-
دابھولکر، پانسارے اور کلبرگی کے قاتل بھی بی جے پی کی امیدواروں ہوسکتے ہیں
-
وزیراعظم کے ملک سے معافی مانگے بغیر پاپ سے چھٹکارانہیں ملے گا
ممبئی: (ورق تازہ نیوز) مالیگاوں بم دھماکہ کی ملزمہ پرگیا سنگھ ٹھاکور کی امیدواری کی جس طرح بی جے پی کی جانب سے حمایت ہورہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر آج ناتھورام گوڈسے زندہ ہوتا تو بی جے پی اسے بھی اپنا امیدوار بنالیتی۔ بی جے پی پر یہ تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکور پر دہشت گردی کے سنگین الزامات ہیں اور وہ فی الوقت ضمانت پر ہے۔اس پر جو الزامات عائد ہیں، ان کے پیشِ نظر وہان سے بری نہیں ہوسکتی ہے۔ جس شخص پر دہشت گردی کے سنگین مقدمات جاری ہیں، بی جے پی نہایت بے شرمی کے ساتھ اس شخص کی حمایت کررہی ہے اور اس عورت کی ہمت اس قدر بڑھ گئی کہ یہ شہید ہیمنت کرکرے کو دہشت گرد قرار دینے لگ گئی۔
لیکن شہیدوں کی قربانیوں پر سیاسی روٹیاں سینکنے والی بے جے پی کی حرکت پر وزیراعظم مودی اور وزیراعلیٰ فڈنویس کو یہ بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ ملک کی عوام سے معافی مانگیں۔ پرگیہ سنگھ ٹھاکور نے جو بے تکے بیانات دیئے، ان کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جارہی تھی کہ بی جے پی کو اس کو پارٹی سے معطل کردے گی لیکن بی جے پی نے اس پر کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی دہشت گردانہ نظریات کی حمایت کرتی ہے۔ سچن ساونت نے کہا کہ یہ صرف ہیمنت کرکرے کی بہادری اور شہادت کی ہی توہین نہیں ہے بلکہ انہیں دیش دروہی کہہ کر پرگیا ٹھاکور وبی جے پی نے ملک کی بھی توہین کی ہے۔ ملک بھر سے اس پر شدید تنقید کے بعد پرگیہ ٹھاکور نے معافی مانگ لی جس پر بی جے پی اسے کلین چیٹ دینا چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ بی جے پی کے یہ لوگ یہ کہہ کر بھی اپنا سیاہ چہرہ چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے کہ وہ اس کی ذاتی رائے ہے۔ لیکن پرگیہ سنگھ ٹھاکور کو پارٹی سے معطل کرنے اور وزیراعظم مودی کے معافی مانگے بغیر اس پاپ سے بی جے پی کا چھٹکارہ نہیں ہوگا۔
ساونت نے کہا کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکور کو دی گئی امیدواری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی خفیہ حمایت بی جے پی کے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔ پرگیہ ٹھاکور کو عدالت میں فراہم کی گئی مدد، سناتن سنستھا پر کارروائی کے معاملے بہانے بازی بی جے پی کی وچاردھارا کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اگر آج ناتھو رام گوڈسے زندہ ہوتا تو بی جے پی اسے بھی اپنا امیدوار بنالیتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل میں بی جے پی ڈاکٹر نریندر دابھولکر، گوند پانسارے، گوری لنکیش اور کلبرگی کے قاتلوں کو بھی اپنا امیدوار بناسکتی ہے۔