع کی تھی ۔تعمیر کے دوران ہی والد صاحب پر دوسرا دل کاشدید دورہ پڑاا اور وہ ہمیشہ کےلئے ہم سب کو چھوڑ کراپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ہمار ا مکان تقریبا تعمیر ہوچکا تھا ۔صرف رنگ و روغن اور آہک پاشی کا کام باقی تھاجسے چھوٹے بھائی نے پورا کیا ۔ پور اخاندان گہرے صدمے سے دوچارتھا ۔نئے مکان میں کوئی شفٹ ہونانہیں چاہتاتھا۔بہرحال کسی کے چلے جانے سے زندگی رُکتی نہیں ہے ۔ کاروبارِ زندگی چلتے رہتے ہیں۔چندہفتوں بعد صدمے اور رنج و غم کے بادل کچھ چھٹے تو ہم سب نے مکان میںشفٹ ہونے کافیصلہ کیا ۔ہم سب بھاری دل کے ساتھ مکان میں داخل ہوئے ۔میں نے مکان پرنظریں دوڑائیں‘مکان پر اُداسی چھائی ہوئی تھی ۔کوئی چیز اچھی نہیںں لگ رہی تھی ۔میرا منجلہ بیٹا اس وقت 6-5 سال کا رہا ہوگا۔ والدصاحب کا بڑا لاڈلاتھا ۔اس کا زیادہ وقت ان کے ساتھ ہی گزرتاتھا ۔ بچہ میری اُنگلی پکڑے ساتھ ہی کھڑاتھا ۔ اس نے میری اُنگلی چھڑائی اور ایک ایک کرکے مکان کے ہر کمرے میں جھانکنے لگا ۔جب تمام کمرے دیکھ ڈالے تو میرے قریب آیا۔
”بچے نے مجھ سے بڑی حیرت سے پوچھا ” پّپا! دادا جان کسی بھی کمرے میں نہیں ہیں ‘کہاں گئے ہیں؟“
میں نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ”وہ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں“ ۔
”وہ کب آئیں گے؟ “ بچے کاسوال میرے دل پر نیزے کی طرح لگا۔
میں نے اُسے سمجھایا ”دادا جان اب کبھی نہیں آئیں گے ۔“
”کیوں نہیں آئیں گے ؟“ میرے بچے نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔
”جو لوگ اللہ میاں کے پاس جاتے ہیں وہ کبھی نہیں آتے ہیں ۔“اور میں اپنا سر پکڑ نیچے بیٹھ گیا۔
گھر کی تعمیر کے دوران گھر کے سربراہ کے انتقال کر جانے کا دوسراسانحہ 29اگست 2020 کو پیش آیا ۔ پروفیسر یونس فہمی جن کے آگے میں نے زانوے ادب تہہ کیا ہے اس دن اپنے خاندان ‘ دوست و احباب اور رشتہ داروں کوچھوڑکرکے ہمیشہ کےلئے ملک ِ عدم روانہ ہوئے ۔انھیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا ۔دوسرے دن یعنی 30اگست 2020ءکو قبرستان سرائے حضرت فخر اللہ شاہ ؒ ناندیڑ میں عزیزو اقارب نے انھیں با دیدئہ نم سپرد لحد کیا ۔یوں یونس فہمی صاحب کی زندگی کی کتاب کا آخری ورق تمام ہوا!

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تُجھے

سب ٹھاٹ پڑا رہے جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

مورخہ 5 ستمبر 2020ئ
Email: waraquetazadaily@yahoo.co.in

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading