حیدرآباد: ارباب حکومت کے فرقہ پرست ہونے یا پھر لاء اینڈ آرڈر پر حکومت کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے تب ہی اشرار کے حوصلے بلند ہوتے ہیں‘ وہ شرارتوں پر اتر آتے ہیں اور غیر قانونی حرکتیں کرتے ہوئے لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔
ریاست تلنگانہ جو اپنی تاسیس سے امن و امان کا گہورہ بنی ہوئی تھی اب ایسا لگتا ہے کہ تبدیلی حکومت کے ساتھ اشرار کو یہ لگنے لگا ہے کہ انہیں من مانی کرنے کا موقع مل چکا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ رام مندر کے افتتاح کی آڑ میں نکالی گئی ایک ریالی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے موضع کوسگی میں اشرار نے مسجد کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد پر چپلیں پھینکیں.
سپریم کورٹ سے بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ کے فیصلہ ہوجانے کے بعد ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر آج رام مندر کی افتتاحی تقریب کی مناسبت سے ریاست بھر میں ہندو برادری کی جانب سے جشن منایا گیا اور جگہ جگہ مختلف ریالیاں منصرم کی گئیں۔
ریاست کے مختلف مقامات پر رات دیر گئے تک ریالیاں نکالی گئیں اور نوجوان اشتعال انگیز نعرے لگاتے گئے۔ کوسگی (نارائن پیٹ) اور دولت آباد (سنگاریڈی) میں اشرار نے شر انگیزی کا مظاہرہ کیا۔ دولت آباد میں اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے اشرار نے ایک مسلم پھل فروش کی دکان کو آگ لگادی۔اشرار نے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کے نعرے لگائے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کی اور اشرار کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔